ملک پر مسلح دہشت گردی کے بعد معاشی دہشتگردی مسلط کر دی گئی: سراج الحق

    ملک پر مسلح دہشت گردی کے بعد معاشی دہشتگردی مسلط کر دی گئی: سراج الحق

  



لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں استحصالی نظام کی وجہ سے خواتین کو ان کے حقوق نہیں مل رہے۔ آئین اور شریعت میں خواتین کو جو حقوق حاصل ہیں، انہیں سلب کرلیا گیاہے، مغربی تہذیب کیخلاف شعور کا سفر طالبات کا اصل ہدف ہونا چاہیے، موجودہ دور حکومت میں تو سینکڑوں بچوں اور بچیوں کو درندگی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ حکومت نے اپنے دعوؤں کے برعکس بچوں اور بچیوں کی تعلیم کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا، 2 کروڑ 35 لاکھ بچے سکولوں سے باہر اور تعلیم سے محروم ہیں، یہ ایک المیہ ہے۔گزشتہ روزیہاں منصورہ میں اسلامی جمعیت طالبات کے سالانہ اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے تعلیمی نظام کو ٹھیکے پر دے دیاہے۔ سرکاری تعلیمی ادارے فنڈز کی کمی کی وجہ سے سکڑ رہے ہیں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی بھاری فیسوں کی وجہ سے غریب اپنے بچوں کو پڑھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ اسلامی نظام تعلیم اور یکساں نصاب کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اردو قومی زبان ہے جس کے نفاذ اور ذریعہ تعلیم بنانے کے بارے میں سپریم کورٹ کا حکم ہے لیکن اس حکم کی مسلسل خلاف ورزی اور حکم عدولی ہورہی ہے۔دریں اثنا جمعیت اتحاد العلماء پاکستان کے وفد نے شیخ القرآن و الحدیث مولاناعبدالمالک کی قیادت میں منصورہ میں سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کی۔اس موقع پر سراج الحق نے کہاکہ منبر و محراب سے کرپشن، مہنگائی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکمران پارٹیوں کی طرح اسٹیٹس کو کی محافظ ہے۔ مختلف الخیال لوگ ذاتی مفادات کے لیے جمع ہو گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر نیا دن معاشی ابتری و مہنگائی کے عذاب اور بے روزگاری کی چکی میں پستے عوام کے لیے نئی مشکلات لے کر آتاہے۔ مسلح دہشتگردی کے بعد اب ملک پر معاشی دہشتگردی مسلط کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک پہلے بالواسطہ ہمارے فیصلوں میں مداخلت کرتے تھے اب بلاواسطہ اور براہ راست مداخلت کر رہے ہیں۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر