کٹا بچاؤں پروگرام، جانوروں کی فربہ کرنے سے گوشت کی پیداوار بڑھے گی

کٹا بچاؤں پروگرام، جانوروں کی فربہ کرنے سے گوشت کی پیداوار بڑھے گی

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)محکمہ زراعت و لائیو سٹاک کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صوبہ بھر میں محکمہ زراعت و لائیو سٹاک میں وزیر اعظم کے ہنگامی اصلاحاتی پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا میں کٹا بچاؤ پروگرام اور جانوروں کو فربہ کرنے کے پروگرام کے تحت آئندہ چار سالوں میں صوبے میں ایک لاکھ بیس ہزار اور رواں مالی سال کے دوران تیس ہزار نوزائیدہ کٹوں کو کم عمری میں ذبح ہونے سے بچایا جائے گا جس کا مقصد کم عمر بھینس کے کٹوں کو ذبح ہونے سے بچانا، گوشت کی پیداوار کو بڑھانا، صارفین کو بہتر معیار اور صحت بخش گوشت فراہم کرنا، بین الاقوامی حلال گوشت کی ماریکیٹ تک رسائی حاصل کرنا، غربت میں کمی، صوبے میں مویشی پال کسانوں کی معیشت کو بہتر بنانا، غذا کی مقدار میں کمی لانا اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہو گا۔اس منصوبے کے تحت پراجیکٹ کے ساتھ رجسٹر کٹوں کیلئے دودھ کا متبادل (Milk Replacer) کٹوں کو مفت حفاظتی ٹیکہ جات، ادویات کی فراہمی، مویشی پال زمینداروں کو جدید سائنسی بنیادوں پر کٹوں کی بہتر دیکھ بھال اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کیلئے تربیت دینا، رجسٹر شدہ کٹوں کو چھ ماہ تک چھ ہزار پانچ سو روپے فی کٹا بطور خوراک الاؤنس بھی دیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ صوبہ بھر بشمول ضم شدہ اضلاع میں تقریباً پانچ ہزار درخواست فارم مویشی پال زمینداروں میں تقسیم کئے جا چکے ہیں اور مزید فارم بھی تقسیم کئے جائیں گے۔ترجمان نے بتایا کہ اب تک تقریباً تین ہزار سے زائد کٹوں کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے اور دوسرے منصوبے میں بیل /بھینسوں جن کی عمر نو سے پندرہ ماہ تک ہو کو سائنسی خطوط پر گوشت کی پیداوار میں اضافہ کرنے کیلئے رجسٹر کیا جائے گا۔اس منصوبے کے تحت رجسٹرڈ جانوروں کی تعداد کم از کم پندرہ ہونی چاہئیے۔ ترجمان نے کہا کہ جانوروں کو فربہ کرنے کے پروگرام کے تحت تین ماہ بعد چار ہزار روپے فی جانور الاؤنس،چارہ بنانے والی مشین،ہتھ گاڑی اور زمینداروں کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔اس منصوبے میں اب تک تقریباً دس ہزار سے زائد جانوروں کو رجسٹر کیا جا چکا ہے۔مذکورہ بالا دونوں منصوبوں پر 2377ملین روپے لاگت آئے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر