الپوری،درہ آد م خیل میں جاں بحق 3 کان کن سپرد خاک

  الپوری،درہ آد م خیل میں جاں بحق 3 کان کن سپرد خاک

  



الپوری(آفتاب حسین)شانگلہ سے تعلق رکھنے والے دو کان کن محنت کش درہ آدم خیل کے کوئلہ کان میں ڈاٹ ہونے سے جان بحق جبکہ دو زکان کن زخمی ہوئے - عمر زیب اور تازہ گل پر دوران کام چھت بیٹھ گئی جسکے نتیجے میں یہ دونوں موقع پر دم توڑ گئے جبکہ ان کے دو ساتھی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ عمر زیب اور تازہ گل کی میتوں کو ان کے آبائی علاقے الپوری پہنچادیے گئے فیضا ء سوگوار رہی میتوں کو نماز جنازہ کے بعد سپر دخاک کردیا گیانماز جنازہ میں سیاسی،سماجی اور زندگی کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعدادمیں شرکت کی۔یاد رہے کہ شانگلہ کے پنسٹھ فیصد لوگ کوئلہ کے کانوں میں محنت مزدوری کے لیے بلوچستان،سندھ،پنجاب اور درہ آدم خیل کا رخ کرتے ہیں اور کوئلے کے کانوں حادثوں کا شکار ہوکر اپنی زندگی کی بازیاں ہار جاتے ہیں،رزق حلال کی کمائی کیلئے ہزاروں فٹ زمین کے اندر حادثہ کے شکار ہونے والے ان محنت کش کان کنوں کیلئے اس وقت بھی حکومت کے پاس کوئی جامع منصوبہ موجود نہیں۔خاص طور شانگلہ کے جہاں نصف فیصد سے بھی ذیادہ لوگ اسی صنعت سے وابسطہ ہیں نہ یہاں ان کے لئے سکول ہے نہ ہسپتال اور نہ ہی لیبر کالونیاں جو شانگلہ کے پنسٹھ فیصد کوئلہ کا مزدوروں کے ساتھ انسانی ظلم کا بد ترین مثال ہیں۔ان کوئلہ کا ن مزدورون کے حقوق کے لئے کام کرنے والی نام نہاد تنظیمیں صرف سوشل میڈیا پر ایک دو پوسٹ دے کر صرف افسوس کرتی ہیں۔شانگلہ میں ہر ہفتے کوئلہ کانوں سے لاشوں کا سلسلہ گزشتہ کہیں دہائیوں سے جاری ہیں تاہم اس کے روک تھام اور اتنی بڑی آبادی کو متبادل روزگار دینے کیلئے حکومت اور اداروں کے پاس کوئی نظام موجود نہیں جہاں کوئلے کی صنعت ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کررہی ہے وہاں اسی صنعت سے وابسطہ کوئلہ کان مزدوروں کیلئے کوئی توجہ اور حوصلہ افزائی نہیں ہو پاتی۔کوئلہ کان میں جان بحق مزدوروں کے یتیم بچیں اکثر کم عمری میں کوئلہ مزدوری کو اپنا لیتے ہیں اور پھر وہی انجام ان کا بھی ہوجاتاہیں جو یہ سلسلہ جاری ہیں۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر