مہنگائی کی وجہ سے پاکستان کے بلڈ بینکس مشکلات سے دوچار

مہنگائی کی وجہ سے پاکستان کے بلڈ بینکس مشکلات سے دوچار

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)مہنگائی اورڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی بے قدر کے باعث پاکستان کے بلڈ بینکس مشکلات سے دوچار ہیں۔ماہرین کے مطابق روپے کی قدرمیں کمی کے باعث بلڈ بیگز، ادویات اور مشینوں کی درآمدی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیاہے۔ تفصیلات کے مطابق، پاکستان کی کمزور ہوتی کرنسی کی وجہ سے پاکستان کے فلاحی بلڈ بینکس مشکلات سے دوچار ہیں بلڈ سپلائرز کے مطابق، بلڈ کنٹینرز اور خون جانچنے کی مشینری کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ایک فلاحی ادارے کی چیئرپرسن فوزیہ صدیقی جو کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (نچ)کی بلڈ ضروریات پوری کرتی ہیں نے بتایا کہ بلڈ بیگز اور خون جانچنے کے آلات کی درآمدی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہمیں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال سے اب تک بلڈ بیگز کی قیمتوں میں 1800 سے 2200 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ بلڈ بینک اور تھیلیسیمیا سینٹر کے سربراہ اقبال قسمانی نے بتایاکہ گزشتہ دو سال کے دوران بلڈ بیگز اور ادویات کی قیمتوں میں 30 فیصد سے 40 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایاکہ ہمیں زیادہ تر عطیات ماہ رمضان میں ملتے ہیں اور ان کا استعمال پورے سال ہوتا ہے۔ ہمیں عطیات دینی والی 80 فیصد خواتین ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں 60 لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ جب کہ سینئر وائس چیئرمین پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگس ایسوسی ایشن عبدالصمد میمن کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اسپتالوں میں استعمال ہونے والی کچھ مشینیں 50 فیصد مہنگی ہوچکی ہیں۔

مزید : صفحہ اول