الجزائر اور ترک صدرکے درمیان فرانس کے معاملے پر گرما گرمی

الجزائر اور ترک صدرکے درمیان فرانس کے معاملے پر گرما گرمی

  



لجیریا/انقرہ(این این آئی)افریقی ملک الجزائر اور ترکی کو ایک دوسرے کے اتحادی خیال کیا جاتا ہے مگر حالیہ ایام میں دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ دیکھا گیا ہے۔یہ تناؤ اس وقت سامنے آیا جب ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے الجزائری ہم منصب عبدالمجید تبون کے ایک بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ بیان میں رد وبدل کرنے پر الجزائری ایوان صدر کی طرف سے ترک صدر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق الجزائری ایوان صدر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قومی ریکارڈ سے متعلق امور بہت پیچیدہ ہیں۔ الجزائری عوام اس حوالے سے بہت زیادہ حساس ہے اور تاریخی ریکارڈ اور دستاویزات کو تقدس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ترک صدر کا بیان الجزائر اور فرانس کے درمیان ماضی کے تنازعات کا حل نہیں۔اس سے قبل ترک میڈیا نے اطلاع دی کہ تْرک صدر رجب طیب ایردوآن نے الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون سے الجزائر کے نوآبادیاتی دور کے دوران فرانسیسی قتل عام سے متعلق دستاویزات حوالے کرنے کو کہا

مزید : عالمی منظر