کے پی کا پراسیکیوشن درست کام نہیں کررہا ،پیسے لے لیتے ہیں یاسفارش مان لی جاتی ہے ،سپریم کورٹ،کے پی پولیس کے ہیڈکانسٹیبل کی نوکری بحالی سے متعلق درخواست مسترد

کے پی کا پراسیکیوشن درست کام نہیں کررہا ،پیسے لے لیتے ہیں یاسفارش مان لی جاتی ...
کے پی کا پراسیکیوشن درست کام نہیں کررہا ،پیسے لے لیتے ہیں یاسفارش مان لی جاتی ہے ،سپریم کورٹ،کے پی پولیس کے ہیڈکانسٹیبل کی نوکری بحالی سے متعلق درخواست مسترد

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کے پی پولیس کے ہیڈکانسٹیبل مشتاق احمد کی نوکری بحالی سے متعلق درخواست مستردکرتے ہوئے پی ایس ٹی کا فیصلہ برقراررکھا،چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 95 فیصد سرکاری ملازمین پر درج مقدمات میں وہ بری ہوجاتے ہیں ،سب ملے ہوئے ہیں ،کے پی کا پراسیکیوشن درست کام نہیں کررہا ،پیسے لے لیتے ہیں یاسفارش مان لی جاتی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کے پی پولیس کے ہیڈکانسٹیبل مشتاق احمد کی نوکری بحالی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی، چیف جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیاکہ کیابنا اس مقدمے کا،کیامشتاق احمد پر الزام ثابت ہوا؟،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوانے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں خاتون کے ساتھ زیادتی ثابت ہوئی ہے،بعد میں خاتون نے مشتاق احمد سے صلح کرلی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ ایف آئی آر درج کرنے کی زحمت کیوں کرتے ہیں ؟95 فیصد سرکاری ملازمین پر درج مقدمات میں وہ بری ہوجاتے ہیں ،سب ملے ہوئے ہیں ،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ کے پی کا پراسیکیوشن درست کام نہیں کررہا ،پیسے لے لیتے ہیں یاسفارش مان لی جاتی ہے ،قانون نے شواہد اور گواہوں کو دیکھنا ہوتا ہے۔عدالت نے ہیڈکانسٹیبل مشتاق احمد کی درخواست مستردکرتے ہوئے پی ایس ٹی کا فیصلہ برقرار رکھا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد