” خدا کی قسم لٹ گئے ہیں ، مر گئے ہیں اور ۔۔“ فیصل آباد کے صنعتکار گورنر چوہدری سرور کے سامنے پھٹ پڑے

” خدا کی قسم لٹ گئے ہیں ، مر گئے ہیں اور ۔۔“ فیصل آباد کے صنعتکار گورنر ...
” خدا کی قسم لٹ گئے ہیں ، مر گئے ہیں اور ۔۔“ فیصل آباد کے صنعتکار گورنر چوہدری سرور کے سامنے پھٹ پڑے

  



فیصل آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) فیصل آباد کے صنعتکارحکومتی پالیسیوں پر شدید پریشان حال ہونے کے بعد اب برس پڑے ہیںاور گورنر پنجاب چوہدری سرور کو بھی کھری کھری سنا ڈالیں۔

تفصیلات کے مطابق بزنس کمیونٹی نے 10 فروری کو ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا جس پر وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا اور مذاکرات کی ہدایت کی جس پر گورنر پنجاب چوہدری سرور فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے مذاکرات کیلئے پہنچے جہاں انہوں نے صنعتکاروں سے ہڑتال کی کال واپس لینے کیلئے کہا تو تاجروں نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا اور حکومتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔

اس دوران تاجر میاں مان کھڑے ہوئے گئے اور چوہدری سرور کومخاطب کرتے ہوئے قسمیں کھاکر کہا کہ ہم نے دس تاریخ کو چابیاں لا کر آپ کے حوالے ک دینی ہیں جس پر انہیں یقین دہانی کروانے کی کوشش کی گئی کہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے جس پر انہوں نے پھر سے جذبات میں آتے ہوئے کہا کہ اگر نہ بھی ہوئے تو چابیاں لا کر آپ کے ٹیبل پر رکھ دینی ہیں ، خدا کی قسم لٹ گئے ہیں ، مر گئے ہیں ، راتوں کو نیند نہیں آتی ،مزدوروں کو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں رہے۔

انجمن تاجران سپریم کونسل کے جنرل سیکرٹری ایوب منج نے کہا کہ ڈیڑھ سال کے دوران حکومت نے کئی بار تاجروں کو اسلام آباد بلایا مگر ایک بھی مسئلہ حل نہیں کیا۔ کاروبار تباہ اور مہنگائی سے زندگیاں اجیرن کردی ہیں۔ پاور لومز ایسوسی ایشن کے رہنما چوہدری محمد نواز نے کہا کہ فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں ، حکومت نے بجلی کے قیمتیں اس قدر بڑھا دیں فیکٹریاں چلائی ہی نہیں جا سکتیں۔

انجمن تاجران سپریم کونسل کے چیئرمین اسلم بھلی نے کہا ہے کہ جلد بازی کی گئی ہڑتال موخر کرنے کا اعلان تمام تنظیموں کی مشاورت کے بعد کرنا بہتر تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی تنظیم اور انجمن تاجران سٹی کے عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ طے کریں گے۔ پاور لومز اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید خالق رامے نے کہا کہ بجلی کی موجودہ ٹیرف پر پاور لومز انڈسٹری چل ہی نہیں سکتی۔ اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو ہڑتال ضرور کی جائے گی۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین میاں محمد نعیم نے کہا کہ گورنر پنجاب کی اچانک آمد ہوئی ، ہنگامی طور پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تمام ممبران کو اعتماد میں نہیں لیا جا سکا تاہم ہڑتال کا فیصلہ برقرار ہے، مذاکرات میں صرف ہڑتال موخر کرنے کا اعلان کیا ہے اگر دو ہفتے میں مسئلہ حل نہ ہوا تو ہڑتال ضرور ہو گی۔

مزید : قومی