پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی، سزا یافتہ شخص نے قانون کیخلاف ہی اہم قدم اٹھا لیا

پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی، سزا یافتہ شخص نے قانون کیخلاف ہی اہم ...
پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی، سزا یافتہ شخص نے قانون کیخلاف ہی اہم قدم اٹھا لیا

  



لاہور (ویب ڈیسک) پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی پر سزا پانے والے شہری نے قانون کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔پیر کو سیالکوٹ کے ڈاکٹر محمد مدثر کی درخواست پر عدالت عالیہ کے سنگل بینچ نے سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مزید دستاویزات فراہم کرنے کے لیے مہلت مانگی جس کی عدالت نے اجازت دے دی۔

مدثر کو مجسٹریٹ نے 17 مئی 2019 کو پہلی بیوی کی شکایت پر ایک ماہ قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی تھی۔ مدثر نے سزا کے خلاف سیشن عدالت میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔ درخواست گزار نے قانون اور پنجاب کی جانب اس میں وقتا فوقتا کی جانے والی ترامیم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

درخواست میں وزارت قانون اور صوبائی سیکرٹری قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ءاور رولز میں بغیر اختیار ترمیم کی، پنجاب کے علاوہ کسی اور صوبے میں پہلی بیوی شوہر کی دوسری شادی کے خلاف عدالت سے رجوع نہیں کر سکتی، بلوچستان، کے پی کے اور سندھ میں دوسری شادی پر صرف یونین کونسل ہی شکایت درج کرا سکتی ہے، پنجاب میں جرمانے بھی دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ءکا اطلاق پورے پاکستان میں ہوتا ہے اور ترمیم کا اختیار صرف وفاق کو حاصل ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے دوسری شادی کے قانون میں ترمیم آئین کے خلاف ہے۔درخواست گزار نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ءمیں صوبائی حکومت کی ترمیم کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے کی استدعا کی ہے۔ کیس کی سماعت 10 فروری کو ہوگی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور