”شہبازشریف کے ڈیلی میل کے خلاف کیس جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ ۔۔“ن لیگ کے صدر نے اپنا کیس کس قانونی فرم کو دیا ہے اور کیا معاملہ ہے ؟ سینئر صحافی ہارون رشید نے بڑا دعویٰ کر دیا

”شہبازشریف کے ڈیلی میل کے خلاف کیس جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ ۔۔“ن ...
”شہبازشریف کے ڈیلی میل کے خلاف کیس جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ ۔۔“ن لیگ کے صدر نے اپنا کیس کس قانونی فرم کو دیا ہے اور کیا معاملہ ہے ؟ سینئر صحافی ہارون رشید نے بڑا دعویٰ کر دیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )شہبازشریف نے اپنے خلاف خبر چھاپنے پر برطانوی نشریاتی ادارے ڈیلی میل کے خلاف کیس کر دیاہے جس پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ یہ خود پھنس گئے ہیں تاہم اس معاملے پر اب سینئر صحافی ہارون رشید بھی میدان میں آ گئے ہیں اور حیران کن دعویٰ کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ہارون رشید نے نجی ٹی وی چینل ” 92 نیوز“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام تاثر کے برعکس میں نے لندن میں ایک برطانیہ کے قابل وکیل سے بات کی جس کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن وہ وہیں پیدا ہوا اور بڑا ہواہے ، اس وکیل کی قانونی حلقوں یں رائے کو معتبر مانا جاتاہے اور ا س کا احترام کیا جاتاہے ۔ اس وکیل نے امریکہ جاکر بھی مقدمات لڑے ہیں اور ایک سچا اور ایماندار آدمی ہے ۔

ہارون رشید نے کے مطابق اس وکیل نے بتایا کہ شہبازشریف نے ” کارٹر لک لائرز “ کو اپنا کیس لڑنے کیلئے دیا ہے جو کہ برطانیہ کی بہترین قانونی فرم ہے ، یہ قانونی فرم کیس کا جائزہ لیے بغیر نہیں لیتی ہے ، اگر جیتنے کا امکان نہ ہو تو یہ فرم کیس لیتی ہی نہیں ہے ، یہ میڈیا لاء، انٹر نیشنل لاءاور کمرشل ڈسپیوٹس کے ماہر ہیں لہذا یہ رائے نہ قائم کی جائے کہ شہبازشریف کیس ہار جائیں گے کیونکہ اس کیلئے ثابت ڈیوڈ روز اور ڈیلی میل کو کرنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف پر الزام یہ نہیں ہے کہ وہ کرپٹ آدمی ہے بلکہ الزام یہ ہے کہ زلزلہ زدگان کیلئے جو پیسے بھیجے گئے اس میں خرد برد کی گئی ، اب اس میں ایک نقطہ ہے کہ ان کا اپنا مانیٹرنگ سسٹم ہو تاہے اور برطانوی حکومت اسے آڈٹ کرتی ہے ، لہذا یہ بہت مشکل ہو گا ثابت کرنا ، یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ثابت کر دیں لیکن اس کا امکان بہت ہی کم ہے ۔زیادہ امکان یہ ہے کہ شہبازشریف یہ مقدمہ جیت سکتے ہیں ، ایک صورت یہ ہوگی اور انہیں بھاری جرمانہ عائد کرنا ہو گا ۔

ہارون رشید کا کہناتھا کہ تیسرا نقطہ سب سے زیادہ اہم ہے یہ ایک ” ٹیکٹیکل موو ہو گی “ جس کا مقصد یہ ہوتاہے کہ ڈرا دیا جائے اور انہیں یہ محسوس کروا دیا جائے کہ وہ کیس ہار جائیں گے ، اس میں دونوں طرف سے وکیل بیٹھتے ہیں اور ایک پروفیشنل بحث ہو تی ہے ، یہ سیاسی بحث نہیں ہوتی بلکہ دونوں طرف سے بتایا جاتاہے کہ ہمارے دلائل یہ ہوں گے ۔

ہارون رشید نے بتایا کہ اس بحث میں بتایا جائے گا کہ شہبازشریف نے جو بھی کیا ہو انہوں نے زلزلہ زدگان کے پیسے نہیں کھائے ، آپ کی فرم مانیٹرنگ کرتی رہی ہے ، آوٹ کورٹ میں دونوں فریق آپس میں بیٹھ کر طے کر لیں گے ، طے کرنے کی صورت یہ ہوہو گا کہ آپ کو اتنا جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور آپ یہ تسلیم کریں کہ آپ نے جوموقف اختیار کیا وہ غلط تھا ،ایک عوامی معذرت کریں اور وعدہ کریں کہ آئندہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا۔

مزید : قومی