معاونین خصوصی تعینات کرناغلط نہیں ،سوال یہ ہے کہ معاونین خصوصی وزارت کی سربراہی کررہے ہیں ،جسٹس عامر فاروق،وزیراعظم کے معاونین خصوصی کو دوبارہ نوٹسز جاری

معاونین خصوصی تعینات کرناغلط نہیں ،سوال یہ ہے کہ معاونین خصوصی وزارت کی ...
معاونین خصوصی تعینات کرناغلط نہیں ،سوال یہ ہے کہ معاونین خصوصی وزارت کی سربراہی کررہے ہیں ،جسٹس عامر فاروق،وزیراعظم کے معاونین خصوصی کو دوبارہ نوٹسز جاری

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے معاونین خصوصی کی تعیناتی چیلنج کرنے کی درخواست پر فردوس عاشق اعوان، زلفی بخاری، مرزا شہزاد اکبر اور یوسف بیگ کو دوبارہ نوٹس جاری کردیئے،عدالت نے ندیم افضل چن، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر معید یوسف، ندیم بابر، ثانیہ نشتر کوبھی نوٹس جاری کردیئے۔جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ معاونین خصوصی تعینات کرناغلط نہیں ،ہر جگہ ہوتے ہیں ،سوال یہ ہے کہ معاونین خصوصی وزارت کی سربراہی کررہے ہیں ،برطانیہ میں بھی معاونین بنائے جاتے ہیں لیکن وہ کنونشن کے تحت چلتے ہیں، فردوس عاشق اعوان وزارت کی سربراہی کر رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں وزیراعظم کے 15 معاونین خصوصی کی تعیناتی چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،معاون خصوصی نعیم الحق اور علی نواز اعوان نے جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آئین کا اہم ایشودرخواست میں اٹھایاگیا ہے،سپیشل اسسٹنٹ کیلئے آئین کو بائی پاس کیاگیا ،اس کے بعد کابینہ کا حصہ بنایا گیا،جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ کچھ رولز آف بزنس یاکسی مخصوص پاور کے ذریعے آئین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا،سپیشل اسسٹنٹس کی تعیناتیاں نئی نہیں ،رولزآف بزنس میں کہاگیاہے کہ سپیشل اسسٹنٹس تعینات ہو سکتے ہیں ۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیاسپیشل اسسٹنٹس کسی وزارت یاڈویژن کا سربراہ ہو سکتا ہے؟،سپیشل اسسٹنٹ منسٹری کو ہیڈکر سکتا ہے تو آئین کی خلاف ورزی ہے ۔وکیل فرخ نواز نے کہا کہ معاونین خصوصی سسٹم کیلئے کیا کررہے ہیں ،ملک میں تو آئی ایم ایف والے بیٹھے ہیں ،جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ معاونین خصوصی تعینات کرناغلط نہیں ،ہر جگہ ہوتے ہیں ،سوال یہ ہے کہ معاونین خصوصی وزارت کی سربراہی کررہے ہیں ،برطانیہ میں بھی معاونین بنائے جاتے ہیں لیکن وہ کنونشن کے تحت چلتے ہیں، فردوس عاشق اعوان وزارت کی سربراہی کر رہی ہیں،جسٹس عامر فاروق نے استفسارکیاکہ باقی معاونین کے وکیل نہیں آئے،کیاوہ کیس نہیں لڑناچاہتے؟۔وفاقی حکومت نے جواب جمع کرانے کےلئے 2 ہفتے کی مہلت طلب کر لی،عدالت نے استدعا منظور کرلی کیس کی سماعت20 فروری تک ملتوی کردی،عدالت نے فردوس عاشق اعوان، زلفی بخاری، مرزا شہزاد اکبر اور یوسف بیگ کو دوبارہ نوٹس جاری کردیئے، عدالت نے ندیم افضل چن، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر معید یوسف، ندیم بابر، ثانیہ نشتر کوبھی نوٹس جاری کردیئے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد