جو افسر حکومت کے منہ پرکالک ملناچاہتے ہیں ملیں ،لاہورہائیکورٹ کیس میں مناسب جواب داخل نہ کرانے پر برہم

جو افسر حکومت کے منہ پرکالک ملناچاہتے ہیں ملیں ،لاہورہائیکورٹ کیس میں مناسب ...
جو افسر حکومت کے منہ پرکالک ملناچاہتے ہیں ملیں ،لاہورہائیکورٹ کیس میں مناسب جواب داخل نہ کرانے پر برہم

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہورہائیکورٹ سزائے موت کے منتظر 18 سال سے کم عمر کے مجرم کی اپیل پنجاب حکومت کی جانب سے مناسب جواب داخل نہ کرانے پر برہم ہو گئی،جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ لاءافسرو ںکی یہ کارکردگی ہے کہ عدالت حکم کاجواب نہیں دے سکتے ،کیوں نہ عدالت آرڈر پاس کرے کہ سارے افسرنااہل ہیں ،جو افسر حکومت کے منہ پرکالک ملناچاہتے ہیں ملیں ۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ میں سزائے موت کے منتظر 18 سال سے کم عمر کے مجرم کی اپیل پر سماعت ہوئی،جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،پنجاب حکومت کی جانب سے مناسب جواب داخل نہ کرانے پر ہائیکورٹ نے اظہار برہمی کیا۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ یہ جواب کس نے تیار کیا ہے؟،سرکاری وکیل نے کہا کہ ہوم، لا اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹس نے ملکر جواب تیار کیاہے ،جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ لاءافسرو ںکی یہ کارکردگی ہے کہ عدالت حکم کاجواب نہیں دے سکتے ،پنجاب حکومت نے لا ءافسروں کی فوج بھرتی کی ہوئی ہے۔

لاہورہائیکورٹ نے کہا کہ یہ کونسے عالم فاضل بیٹھادیئے ہیں جن کو سوالات کا پتہ نہیں چلتا ،عدالت کاقیمتی وقت ضائع کررہے ہیں ،جسٹس قاسم خان نے کہا کہ کیوں نہ عدالت آرڈر پاس کرے کہ سارے افسرنااہل ہیں ،جو افسر حکومت کے منہ پرکالک ملناچاہتے ہیں ملیں ،جسٹس قاسم خان نے کہا کہ اگرضرورت پڑی تو وزیراعلیٰ پنجاب کوبھی طلب کرلیں گے ،عدالت نے کل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کیلئے طلب کرلیا۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور