وزیراعظم نے مستعفی نہ ہونا  تھا نہ ہوئے، اپوزیشن اتحاد کی ڈیڈ لائن گذر گئی

وزیراعظم نے مستعفی نہ ہونا  تھا نہ ہوئے، اپوزیشن اتحاد کی ڈیڈ لائن گذر گئی

  

پی ڈی ایم کی ڈیڈ لائن31جنوری بھی بالآخر گزر گئی۔وزیراعظم عمران خان نے استعفی نہیں دیا نہ ہی اس کا کوئی امکان تھا۔پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے وزیراعظم عمران خان سے کیا استعفیٰ لینا تھا،اسے تو اپنی بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل بڑی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ کے مصداق موقف اپنا رہی ہیں۔ اگرچہ پی ڈی ایم سٹریٹ پالیٹکس کا ایک بھرپور دور گزار چکی ہے، تاہم دوسرے مرحلے کے لئے پی ڈی ایم نے بوجوہ اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ اب اپوزیشن کی تمام سیاست پی ڈی ایم کے اگلے اجلاس کے فیصلوں کی مرہون منت ہوگی۔ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت نے اپوزیشن اور پی ڈی ایم کو نشانہ بنانے والی اپنی حکمت عملی پر بھرپور توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ حکومت پی ڈی ایم کے خلاف تند و تیز بیانات کے علاوہ  زمینوں کے مبینہ ناجائز قبضہ کے خلاف پنجاب بھر میں ایک زور دار مہم جاری رکھے ہوئے ہے جس کی بازگشت وفاقی دارالحکومت کے ایوانوں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں کھوکھر برادران کے خلاف زمین پر قبضہ واگذار کرانے کے اقدامات پر رکن قومی اسمبلی افضل کھوکھر نے قومی اسمبلی میں نہایت جذباتی انداز میں اپنا موقف بیان کیا جبکہ قومی اسمبلی میں حکومتی بنچوں نے جس انداز میں بل پاس کروائے اس پر اپوزیشن نہ صرف سراپا احتجاج بنی، بلکہ سپیکر اسد قیصر کے ڈآئس کا بھی گھیراؤ کیا گیا اور سپیکر کے خلاف نعرہ بازی بھی کی گئی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت تمام پارلیمانی روایات کو روندتے ہوئے یکطرفہ طور پر قانون سازی کر رہی ہے۔ موجودہ دور حکومت میں جمہوریت اور پارلیمان کو مباحثہ اور شراکت داری سے پاک رکھتے ہوئے چلایا جا رہا ہے۔ درحقیقت ایسا لگتا ہے کہ پارلیمان اپنا ایک موثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ دوسری جانب حکومتی زعما پی ڈی ایم کی ڈیڈ لائن گزرنے اسے خوب آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ حکومتی صفوں میں فاتحانہ طرز تخاطب نظر آتا ہے، جبکہ پی ڈی ایم سینیٹ انتخاب کا میدان حکومت کے لئے کھلا چھوڑنے پر تیار نہیں،اس لئے سینٹ انتخابات کا میدان سج گیا ہے۔ سینیٹ انتخابات کی مہم کے حوالے سے سرگرمیاں زور پکڑنے لگی ہیں جوڑ توڑ کا آغاز ہو گیا ہے۔ حکومت کے اندر ایسے حلقوں اور شخصیات جن کی شنوائی نہیں ہو رہی تھی اب ان پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اس ضمن میں اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں کر رہے جبکہ حکومتی حلیفوں حتیٰ کہ چودھری برادران کی بھی سنی گئی ہے۔ سپیکر صوبائی اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی قیادت میں ایک وفد کی وزیراعظم عمران خان سے اس حوالے سے ملاقات پاکستانی سیاست میں غیر معمولی طور،بلکہ اہم مضمرات کی حامل ہو سکتی ہے۔ معروضی سیاسی حالات میں چودھری پرویز الٰہی کا کردار بوجوہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں دو بڑی متحارب سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے مابین اسمبلی میں عددی توازن اس انداز سے ہے کہ چودھری پرویز الٰہی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں سینیٹ انتخابات میں جوڑ توڑ کے حوالے سے اہم ٹاسک دیا ہے۔

اب دیکھنا ہے کہ وہ پنجاب میں کیا کرشمہ دکھاتے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی کے ہمراہ ملاقات میں رکن قومی اسمبلی چودھری مونس الٰہی بھی تھے یہ بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ سینیٹ انتخابات کے اہم ترین مرحلہ کے بعد پنجاب میں کسی ممکنہ تبدیلی کے تناظر میں بھی چودھری پرویز الٰہی کا کردار اہم ہو سکتا ہے جبکہ دارالحکومت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما چودھری نثار علی خان کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ وہ بعض سینئر ن لیگی رہنماؤں سے روابط میں ہیں، جبکہ پنجاب میں کسی آئندہ ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شریف خاندان کے دیرینہ رفیق چودھری نثار علی خان اور میاں محمد نوازشریف کے مابین برف پگھلنے کی تاحال کوئی اطلاع نہیں،جبکہ چودھری نثار علی خان اور ن لیگ کی سینئر نائب صدر مریم نواز شریف کے مابین بھی فاصلے موجود ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں ابھی براڈ شیٹ سکینڈل کا شور شرابا بھی جاری ہے۔ وزیراعظم عمران خان کمیشن کے سربراہ کی تقرری میں اپوزیشن کی تنقید کو خاطر میں نہیں لائے جبکہ انکوائری کمیشن کے قیام کے حوالے سے ضابطے کی کارروائیاں جاری ہیں۔جسٹس (ر) عظمت سعید بھی کمیشن کے سربراہ کے طور پررہنے کے لئے پوری طرح آمادہ ہیں۔ براڈ شیٹ کا پنڈوراباکس کھلا تو معلوم ہوگا کہ یہ کس کس کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرز پر ”عوام“ کی آن لائن کالیں وصول کرکے اور ان سے بات چیت کرکے اپنی حکومت کی امیج بلڈنگ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ”عوام سے رابطے“ کا یہ ٹیلرمیڈ اسلوب طرز حکمرانی کے کارناموں کو کس قدر اجاگرکر پاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کو کچھ مزید صبر کرنے کی تلقین کی ہے اور اچھا وقت آنے کے سبز نہیں بلکہ زیتون کے باغ دکھائے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی اقتصادی ٹیم نے ان کے سامنے معاشی ترقی کے جو گراف پیش کئے ہیں انہوں نے عوام سے خطاب میں اس کی دلکش منظرکشی کی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ عوام کب تلک اور کتنا صبر کرتے ہیں۔ ویسے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ اس ماحول میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید بھی وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں کرنے لگے ہیں۔ یہ ملاقاتیں ملک کی داخلی سیاسی و معاشی صورت حال کے علاوہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں بھی اہم ہیں۔ امریکہ میں جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد نئی انتظامی ٹیم آ گئی ہے۔ واشنگٹن کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے جس طرح کے بیانات سامنے آ رہے ہیں انہیں دیکھ کر پھر ”ڈومور“ کا زمانہ یاد آ گیا ہے۔ لگتا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کے چینلجز میں اضافہ ہوگا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے امریکی ہم منصب سے فون پر بات کی ہے۔ دوسری جانب چین نے 5لاکھ کورونا ویکسین کا تحفہ پاکستان کو دیا ہے جسے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان میں چین کے سفیر ٹونگ زونگ نے ایئرپورٹ پر وصول کیا اب دیکھنا ہے کہ اسد عمر کے اعلان کے مطابق باقی ویکسین کب پاکستان پہنچے گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -