ٹانک، جنوبی وزیرستان آپریشن متاثرین کا احتجاجی دھرنا آٹھویں روز بھی جاری 

ٹانک، جنوبی وزیرستان آپریشن متاثرین کا احتجاجی دھرنا آٹھویں روز بھی جاری 

  

ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان آپریشن راہ نجات سے تباہ شدہ مکانات کے سروے کے بارے میں یو ماسید احتجاجی دھرنا آٹھویں روز بھی جاری رہا، تفصیلات کے مطابق گزشتہ آپریشنوں سے متاثرہ گھروں کے مالکان کا احتجاجی دھرنا ڈپٹی کمشنر کمپاونڈ کے سامنے آٹھویں روز بھی جاری رہا، جسمیں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی،  دھرنے سے صدر شمس محسود، رحمت شاہ اور دیگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ فاٹا خیبر پختونخواہ میں ضم ہوتے وقت فاٹا کے نوجوانوں اور عوام نے حکومت اور پاک ارمی کا بھرپور ساتھ دیا تاکہ فاٹا کے پی کے میں ضم ہوکر قبائلی علاقے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں اور لوگوں کو انتہا پسندی سے پہنچنے والے نقصانات کا آزالہ ہوسکے لیکن بدقسمتی سے ہمیں اندھیروں کی طرف دھکیل رہے ہے، مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارے اوپر دوبارہ وہی بیوروکریٹ مسلط کردیئے ہیں جو قبائلی علاقے میں نئے اصلاحات کے دشمن ہیں، ان کا کہنا تھا کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کے گردن میں ابھی تک وہی چالیس ایف سی آر قانون کا سریا موجود ہے جو اصلاحات پسندوں مختلف قسم کے مسائل پیدا کرکے ہراساں کیا جاتا ہے، مقررین نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر ڈی آئی خان جیسے کرپٹ افسر کا فوری طور پر تبادلہ کیا جائے اور انھیں نے سروے کے دوران تحصیلداروں کے تبادلوں میں جو کرپشن کی ہے انکی تحقیقات کی جائیں تاکہ چالیس ایف سی ار کا یہ کیڑا اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -