پی ڈی ایم میں اختلافات کی خبریں میڈیا تک محدود ہیں،سابق سینیٹر 

  پی ڈی ایم میں اختلافات کی خبریں میڈیا تک محدود ہیں،سابق سینیٹر 

  

چارسدہ (بیوررپورٹ)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ جان نے کہا ہے کہ پی ڈیم ایم میں اختلافات کی باتیں میڈیا تک محدود ہیں۔ پی ڈی ایم اجتماعی استعفیٰ کے ذریعے سینیٹ انتخابات روکنا چاہتی تھی مگرقانونی ماہرین کی رائے آنے کے بعد سینیٹ الیکشن میں جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صرف سندھ اسمبلی کی برخاست ہونے سے سینیٹ الیکشن نہیں روک سکتا تھا۔وہ چارسدہ پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام میں اظہار خیال کر رہے تھے۔اس موقع پر ضلع امیر مولانا سید گوہر شاہ،مولانا عبد الروف شاکر،عبد الرحمان خان اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔حافظ حمد اللہ جان نے کہا کہ اپوزیشن اگر سینیٹ اور ضمنی میں حصہ نہیں لیتی تو حکومت اور بھی مضبوط ہوتی۔ استعفوں اور لانگ مارچ کا آپشن آج بھی موجود ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک بلاول زرداری کی تجویز ہے۔ پی ڈی ایم عدم اعتماد کے حوالے سے فیصلہ کریگی۔ افغانستان میں امن کیلیے دعا گو ہیں۔ افغانستان میں امن کے حوالے سے نئی امریکی حکومت کی نیت پر شک ہے۔ امریکی صدر  جوبائیڈن کی قیادت میں امریکہ ایران کے حوالے سے پالیسی پر نظر ثانی کر سکتی ہے تو افغانستان کے حوالے سے بھی پالیسی تبدیل کر سکتی ہے۔امریکہ کی تاریخ شاہد ہے کہ ان کے لیے امن ہمیشہ گھاٹے کا سودا رہا ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت فرشتوں کی چھتری تلے بنائی گئی۔ پیٹرول، چینی اور آٹے کے چور اس حکومت میں بیٹھے ہیں۔ عمران خان تو بندہ ایماندار ہے لیکن کرپشن میں حصہ دار ہے۔ چور چور کا شور مچانے والے خود چور نکلے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صاف شفاف انتخابات کے حق میں ہیں۔ اسلام آباد پر دھاندلی کے زریعے قبضہ جمانے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ موجودہ حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی۔ تبدیلی کا نعرہ تباہی لے آئی ہے۔ وزراء اپوزیشن کو نئی نئی گالی دینے کیلئے روزانہ ڈکشنری دیکھتے ہیں۔ پنجاب میں گورنر، وزیر اعلی، سپیکر اور سینئر وزیر ایک پیج پر نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں دراڑیں ہیں۔چارٹر آف ڈیموکریسی پر مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے دستخط کئے ہیں۔ آج پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں سینیٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ کے خلاف ہیں۔ اوپن بیلٹ پیپر کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ چئیر مین سینیٹ کے گزشتہ عدم اعتماد تحریک میں شو آف ہینڈ یا اوپن بیلٹ پیپر کی بات نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بیلٹ پیپر پر حکومت ڈھائی سال کیوں خاموش رہی؟ انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے ایم پی ایز بکنے کیلئے قطار میں کھڑے ہیں۔ پی ٹی آئی غیر متعلقہ اور غیر معروف لوگوں کو سینیٹ میں لانا چاہتی ہے۔ زلفی بخاری اور حفیظ شیخ اور ان جیسے لوگوں کو بچانے کے لیے دہری شہریت کا بل اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے۔ سینیٹ میں لاڈ لوں کو نہیں پارٹی کے دیرینہ ورکرز لائے جاتے ہیں مگر کپتان کے ارادوں کو بھانپ کر پی ٹی آئی میں بغاوت نکل آئی ہے۔ ملک میں خاموش مارشل لاء ہے۔ میڈیا بدترین سینسرشپ کا شکار ہے۔ ملک میں صحافت اور سیاست آزاد نہیں۔ حکومت کو تنقید برا لگتا ہے۔ میڈیا کو پمرا کے ذریعے دھمکایا جا رہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ جعلی اسمبلی کو آئین میں ترمیم کا اختیار نہیں۔ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سمیت وکلاء نے بھی جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے۔ فریقین ثالث پر متفق نا ہو تو ثالث کا فیصلہ نہیں مانا جاتا۔ براڈ شیٹ کی تحقیقات کیلئے عمران خان نے امپائر کو ساتھ ملایاہے۔ عمران براڈ شیٹ میں اہم کرداروں کو چھپانا چاہتی ہے۔فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان بری طرح پھنس چکے ہیں اور فیصلے کو ریاستی طاقت کے زریعے التواء میں رکھا ہوا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -