اسلا م آباد ہائیکورٹ کی وفاقی حکومت کو دلائل کیلئے 11فروری تک مہلت 

اسلا م آباد ہائیکورٹ کی وفاقی حکومت کو دلائل کیلئے 11فروری تک مہلت 

  

         اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی وی کی تعیناتی کے حوالے سے کیس میں وفاقی حکومت کو دلائل کے لیے گیارہ فروری تک کی مہلت دے دی جبکہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پی ٹی وی پبلک سیکٹر میں ایک کمرشل ادارہ ہے عدالتوں کو کمرشل اداروں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ہم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی نشاندہی کی ہے یہ حکومت کا کام ہے کہ کس کو ہٹانا یا رکھنا چاہتے ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین پی ٹی وی نعیم بخاری اور دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر سماعت کی دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیئرمین اور ڈائریکٹر ڈی نوٹیفائی ہونے کے بعد اب یہ کیس غیر مؤثر نہیں ہوگیا؟ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حکومت کوئی بھی فریش تعیناتی کرسکتی ہے عدالت نے پی ٹی وی نہیں چلانا وہ حکومت نے چلانا ہے یہ عدالت ایگزیکٹوکے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی وی پبلک سیکٹر میں ایک کمرشل ادارہ ہے عدالتوں کو کمرشل اداروں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ہم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی نشاندہی کی ہے یہ حکومت کا کام ہے کہ کس کو ہٹانا یا رکھنا چاہتے ہیں  درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ آپ نے کہا تھا نوٹیفیکیشن میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو انہوں نے معاملہ عدالت پر ڈال دیا حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن بھی منگوا کر ایک دفعہ دیکھ لیا جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے پی ٹی وی کے کیس میں پورا طریقہ کار واضح کیا ہے  یہ بتانا ضروری ہے کہ اگر عمر کی حد تک کی گنجائش نکالنی ہے تو اس کی وجوہات بھی دینا ہوں گی  دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے دلائل کیلئے مہلت کی استدعا کی  عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت کے دوران فروری تک ملتوی کر دی۔

تعیناتی کیس 

مزید :

صفحہ آخر -