اراضی کا معاوضہ‘ ایوارڈ نہ دینے کیخلاف درخواست کی سماعت 9 فرور ی کو ہوگی

اراضی کا معاوضہ‘ ایوارڈ نہ دینے کیخلاف درخواست کی سماعت 9 فرور ی کو ہوگی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے اراضی کا معاوضہ اور ایوارڈ نہ دینے کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کیا یہ اندھیر نگری ہے کہ 34 سال تک لوگوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جائے، اتنی مدت سے کیوں ایوارڈ جاری نہیں کیا، نالائقی آپ کی اورسزا عوام کو کیوں ملے؟ کیا آپ نے اس پٹیشن کو 20،25سال اور چلانا ہے،ایک نسل ختم ہو جاتی ہے اس عمر میں،کوئی حد ہوتی ہے انسانی بے حسی کی،جتنے آفیسر آج تک رہے ہیں ان کو کروڑوں روپے جرمانہ ہونا چاہیے دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمشنر لاہورنے ابھی تک اس اراضی کی نشاندہی کا حکم نہیں دیا یہ رقبہ سڑکوں میں شامل ہوگیا پہلے نشاندہی کرنا ضروری ہے، جس پر فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ڈی جی ایل ڈی اے کو جیل بھیجوں گا، 34 سال ہو گئے نہ معاوضہ دیا اور نہ رقبہ دیا، غضب خدا کا، جو بات آپ نے کردی اس سے بڑھ کر اور ایل ڈی اے کی اور کیا بددیانتی ہوگی، اگر کچھ کر سکتے ہیں تو کر لیں  وگرنہ اس پر بھاری جرمانہ کروں گامعاملہ اینٹی کرپشن کو بھیجنا پڑا تو کروں گا،بعدازاں فاضل جج نے کہا کہ تین ہفتے کا وقت دے رہا ہوں، جو افسر ذمہ دار ہوگا اس کو نہیں چھوڑوں گا درخواست گزار کا موقف ہے کہ نور ایونیو سوسائٹی کا رقبہ 20 کنال سے زائد ایکوائر کیا گیا، 37 سال ہوگئے نہ معاوضہ دیا گیا اور نہ ایوارڈ دیا گیا، عدالت سے استدعا ہے کہ کمشنر لاہور کے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دیا جائے،اس کیس کی مزید سماعت9فروری ہو گی۔

مزید :

علاقائی -