پنجاب اسمبلی اجلاس: حکومتی، اپوزیشن ارکان کا وزیر صحت کے بیان پراظہار تشویش 

    پنجاب اسمبلی اجلاس: حکومتی، اپوزیشن ارکان کا وزیر صحت کے بیان پراظہار ...

  

         لاہور(نمائندہ خصوصی)  بزدار سرکار بھی ن لیگ کے نقش قدم پر،ڈھائی سالوں میں پنجاب اسمبلی کے 28 اجلاس ہوچکے لیکن ہر اجلاس دو سے ڈھائی گھنٹوں کی تاخیر سے شروع ہونا معمول بن گیا،پنجاب اسمبلی کاگزشتہ روزہونیوالااجلاس بھی دو گھنٹے 10 منٹ تاخیر سے شروع ہو ا۔ اجلاس میں کورونا ویکسین کے حوالے سے وزیر صحت پنجاب کے بیان پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے تشویش کا اظہار کر دیا۔ محکمہ زراعت کے بارے میں سوالوں کے جوابات متعلقہ وزیر سید حسنین جہانیاں نے دئے، پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صرف تین سوال ہی زیر بحث آ سکے باقی کے محرک ایوان میں آئے ہی نہیں، نکتہ اعتراض پر پنجاب اسمبلی کے اجلاس گندم کی فی من قیمت 2 ہزار روپے کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد نہ ہونے پر سابق سپیکر رانا اقبال احمد نے اظہار تشویش کیا۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے کہا کہ کورونا ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس ہیں جو لگانا چاہے وہی ذمہ دار خود ہوگا۔یہ بیان وزیر صحت پنجاب کی جانب سے آیا ہے جو نہیں آنا چاہیے تھا۔ حکومتی رکن سعید اکبر نوانی نے کہا کہ پنجاب میں کتے کے کاٹنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں ویکسین نہ ہونا افسوسناک ہے۔غیر سرکاری کارروائی میں دنیا کی بہترین اور طاقتور دس افواج کی فہرست میں شامل ہونے پر پاک فوج کو خراج تحسین کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلی گئی،قرارداد پی ٹی آئی کی رکن عظمیٰ کاردار نے پیش کی۔اقلیتی رکن رمیش سنگھ اروڑا کی جانب سے پیش کردہ بھارت کے کاشتکاروں کے حوالے سے قرارداد پنجاب اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی،پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان بھارتی کسانوں پر تشدد کی مذمت کرتا ہے۔ایجنڈا مکمل ہونے پر اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ تک ملتوی کردیا گیا۔

پنجاب اسمبلی اجلاس

  

مزید :

صفحہ آخر -