پی پی ایس سی پیپر لیک سکینڈل،3کمپیوٹر ز کو سینکڑوں بار یو ایس بی لگائی گئی 

پی پی ایس سی پیپر لیک سکینڈل،3کمپیوٹر ز کو سینکڑوں بار یو ایس بی لگائی گئی 

  

         لاہور(جنرل رپورٹر) پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تین کمپیوٹرز سے ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف سامنے آ گیا۔ تینوں کمپیوٹرز میں کب کب یو ایس بی لگی؟۔انٹی کرپشن تحقیقات میں تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ذرائع کے مطابق تینوں کمپیوٹر زمیں 82 سے زائد یو ایس بی سینکڑوں بار لگائی گئیں۔ یو ایس بی سے برآمد شدہ ڈیٹا 2 جنوری کو چوری کیا گیا۔ مذکورہ یو ایس بی 2 جنوری 2021 کو دوپہر 12 بجکر 42 منٹ پر کمپیوٹر ون کے ساتھ لگائی گئی۔ تحصیلدار، ڈپٹی اکاؤ نٹنٹ، لیکچرر ایجوکیشن، ایجوکیشن 20،20 ایم سی کیوز کا پرچہ چوری کیا گیا۔ یو ایس بی سے 2 آڈیو فائل اور 50 گرافکس ملے ہیں۔ذرائع کے مطابق کمپیوٹرٹو پر بھی 42 سے زائد مختلف یو ایس بی سینکڑوں دفعہ لگانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تحصیلدار، لیکچرر ایجوکیشن، اکنامکس، بیالوجی، پولیٹیکل سائنس، فزکس، پاک سٹڈیز اور عربی کے پرچوں تک رسائی حاصل کی گئی۔ 31 دسمبر 2020 کو صبح 11بجکر 56 منٹ پر ”ان سیو“ کے نام سے محفوظ ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی۔ تحصیلدار کے فولڈر میں سوالیہ پرچہ انگلش کے نام سے محفوظ پرچے تک رسائی حاصل کی گئی۔ 24 دسمبر 2020 کو اسسٹنٹ کوڈ اے کے نام سے محفوظ پرچے تک 5 بجکر 19 منٹ پر رسائی حاصل کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ براؤ زنگ ہسٹری کمپیوٹر تھری میں بھی مزید اہم انکشافات سامنے آئے۔ یکم جنوری 2021 کو تحصیلدار 2 کوڈ اے کے نام سے پرچہ محفوظ کیا گیا۔ 24 دسمبر 2020 کوبائیو 2 اور بی 33 کے نام سے محفوظ پرچے تک دوپہر میں رسائی حاصل کی گئی۔ ذرائع اینٹی کرپشن کے مطابق ملزم فہد کے لیپ ٹاپ سے لیک شدہ پرچوں کا کوئی مواد نہیں ملا۔ لیپ ٹاپ سے ملزم فہد اور ریجنل ڈائریکٹر ملزم فرقان کی چیٹ ملی ہے۔

پیپر لیک

مزید :

صفحہ آخر -