جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکرٹریز کو جلد باختیار بنا دیا جائیگا، وزیر خزانہ 

جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکرٹریز کو جلد باختیار بنا دیا جائیگا، وزیر خزانہ 

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)جنوبی پنجاب صوبہ کی تشکیل کے لیے سیاسی تقاضوں سے زیادہ اہم قانونی تقاضے ہیں۔ خطے کے لیے نام کا انتخاب وفاق کی مضبوطی کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ مختص شدہ بجٹ میں اضافے کے ساتھ استعمال کی استعداد کار کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ آئندہ چند دنوں میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے الگ رولز آف بزنس کے ساتھ تمام سیکرٹریز کو مکمل اختیارات تفویض کر دئیے جائیں گے۔ سوشل سیکٹر پر ضروری سرمایہ کاری کے لیے دیگر شعبوں میں نجی شعبہ سے شراکت داری کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نجی شعبہ سے سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے امن عامہ کی صورتحال کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ محکمہ پولیس کی استعداد کار میں بہتری کے لیے انسانی وسائل اور آپریشنل اخراجات پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔پولیس جوانوں کے 2013ء  سے منجمد روزانہ الاؤنس میں اضافہ،نئی گاڑیوں کی فراہمی اور کچے کے علاقوں کے لیے خصوصی ٹینکس کی خریداری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے ایوان وزیر اعلیٰ 90شاہراہ قائد اعظم پر47ویں سپیشلائز ٹریننگ پروگرام کے تحت اے ایس پیز کے 18رکنی  مطالعاتی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔

 صوبائی وزیر نے کہا کہ 1971ء  کے بعد صوبوں کی تقسیم کے قوانین میں تبدیلی آئی۔جنوبی پنجاب صوبے کے لیے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کا حصول ضروری ہے۔صوبائی وزیر نے وفد کو بتایا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ لاہور سیکرٹریٹ کے متوازی کام کرے گا۔ آئندہ مالی سال میں جنوبی پنجاب کے لیے الگ بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔کورس کے شرکاء  کی جانب سے صوبے میں نجی شراکت داری سے جاری منصوبہ جات سے متعلق سوال پر صوبائی وزیر نے بتایا کہ میں نجی شراکت داری کے منصوبہ جات کی پائپ لائن خاصی تسلی بخش ہے۔ جاری منصوبہ جات میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبہ سے شراکت دار ذاتی معاشی مفادات کی بنیاد پر شراکت داری کو آگے بڑھاتے ہیں۔ حکومت پنجاب عوامی مفادات کو شراکت داروں کی دلچسپی کے شعبہ جات اور کاروبار میں آسانی کے رجحان کے ساتھ منسلک کر رہی ہے۔ پنجاب کے پاس پر ایسے اثاثہ جات موجود ہیں جو نجی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہو سکتے ہیں۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد جس کے بعد سیکرٹری داخلہ، چیف اکانومسٹ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ  اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی نمائندہ نے وفد کو صوبے میں امن عامہ کی صورتحال، دہشت گردی اور مذہبی فرقہ واریت پر کنٹرول کے لیے محکمہ داخلہ کی حکمت عملی اور ترقیاتی سرگرمیوں اور ای گوورننس پر تفصیلی بریفنگ دی۔ سیکرٹری داخلہ نے شرکاء  کو بتایا کہ صوبے میں امن عامہ کو درپیش خارجی و داخلی چیلنجز سے نپٹنے کے لیے نئے قوانین ترتیب دئیے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں 200این جی اوز کی رجسٹریشن معطل کی گئی۔قانون کے تحت مشکوک فنڈنگ والے اداروں کے فنڈز منجمد کیے گئے۔ فرقہواریت پر کنٹروکل کے لیے مدارس کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا گیا۔ متنازعے شخصیات پر ضروری پابندیاں عائد کی گئیں۔مختلف اضلاع میں شر پسند گروہوں پر کنٹرول کے لیے حکمت عملی وضع کی گئی۔  پاک آرمی اور اینٹی ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ کاوشوں سے دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی آئی۔ 2013 میں دہشت گردی کے 41واقعات رپورٹ کیے گئے جبکہ اس سال صرف دو واقعات رپورٹ ہوئے۔چیف اکانومسٹ نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -