افواج کی قربانیوں سے انکار نہیں لیکن ہم آئین کے پابند، احمد عمر شیخ و دیگر افراد کو فوری ڈیتھ سیل سے نکالا جائے: سپریم کورٹ 

افواج کی قربانیوں سے انکار نہیں لیکن ہم آئین کے پابند، احمد عمر شیخ و دیگر ...

  

        اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے احمد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو ڈیتھ سیل سے فوری نکالنے کا حکم د یتے ہوئے زیرحراست افراد کی رہائی کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی سندھ حکومت کی استدعا ایک بار پھر مسترد کردی اور کہا کہ کیس میں تمام زیر حراست افراد کو دو دن تک عام بیرک میں رکھا جائے، دو دن بعد احمد عمر اور دیگر کو سرکاری ریسٹ ہاوس میں رکھا جائے، سرکاری ریسٹ ہاوس میں اہلخانہ صبح 8 سے شام 5 بجے تک ساتھ رہ سکیں گے، احمد عمر شیخ اور دیگر زیرحراست افراد موبائل فون، انٹرنیٹ استعمال نہیں کر سکیں گے، دو دن میں مناسب ریسٹ ہاؤس کا بندوبست کرکے سکیورٹی اقدامات کئے جائیں۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرنے کیلئے مہلت دینے کی اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرلی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے  کہ افواج کی قربانیوں سے انکار نہیں لیکن ہم آئین کے پابند ہیں، احمد عمر اور دیگر زیرحراست افراد کو ملزم نہیں کہا جا سکتا۔ منگل کو سپریم کورٹ میں احمد عمر شیخ اور دیگر کی رہائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ احمد عمر شیخ عام ملزم نہیں بلکہ دہشت گردوں کا ماسٹر مائنڈ ہے اور عوام کیلئے خطرہ ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ احمد عمر شیخ کا دہشتگردوں کیساتھ تعلق ثابت کریں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ احمد عمر 18سال سے جیل میں ہے، دہشتگردی کے الزام پر کیا کارروائی ہوئی؟، بد نیتی یہ تھی کہ بار بار حراست میں رکھنے کے احکامات جاری ہوئے، وفاق دکھا دے ان لوگوں کیخلاف اس کے پاس کیا مواد ہے، ہر کیس کی ایک تاریخ ہو تی ہے، اس مقدمہ کی تاریخ کا ہمیں نہیں معلوم، کسی کو حراست میں رکھنے کا مطلب ہے نو ٹرائل۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کل تک آپ کااعتراض تھا کہ ہائی کورٹ نے وفاق کو نہیں سنا، آج آپکے دلائل سے لگ رہا نوٹس نہ کرنیوالا اعتراض ختم ہوچکا۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کسی اختیار کو استعمال کرنے کیلئے مواد بھی ہونا چاہیے، صوبائی حکومت کے پاس ملزمان کو حراست میں رکھنے کا مواد نہیں تھا، قتل کی ویڈیو میں بھی چہرہ واضح نہیں تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے درخواست کی کہ کیس میں آئندہ ہفتے تک حکم امتناعی دیا جائے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کس بنا پر حکم امتناعی دیا جائے، بغیر شواہد کسی کو دہشتگرد قرار دینا غلط ہوگا۔

ڈینیئل پرل کیس

مزید :

صفحہ اول -