تھوڑی دیر صبر کریں، بتائیں گے استعفے کیا ہوتے ہیں: مریم نواز

       تھوڑی دیر صبر کریں، بتائیں گے استعفے کیا ہوتے ہیں: مریم نواز

  

 لاہور،اسلام آباد (جنرل رپورٹر،سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے اپنے طنزیہ ٹویٹ میں کہا ہے کہ  جلدبتائیں گے استعفے کیا ہوتے ہیں، تھوڑا صبر تو کرو۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں مریم نواز شریف نے لکھا کہ ہمارے استعفے“ایماندار بندے”جیسے نہیں ہوں گے کہ سپیکر بلائے تو غائب ہو جاؤ۔مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سڑک پر کھڑے ہو کر صبح شام اسمبلی کو گالیاں دیتے رہو، پھر اْسی اسمبلی میں آ بیٹھو اور سال بھر کی غیر حاضری کی تنخواہیں اور الاؤنسز بھی وصول کرلو۔اس سے قبل اپنے ایک بیان میں مریم نواز نے کہا کہ تنقید برائے تنقید نہیں کرتے، ہر روز مہنگائی میں اضافے پر تکلیف ہے۔ لوگ موجودہ حکومت کو بددعائیں دے رہے ہیں۔ لانگ مارچ پر تمام پی ڈی ایم جماعتوں کا اتفاق ہے، ن لیگ اور دیگر جماعتیں استعفے دینے پر یقین رکھتی ہیں۔اسلام آباد روانگی سے قبل لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک نالائق اور نااہل شخص کو اقتدار میں لایا گیا۔ وزیراعظم کی ترجیحات صرف اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے، عوام کی ذمہ عمران خان کی ترجیحات میں شامل نہیں، عوام کو وہ جواب دیتے ہیں جنہیں منتخب کریں، ہر روز مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگ بلبلا اٹھے ہیں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک پر قبضہ مافیا مسلط ہے، حکومتی بے حسی اور نالائقی زیادہ دیر چل نہیں سکتی، آئینی دائرہ کار سے باہر رہ کر کوئی غلط کام ہوگا تو تنقید کریں گے، 4 فروری کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا، اس میں لائحہ عمل بنائیں گے، بلاول بھٹو تحریک عدم اعتماد اور ان ہاؤس تبدیلی کی بات کریں گے تو غور کیا جائے گا، اجلاس میں استعفوں کا کیا طریقہ کار ہوگا اس کا فیصلہ کیا جائے گا، لانگ مارچ اور دھرنا کتنے وقت کے لئے ہوگا، یہ بیٹھ کر طے کریں گے۔لیگی رہنما نے مزید کہا کہ اللہ نہ کرے عوام پر حکومت کا عذاب رہے، میرا نہیں خیال مہنگائی کر کے حکومت پانچ سال پورے کرلے گی۔ مریم نوازنے کہا کہ جس نے پوری زندگی کوئی کام نہیں کیا اس پر ملک اور قوم کی ذمہ داری ڈال دی، وزیراعظم نے سوائے اپوزیشن کو ہدف بنانے کے اور کچھ نہیں سیکھا،ایک نالائق اور نااہل شخص کو اقتدار میں لایا گیا، وزیر اعظم کی ترجیحات صرف اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے، عوام کی ذمہ داری عمران خان کی ترجیحات میں شامل نہیں، عوام کو وہ جواب دیتے ہیں جنہیں  وہ منتخب کریں، ہر روز مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے،۔مریم نواز نے کہا کہ کوئی آئین سے بالا تر ہوکر کوئی کام کرے گا تو ہمارا فرض ہے بولنا اور میں بول رہی ہوں ہماری تنقید برائے تنقید نہیں ہے آئین کی خلاف ورزی پر ضرور بولیں گے۔

مریم نواز

اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ پی ڈی ایم جمہوری تحریک ہے، تحریک کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے  حملہ نہیں کیا جاتا، حکومت کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کا وقت دیا گیا تھا رعایت کے دن ختم ہو گئے، سخت فیصلوں کے دن آگئے ۔منگل کو نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم جمہوری تحریک ہے۔ تحریک کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے  حملہ نہیں کیا جاتا۔ حکومت کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کا وقت دیا گیا تھا رعایت کے دن ختم ہو گئے۔ سخت فیصلوں کے دن آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جلسوں میں عوام کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کراچی ملین مارچ کامیاب رہا۔ پاکستان میں جمہوریت نہیں میڈیا کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ حکومت پر تنقید کرنے والوں پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ جب کہ جمعیت علماء اسلام سے نکالے گئے افراد کی پریس کانفرنس دکھائی جاتی ہے۔ سخت حالات میں گھر کے افراد بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ ریاست بغاوت کرنے والوں کی معاونت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی سے متعلق واضح موقف دیا ہے۔ ہر ادارے کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر پارٹی کا اپنا منشور ہوتا ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں کچھ نکات پر متفق ہوئی ہیں۔ پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں متحد ہیں کوئی جماعت بھی  ڈیل نہیں کر سکتی۔ ہم سب ایک پیج پر ہیں  انہوں نے کہا کہ میرے بیان سے مشترکہ پالیسی تبدیل نہیں ہو سکتی۔ کسی کی بھی انفرادی رائے صرف اجلاس تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں جانے کا فیصلہ متفق طور پر کیا گیا ہے۔ صورتحال سمجھ کر فیصلہ تبدیل کرنا اچھی بات ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حکمت عملی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم  جعلی حکومت کے لئے خطرہ ہے۔ ہم لانگ مارچ کی تاریخ کا تعین کرنے کی کوشش کرینگے۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو سینیٹ الیکشن مشترکہ حکمت عملی کے تحت لڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ق لیگ ہمارے لئے قابل اعتماد نہیں رہی۔ مسلم لیگ (ق)  نے مارچ میں حکومت ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ق لیگ نے ہمیں دھوکہ دیا۔ ق لیگ کسی کے لئے استعمال ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آرام کے ساتھ نہیں گئی تو انارکی سے جائے گی۔ حکومت کی بے چینی چیخوں میں تبدیل ہو جائے گی۔ سینیٹ الیکشن کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی۔ تحریک عدم اعتماد میری نظر میں کمزور پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ چالیس سال میں  مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ بتایا جائے میری زمینیں، پلازہ اور فیکٹری کہاں ہے۔ میرے خلاف الزامات جھوٹ کا پلندہ ہے۔ آج عمران خان ہمارے احتساب کے شکنجے میں ہے۔ عوام جان چکے ہیں کہ حکومت ناکام ہو گئی ہے۔ موجودہ حکومت تاریخ کی سب سے کرپٹ حکومت ہے۔ ہم اس کے خلاف بھرپور اعتماد سے لڑیں گے۔

فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -