ہائی کورٹ: نوجوان غائب‘ والدین کو  بے خبر رکھنے پر ڈی پی او ڈیرہ کی سرزنش

ہائی کورٹ: نوجوان غائب‘ والدین کو  بے خبر رکھنے پر ڈی پی او ڈیرہ کی سرزنش

  

 ملتان (خصو صی ر پو رٹر)ہائیکورٹ ملتان بنچ کے جج جسٹس فاروق حیدر نے ایک نوجوان کو گھر سے اٹھانے اور گزشتہ دو (بقیہ نمبر60صفحہ 7پر)

سالوں سے اس کے بارے میں والدین کو بے خبر رکھنے پر ڈی پی او ڈیرہ غازیخان کی سر ذنش کی اور کہا کہ اپ لوگوں کی غیر قانونی کاروائیوں کی وجہ سے ادارے بدنام ہوتے ہیں۔یہ بات زبان زدعام ہے کہ ایجنسیاں بندے اٹھالیتی ہیں۔فاضل عدالت نے ڈی پی او کو کہا کہ تمہیں دو ہفتے کی مہلت دی جاتی ہے۔تو انہوں نے تین ہفتے کی مہلت بڑھانے کی استدعا کی۔چنانچہ فاضل عدالت نے انہیں 24 فروری کو مغوی کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا۔قبل ازیں پیٹیشنر حق نواز کے وکیل سید اطہر شاہ بخاری نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے 18 سالہ بیٹے محمد ابرار کو دو سال قبل پولیس بستی مکول کلاں (تونسہ شریف) سے اٹھاکر لے گیی۔اس کا باپ ریٹایرڈ ہیڈ ماسٹر ہے۔اس نے ہر جگہ تلاش کیا۔مگر کوی ادارہ تسلیم کرنے کیلیے تیار نہیں کہ اس نے بچے کو اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ سننے میں ایا ہے کہ اسے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپلوڈ کر نے پر پکڑا گیا ہے۔مگر وہ کس کی تحویل میں ہے۔کوی پتہ نہیں۔دو سال سے اس کا بوڑھا باپ دفتروں کے چکر لگا لگا کر تھک چکا ہے۔کو ی شنوای نہیں ہو رہی ہے۔اس پر فاضل عدالت نے ڈی پی او ڈیرہ غازیخان کو اصالتا طلب کیاہے۔

سرزنش

مزید :

ملتان صفحہ آخر -