بھارت کشمیری قیادت کی تجاویز پر توجہ دے

بھارت کشمیری قیادت کی تجاویز پر توجہ دے

  

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کی صدر اور ریاست کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے جموں و کشمیر کو موجودہ بحران سے نکالنے اور خطے میں پائیدار امن و سلامتی یقینی بنانے کے لئے تنازع کشمیر کا حل ناگزیر ہے، مودی حکومت کی طاقت کے وحشیانہ استعمال کی پالیسی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔اُن کا کہنا تھا کہ سرحدوں پر امن بحال ہونا چاہئے، کشمیریوں کی خونریزی کا سلسلہ بھی بند کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی صورت ہو سکتا ہے جب مسئلہ کشمیر، کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر نہ تو مذہبی ہے اور نہ ہی امن و امان کا مسئلہ ہے جیسا کہ بی جے پی قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے،یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کی بنیاد کشمیریوں سے کئے گئے وعدوں سے انحراف پر ہے۔

محبوبہ مفتی اور اُن کے والد مفتی محمد سعید دونوں بی جے پی کے اشتراک سے ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ رہے ہیں اُس وقت بھی کشمیری عوام کی بڑی اکثریت بی جے پی کے ساتھ ان کے اتحاد کو قبول نہیں کرتی تھی اور نہ ہی آج ان کی پالیسیوں سے کُلّی اتفاق کرتی ہے، لیکن اب وہ وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کا کوئی بھی رہنما چاہے وہ ماضی میں کسی بھی بڑی جماعت کا ساتھی رہا ہو اسے  موجودہ صورت حال قبول نہیں ہے۔بی جے پی کی سیاست اور کشمیر کو بھارت میں مدغم کرنے کے وزیراعظم مودی کے فیصلے کے بعد حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں،جو رہنما کسی نہ کسی وقت بھارت کی مرکزی حکومت کی کشمیر پالیسی کے حامی رہے ہیں اور اُن کا خیال تھا کہ وہ بھارت کے اندر رہتے ہوئے کشمیریوں کو اُن کے حقوق دلائیں گے، وقت نے اِن سب کا موقف بھی غلط ثابت کیا اور کشمیر میں پے در پے ناکامیوں کے ساتھ مودی نے عیاری کے ساتھ ریاست کی خصوصی حیثیت ہی ختم کر دی۔ آزادی کے بعد ریاست کے پہلے وزیراعظم شیخ عبداللہ کے ساتھ بھی اُن کے دوست پنڈت نہرو نے یہی سلوک کیا تھا اور اُنہیں محرومِ اقتدار کر کے زنداں میں ڈال دیا تھا، لیکن اس کے باوجود شیخ خاندان کسی نہ کسی طرح بھارت کی مرکزی حکومت کے جال میں پھنسا رہا،رہائی کے بعد شیخ عبداللہ کو ایک بار پھر اقتدار نصیب ہوا اُن کے بعد اُن کے بیٹے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور پھر اُن کے پوتے عمر عبداللہ ریاست کے وزیراعلیٰ رہے،لیکن آج ان دونوں میں سے کوئی بھی مرکزی حکومت کا حامی نہیں رہا اور سب کا خیال ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر ریاست میں امن کا قیام ممکن نہیں اور نہ ہی سرحدوں پر امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ فاروق عبداللہ بھی وقتاً فوقتاً ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں، جو آج محبوبہ مفتی کہہ رہی ہیں، جہاں تک کشمیر کی حریت قیادت کا تعلق ہے وہ تو پہلے ہی بھارتی رہنماؤں کے پھیلائے ہوئے دام سے نکل گئی تھی اور وہ اس نتیجے پر پہنچ گئی تھی کہ بھارت کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر  جن کے درمیان  مرکزی اقتدار گھومتا رہتا ہے، کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے چند روز پہلے بھی کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد میں پوشیدہ ہے،انہوں نے اس مقصد کے لئے اپنی خدمات بھی پیش کی ہیں اور ثالثی پر آمادگی ظاہر کی ہے،لیکن بھارت نہ صرف ایسی کسی پیشکش کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں، بلکہ اب تو اس نے کشمیر کی قانونی حیثیت ہی تبدیل کر دی ہے اور جس دفعہ کے تحت کشمیریوں کو اندرونی خود مختاری حاصل تھی وہ آئین سے حذف کر دی گئی ہے،اب پورے بھارت سے کارپوریٹ سیکٹر کو کشمیر میں جائیدادیں خریدنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی، کشمیریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اُنہیں کہا جا رہا ہے کہ اِس طرح ریاست میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گا، ایسا ہی لولی پاپ پنجاب کے کسانوں کو بھی دینے کی کوشش کی گئی،جو کشمیر کی ہمسایہ ریاست ہے اور جس کے کسانوں نے نئے زرعی قوانین کے خلاف کئی ماہ سے تحریک شروع کر رکھی ہے اور شدید سرد موسم میں بھی وہ سڑکوں سے اُٹھ کر نہیں گئے، اب وہ اپنی تحریک کو تیز تر کرنے اور مرکزی شاہراؤں کو بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، کشمیری عوام نے بھی ریاست کے اندر نئے جبری قوانین کو قبول نہیں کیا اور ڈیڑھ برس کا عرصہ گذر جانے کے باوجود آج تک ریاست میں حالات معمول پر نہیں آ سکے اور آٹھ لاکھ کے قریب بھارتی فوج  ظلم و ستم کے تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود جذبہ حریت کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔

5 اگست کے غیر قانونی اقدامات کے بعد حریت رہنماؤں سمیت تمام کشمیری قیادت کو  یا تو جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا یا گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔ اِس دوران پس پردہ روابط کے ذریعے بعض کشمیری رہنماؤں کو رام کرنے کی کوشش کی گئی،لیکن حیران کن حد تک ایک بھی کشمیری رہنما نے مودی کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ مودی کا خیال تھا کہ جب جیلوں کے دروازے کھلیں گے تو یہ کشمیری رہنما حالات سے سمجھوتہ کر لیں گے اور کشمیر کی ”نئی حقیقت“ کو تسلیم کر کے ان کے ساتھ تعاون کریں گے،لیکن اُن کا یہ خواب منتشر ہو گیا۔ وہ کشمیری  رہنما بھی اُن کا ساتھ دینے کے لئے آمادہ نہیں ہوئے جو کبھی اُن کے ساتھ مل کر کشمیر میں مخلوط حکومت بنائے ہوئے تھے۔ اس کی تازہ ترین مثال محبوبہ مفتی ہیں، جنہوں نے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر زور دیا ہے اور اس کے بغیر امن کو خواب و خیال قرار دیا ہے۔ان حالات میں مودی حکومت کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے غیر قانونی اقدامات واپس لے اور کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرے۔ اقوام متحدہ کی ثالثی کی پیشکش قبول کرے اور کشمیریوں کو حق ِ خود ارادیت دے۔ امن کی خاطر سیاسی اناؤں کی قربانی کوئی مہنگا سودا نہیں ہے۔x

مزید :

رائے -اداریہ -