عالمی معیشت کے بارے میں آئی ایم ایف کی پیش گوئی

عالمی معیشت کے بارے میں آئی ایم ایف کی پیش گوئی
عالمی معیشت کے بارے میں آئی ایم ایف کی پیش گوئی

  

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے عالمی معیشت کی 2021ء میں کارکردگی کے بارے میں مثبت توقعات جاری کی ہیں جن کے مطابق عالمی معیشت میں جاری سال کے دوران توقع  سے 1 فی صد کم گراوٹ ظاہر ہونے کے امکانات ہیں۔ دسمبر 2020ء میں کئی ممالک نے کورونا کے خلاف ویکسین لانچ کر دی ہے، جس کے باعث معاملات میں تھوڑی بہت تیزی کی توقع ہے یہ بہتری، ہلاکت خیزی اور بربادی میں متوقع شرح میں 1 فی صد کمی کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے یہ ایک مثبت سوچ ہے کہ عالمی اداروں نے 2021 ء کے دوران ہونے والی، جس ہلاکت و تباہی کے بارے میں 2020ء میں تخمینہ سازی کی تھی کہ وہ شدید اور اتنے فی صد ہو گی اب ویکسین کی حتمی تیاری کے بعد اس ممکنہ و مجوزہ تباہی و بربادی میں 1 فی صد تک کمی ہو سکتی ہے۔ گو یا تباہی کا عمل جاری رہے گا مگر ذرا دھیرے دھیرے سے۔ 

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اب تک یعنی دسمبر 2020ء تک دنیا میں 100 ملین سے زائد انسان کورونا کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ 21 لاکھ سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔ شکار اور ہلاکت کا یہ عمل ھنوز جاری ہے پوری شدت کے ساتھ ہلاکت جاری ہے ہلاکت کے اس جاری عمل کے خاتمے کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا،کیونکہ کورونا کی نئی قسم نے جاری ہلاکت خیزی میں تیزی پیدا کر دی ہے کچھ ممالک میں ویکسین لگانے کی شروعات کے باعث یہ توقعات پیدا ہو گئی تھیں کہ 2021ء میں عالمی اقتصادیات میں بحالی کا عمل شروع ہو جائے گا، لیکن کورونا کی نئی ہلاکت خیزی نے ایسی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے نئے تخمینہ جات کے مطابق سال 2020-21ء  کے دوران 90 ملین سے زائد افراد غربت کی انتہائی پست سطح سے بھی نیچے گر چکے ہوں گے۔ اس طرح غربت کم کرنے کی 20سالہ کاوشوں کے نتیجے میں جو  لوگ غربت سے نکالے گئے تھے وہ سب 2020-21ء کے دوران ایک بار پھر غربت کی پست سطح تک گر چکے ہوں گے۔یہ ایک خوفناک صورت حال ہے کورونا نے عالمی، ملکی، علاقائی اور انفرادی اقتصادی سر گرمیوں پر شدید مضر اثرات مرتب کئے ہیں۔ کام کرنے والوں کی کثیر تعداد بے روزگار رہی اور بہت سے لوگ نیم بے روزگار قرار پائے۔ امریکہ جیسے عظیم الشان ملک کی حالت بھی پتلی ہو چکی ہے یہاں کورونا متاثرین کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے اور مرنے والوں کی تعداد بھی۔برطانیہ اور یورپی ممالک میں بھی ایسی ہی ہلاکت خیزی جاری ہے آئی ایم ایف نے 2020ء کے دوران عالمی معیشت میں 4.4 فی صد گراوٹ کا تخمینہ لگا یا تھا، جبکہ حتمی طور پر 3.5 فی صد کمی ہونے جا رہی ہے، یعنی  0.9 فی صد کم گراوٹ متوقع ہے۔ 

عالمی ادارے نے 2021ء میں عالمی معیشت میں 5.5 فی صد بڑھوتی کی پیش گوئی کی ہے یہ تیزی یا بڑھوتی کورونا ویکسین کی مرھون منت ہو گی، کیونکہ 2020 ء کے دورن مختلف ممالک کورونا کے خلاف ویکسین کی تیاری میں بڑی سرعت و سنجیدگی سے مصروف رہے ہیں اور ہنوز ایسی کاوشیں جاری ہیں اب کورونا سے نمٹنے کے لئے کئی ممالک ویکسین تیار کر بھی چکے ہیں اور لگانے کی ابتداء بھی ہو چکی ہے اِس لئے توقع کی جار ہی ہے کہ بہت سے لوگوں کو ویکسین لگنے کے بعد گروھی مدافعت Herd Immunity پیدا ہو گی اور معاشی معاملات میں تیزی پیدا ہو گی۔ متوقع بہتری کی دوسری وجہ امریکہ، جاپان اور کچھ دیگر بڑی معیشتوں نے کورونا کی معاشی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے ایسی پالیسیاں ترتیب دی ہیں جن پر عمل درآمد کے نتائج بارے دیکھتے سوچتے ہوئے یہ توقع پیدا ہو گئی ہے کہ 2021ء میں عالمی معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔ ہمیں معلوم ہے کہ امریکی معیشت دنیا میں سب سے بڑی ہے اسے عالمی معیشت کا انجن بھی کہا جاتا ہے 2021ء  میں اس کی شرح افزائش 5.1 فی صد ہو گی۔ یہ تخمینہ دو وجوہات کے باعث لگایا گیا ہے 2020ء میں امریکی معیشت میں 2 فی صد گروتھ ہوئی۔ گزرے سال کے آخر میں امریکی انتظامیہ نے 900 ارب ڈالر کا مالی پروگرام منظور کیا،جس سے معاشی سرگرمیوں میں کھلے پن کو فروغ ملے گی۔ ان دو عوامل کے پیش نظر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ 2021ء میں امریکی معیشت کی شرح افزائش 5.1 فی صد ہو گی۔ اس طرح امریکی معاشی گروتھ کے دنیا کے دیگر ممالک پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ 

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ نے 1900 ارب ڈالر کا ریلیف پیکیج دینے کا عندیہ دیا ہے اگر وہ اس میں کامیاب ہو گی تو 2021ء میں امریکی معیشت کی شرح افزائش میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ چینی معیشت کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ 2021ء میں اسکی شرح  افزائش 8.1 فی صد اور 2022ء میں 5.6 فی صد رہے گی، جبکہ اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ 2021ء میں 8.2 فی صد اور 2022ء  میں 5.8 فی صد شرح سے پھلے پھولے گی۔ ہندوستانی معیشت کی شرح افزائش  2021ء میں 11.5 فی صد ہو گی۔ یہ تخمینہ گزشتہ سال کے تخمینے سے 2.7 فی صد زیادہ ہے۔ دنیا کی تین بڑی معیشتوں کی شرح افزائش بارے آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں خاصی حوصلہ افزا ہیں حجم کے اعتبار سے تین بڑی معیشتوں کی افزائش کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ عالمی معیشت کا حال جیسا بھی ہو، مستقبل قریب خوشگوار اور حوصلہ افزا ہے۔

آئی ایم ایف نے زیر نظر رپورٹ میں کم آمدن والے ممالک کے حوالے سے تجویز کیا ہے کہ ان ممالک  کو بڑی اور ترقی یافتہ اقوام کی خصوصی اعانت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہو گی، کیونکہ ایسے ممالک کی معیشتوں پر کورونا بجلی بن کر گرا ہے ان کی بحالی کے لئے خصوصی پیکیج تر تیب دینے ہوں گے انہیں قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینا ہو گی کئی ممالک کے واجب الادا قرضوں کی ری شیڈولنگ بھی کرنا ہو گی، جبکہ کچھ ممالک کے قرضے معاف بھی کرنا ہوں گے تا کہ عالمی معیشت کی بحالی تا عمل جاری و ساری رہ سکے۔ 

مزید :

رائے -کالم -