انگریزی ادب کا، کار ِدشوار 

انگریزی ادب کا، کار ِدشوار 
انگریزی ادب کا، کار ِدشوار 

  

ادب جس لطافت کانام ہے زندگی کے رنگ اسکے بغیرمدھم محسوس ہوتے ہیں ادب اپنے معاشرے کا ایسا آئینہ ہے جس میں ہم معاشرے کے تمام رنگوں کو صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں ادب کی کرنیں کہیں تہذیب کے افق سے پھوٹتی ہیں توکہیں تخلیق کی زمین میں اسکے پھول کھلتے ہیں ادب کی کلیاں تحقیق کے گلستانوں میں چٹکتی ہیں تو کہیں شائستگی اور سلیقوں میں ڈھلتے ہوئے لمحوں کی خوشبو اسے آشکار کرتی ہے ادب خوش بیانی کی نرماہٹوں تو کبھی محبتوں کی گرماہٹوں میں پرورش پاتا ہے ادب اپنے مخصوص خدوخال رکھتا ہے کہ اسے جس زاوئیے سے بھی دیکھئے آنکھوں سے دل میں اترتی ایسی لذت پائیں جو رگ و جاں میں وہ شہد گھول دے کہ حیات میٹھے لمحوں کی امین بن جائے ہم کسی ادب کا مطالعہ کرتے ہوئے اسے جاننا چاہتے ہیں لیکن اس کیلئے لازم ہے کہ جس ادب کا ہم مطالعہ کررہے ہیں اسکی زبان پر ملکہ حاصل ہو اورہم کہ مجموعی طور اپنی زبان پر ایسا عبور نہیں رکھتے کہ اپنے ادب کو ہی ٹھیک طرح سے سمجھ لیں پھر دوسری زبانو ں کا ادب سمجھنا گویا بہت مشکل ہے اور اس اعتراف میں مضائقہ ہی کیا ہے کہ انگریزی ادب کو پڑھتے ہوئے ہماری طلب ہمیشہ تشنہ رہی ہے ہمارے انگریزی کے اکثر استاد مخصوص تدریسی نصاب تک محدود رہتے ہیں انہیں اس زبان کی موشگافیوں کا چنداں علم نہیں ہوتا یہ بھی ضروری نہیں کہ ہمارے انگریزی میں ایم اے کرنے والے تمام طلباء پر اسکی باریکیاں کھلتی ہوں اس کے لئے تو ایک رسا اور خلاق ذہن چاہئے ہوتا ہے ایسا ذہن جسے نہ صرف اردو بلکہ انگریزی میں بھی یکساں مہارت حاصل ہو کہ انگریزی ادب کا اردو میں ترجمہ دونوں زبانوں کا ماہر ہونا ڈیمانڈ کرتا ہے ہمدم دیرینہ پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین نے لوئس کزامیاں کے تاریخ ِ ادب انگریزی کا اردو ترجمہ کرکے نہ صرف بڑے لکھنے والوں کو حیران کیا ہے بلکہ اس مہارت سے اردو میں انگریزی ادب پیش کیا ہے کہ لگتا ہے جیسے لوئس کزامیاں نے اردو ترجمہ کیا اور ڈاکٹر تنویر حسین نے انگریزی کی تصنیف مرتب کی ہے ڈاکٹر تنویر حسین نہ صرف انگریزی اردو فارسی سمیت دیگر زبانوں میں مہارت تامہ رکھتے ہیں اس سے پہلے انکی کتب مزاج بخیر۔خوش آم دید۔

شاباش اور ہنس بے توقع دنیائے ادب میں مقبولیت حاصل کر چکی ہیں ڈاکٹر صاحب بنیادی طور پر طنز و مزاح لکھتے ہیں اور وہ بھی ایسا جس کی تخلیق اپنی تمام تر ذرخیزیوں کے ساتھ منظر پر آتی ہے ان کی تحریر میں تاثیر ہے لگتا ہے ڈاکٹر تنویر حسین دن کے اجالوں کے ساتھ رات کو تاروں کی چھاؤں اور جگنووں کی روشنی میں لکھتے ہیں تبھی تو انکی تحریروں میں چمک دمک ہے ’تاریخ ادب انگریزی‘ ڈاکٹر تنویر حسین کے کئی سال کی سعی بلیغ کا حاصل ہے کہ انہوں نے کبھی سالوں کا کام مہینو ں اور مہینوں کا کام دنوں میں نہیں کیا نہ ہی دھڑا دھڑ کتابیں لاکر کتب کی بے توقیری کی ہے بلکہ ادب کی شان کو سلامت رکھنے کے لئے سوچ کی راہوں کو استوار کیا ہے اور حیات کے کئی لمحات جو اپنے لئے گذارنے چاہئے تھے ادب کی خدمت کے لئے وقف کر دئیے ہیں کتاب انگریزی ادب کے طلباء کے لئے بڑی رہنما ہے جسے پڑھ کر ان پر انگریزی ادب ایسے آشکار ہوکہ کوئی الجھاؤ باقی نہ رہے میں سمجھتا ہوں ایسی کتاب کو تدریسی نصاب کا حصہ ہونا چاہئے تاکہ طلباء آسانی سے انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کر سکیں میں نے یہ ترجمہ پڑھا تو حیران ہواکہ ڈاکٹر صاحب نے اسے ایسے اردو کا جامہ پہنایا ہے کہ لوئس کزامیاں اگر زندہ ہوتا تو انکے ہاتھ ضرور چومتا انگریزی ادب کی تاریخ متعدد بار لکھی گئی ہے لیکن کزامیاں کو پڑھ کر لگتا ہے کہ پہلے سے لکھی گئی تواریخ تشنہ تھیں اور ڈاکٹر تنویر حسین  کے ترجمے سے لگتا ہے کہ انہوں نے اسے اردو ترجمے میں ڈھال کر سیراب ہی کر دیا ہے ڈاکٹر صاحب دیگر مصنفین سے وہ فوقیت حاصل کر گئے ہیں کہ جو کزامیاں نے انگریزی ادب میں دوسرے مصنفین پر کی میں اپنے شعراء ادباء اور نقادوں کا معترف ہوں کہ دیگر نے بھی اپنے فنی چراغ روشن کئے لیکن ڈاکٹر تنویر حسین نے ایسا سورج اگا دیا ہے کہ جس کی لو دوردورتک اجالے کرے گی انہوں نے جس عمیق نظری سے انگریزی ادب کا مطالعہ کیا ہے وہ مشاہدات سے ہم آہنگ ہے کہ جیسے انہوں نے جس ادب کا ترجمہ کیا ہے یہ اس معاشرے میں پرورش پا چکے ہوں طلباء نے پہلے بھی انگریزی ادب کو سمجھنا چاہا ہوگا لیکن ڈاکٹر صاحب نے حقیقی معنوں میں ترجمہ کرکے واضح کر دیا ہے اس ترجمے میں آسمان کی بے کراں وسعتوں اور زمیں کی اتھاہ گہرائیوں جیسا علم ہے جس میں ڈاکٹر صاحب کے فن کی رعنائیاں نظر آتی ہیں جس میں انگریزی ادب کے آسان راستوں کا انتخاب کیا گیا ہے تاکہ پڑھنے والے کسی دشواری سے دوچار نہ ہوں کیونکہ ترجمہ ایسا مشکل کام ہے جس میں مترجم کی قلبی کیفیت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے کہ اسکا اس کام میں لگاؤ کس درجہ ہے۔ ڈاکٹر تنویر حسین نے جس دلجمعی سے ترجمہ کیا ہے انہوں نے صرف ادب کا فروغ ہی مقدم جانا ہے ڈاکٹر صاحب نے انگریزی ادب کے ترجمے میں جو نیاکام کیا ہے وہ یہ ہے کہ ا نگریزی ادب کو ہم کتنا ہی کیوں نہ سمجھ لیں پھر بھی کہیں کچھ کمی رہ جاتی ہے بس اسی کمی کو ڈاکٹر تنویر حسین نے پورا کیا ہے میں سمجھتاہوں اگر ڈاکٹر تنویر حسین ایسے صاحبان علم و ہنر کی حکومتی سطح پر سرپرستی کی جائے تو بعید نہیں کہ ہم تعلیم میں نئی اور خوشگوار جہتوں کی طرف گامزن ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -