بلدیاتی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں با اختیار بنانے کیلئے رولز میں ترامیم کیلئے کام جاری 

بلدیاتی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں با اختیار بنانے کیلئے رولز میں ترامیم ...

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا حکومت نے رواں سال ستمبر کے مہینے میں بلدیاتی انتخابات کے کامیاب انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ روابط شروع کر دیئے ہیں جس کے تحت حلقہ بندیوں سمیت دیگر اُمور کو حتمی شکل دی جارہی ہے جبکہ صوبائی حکومت بلدیاتی حکومتوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لئے متعلقہ رولز میں ترامیم پر بھی کام کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے منگل کے روز پشاور میں ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ دور حکومت میں بلدیاتی حکومتوں نے عوام کی حقیقی معنوں میں نہ صرف خدمت کی بلکہ نچلی سطح پرعوام کو درپیش مسائل کو بھی احسن طریقے سے نمٹانے میں فعال کردار ادا کیا جسکی بدولت عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ دوبارہ منتخب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صوبائی حکومت اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر یقین رکھتی ہے تاکہ عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں۔کابینہ کا اجلاس منگل کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کابینہ اراکین کے علاوہ چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔  اس موقع پر معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے صوبائی کابینہ کی جانب سے صوبے کے عوام کو صحت سہولت کارڈ کی توسیع پر مبارکباد پیش کی اور واضح کیا کہ یہ منصوبہ فلاحی ریاست کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے جس کے ذریعے صوبے کے کسی بھی کونے میں بسنے والے عوام کو مفت صحت سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔معاون خصوصی برائے اطلاعات نے آگاہ کیا کہ صوبے میں گندم اور چینی کی کوئی قلت نہیں ہے اور موجودہ حکومت گندم اور چینی کی وافر مقدار میں موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے جس میں درآمداد اور ڈومسٹک پروکورمنٹDomestic procurement بھی شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پرائیویٹ ٹسٹنگ ایجنسیوں کے حوالے سے عوامی شکایات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں کابینہ اراکین شہرام خان،میاں خلیق الرحمان، کامران بنگش تیمور سلیم جھگڑا،وزیر زادہ اور ریاض خان شامل ہونگے۔ یہ کمیٹی پرائیویٹ ٹسٹینگ ایجنسیوں کے بارے ریگولیٹری میکانیزم کے ساتھ ساتھ ایٹا اور خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی استعداد کار بڑھانے کے لئے تجاویز دے گی اور اپنی حتمی رپورٹ دو ہفتوں میں پیش کرے گی۔صوبائی کابینہ نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں ردوبدل کے باعث پیدا ہونے والے مسائل پر غوروخوص کے حوالے سے بھی کمیٹی تشکیل دی جو اپنی رپورٹ دو ہفتوں میں پیش کرے گی۔ کامران بنگش نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس ہر ہفتہ کی بجائے ہر ماہ کی یکم اور پندرہ تاریخ کو منعقد کئے جائیں گے۔ 

مزید :

صفحہ اول -