پی ڈی ایم کا مخمصہ

پی ڈی ایم کا مخمصہ
پی ڈی ایم کا مخمصہ
سورس: PMLN

  

عمران خان نے شان بے نیازی سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مطالبے پر 31 جنوری 2021 تک استعفی دینے سے صاف انکار کردیا  جس کے بعد پی ڈی ایم 4 فروری کو سربراہی اجلاس منعقد کررہی ہے کہ “کیا کیا جائے”۔ آئیے جائزہ لیں کہ یہ اتحاد کیا کیا کرسکتا ہے اور اس کی کیا حدود ہیں ؟

سر دست تو یہ لگتا ہے کہ لانگ مارچ ، استعفے اور عدم اعتماد اور جنرل الیکشن تک کا راستہ بنانا متمع نظر ہے۔  جن کے سٹیک ہائی ہیں وہ نظام میں رہتے ہوئے اور جن کے پاس کچھ نہیں وہ آر یا پار کا مشورہ دیں گے۔ مسلم لیگ نواز اور انکے لیڈر میاں محمد نواز شریف نے یہ حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ انقلابی نعرے ووٹ کو عزت دو کو سینچنا ہے یا انتخابی سیاست کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے استعفے نہیں دینے ، اور سینٹ و بلدیاتی انتخابات میں جانا ہے اور اس حکومت کو نیم اور شیم کے ذریعے شرمندہ کرتے جانا ہے،  شاید گرانا نہیں ہے۔

 اگر تو مقصد اس ہائیبرڈ نظام سے نجات ہے اور نواز لیگ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیاں ، جمہوریت کو پہنچنے والے نقصان اور سینٹ اور بعدازاں جنرل سلیکشن 2018 میں فوج کے در پردہ کردار پر کوئی معنی خیز احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتی ہے جسکے لئے ذہن سازی کی جاچکی ہے تو لانگ مارچ، استعفے ، ہاؤس خالی کرنا ، احتجاج اورمیڈیا سول سوسائٹی تاجر مزدور عوام کیساتھ ملکر جدوجہد جاری رکھنا ایک مضبوط فیصلہ ہوسکتا ہے ۔ تاوقتیکہ موجودہ حکومت مستعفی نہیں ہوتی نئے انتخابات کے انعقاد کے لئے عبوری حکومت کا اعلان نہیں ہوتا تب تک یہ تحریک جاری رہنی چاہیے کا اعلان کیا جاسکتا ہے ۔ اور یہ بھی کہ اگر حکومت نہیں گرتی تو تحریک نے 2 سال کیسے عوامی دلچسپی برقرار رکھنی ہے یہ قائدین پر منحصر ہوگا۔ اگر احتجاج نہیں کریں گے تو لیڈرشپ ملک سے باہر اور تمام اپوزیشن پابند سلاسل آخر کس لئے ہے۔ کوئی تو وجہ ہے جس کی وجہ سے ملک میں کہرام مچا ہوا ہے۔

 پارلیمانی جمہوریت میں استعفے دینا بہترین حل نہیں ہے یہ توجیح مانی جاسکتی ہے لیکن ہایبرڈ نظام میں تادیر شرکت جبکہ حزب اختلاف جیلوں میں ہو تو نظام میں موجودگی نظام کو قانونی شکل دینے کی ایک راہ ہے جو قابل قبول عمل نہیں ہے۔ ن لیگ مجموعی طور پر دنگا فساد نہ کرنے والے شریف لوگوں پر مشتمل ضرور ہے لیکن اپنے حق کے لئے لڑنے والے لوگوں کی ان میں کمی بھی نہیں ۔ پی ڈی ایم مخمصے میں ہے کہ استعفی دیں یا نہ دیں ۔ لیکن میرے خیال میں پی ڈی ایم کے پاس اپنے تصوراتی بیانئیے کی وجہ سے استعفوں کا آپشن رد کرنے کی سہولت محدود ہے۔ وہ اسے تھوڑا موخر کرسکتے ہیں ، کالی پٹیاں باندھ کر شریک محفل ہوسکتے ہیں لیکن بالکل مسترد نہیں کرسکتے۔

 استعفی نہ دینے کی صورت میں الیکشن الیکشن کھیلنا ان ہاؤس ہی رہ جائےگا تاوقتیکہ عدم اعتماد کسی چارٹر کا نتیجہ اور حصہ ہو اور اس سے حتمی نتیجہ عام انتخابات کی صورت میں ہی نکلے ۔ اب آپ چاہے سینیٹ انتخابات میں حصہ لیں یا بلدیاتی انتخاب میں امیدوار کھڑے کریں یا عدم اعتماد کریں وہ ہی لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں گے جو بات چیت ، اسٹیٹس کو اور حکومت لینے کی جستجو میں ہوں گے اور معتدل کارساز متبادل کے طور پر اپنا نام آگے بڑھائیں گے۔ ن لیگ سلیکشن سے پہلے یہ موقع گنوا چکی ہے ۔ اب اتنا کچھ ہونے کے بعد شاید اخلاقی طور پر ایسا ممکن نہ ہو کہ وہ اس سیٹ اپ میں متبادل کیلئے جدوجہد کریں لیکن یہ راج نیتی ہے اگر استعفے نہیں دینے تو اختیار حاصل کرنے کے لیے اقتدار کا کڑوا گھونٹ پینے میں کیا قباحت ہے اگر حتمی نتیجہ آپکی منزل کا حصول ہو۔

 ان تمام معاملات میں حکومت وقت کا کردار یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا وہ جہاں حزب اختلاف کو نمایاں نہیں ہونے دے گی وہیں ان پر حکومتی عذاب بذریعہ نیب ایف آئی اے اور منشیات اسمگلنگ روکنے والے اداروں کے ذریعے تیز کیا جا سکتا ہے۔ ہم خیال گروپ ، بیانئے میں سوراخ اور لیڈرشپ کا عوام میں نہ ہونا انکے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو کیک کا حصہ دیکر ساتھ ملایا جاسکتا ہے اور انتخابات کے مختلف مراحل میں الجھا کر ان کو انکے وسیع تر مقاصد سے دور کیا جاسکتا ہے۔ آخرکار ان وسیع تر مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے مقامی گھوڑے مناسب تعداد میں قطار اندر قطار دستیاب بھی ہیں جو اسٹیٹس کو کے حامی ہیں ۔

 پی ڈی ایم کا مسلہ یہ نہیں ہے کہ لانگ مارچ کرنا ہے، استعفے دینے ہیں یا نہیں یا ان ہاؤس تبدیلی لانا ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ اس ہائیبرڈ نظام سے جان چھڑانی ہے یا پرانی تنخواہ پر کام کرنا ہے۔ ووٹیں ڈالنی ہیں ، عدم اعتماد کرنا ہے بلدیاتی انتخاب لڑنا ہے تو میدان میں آئیں چھریاں کانٹے تیز کریں اور راج نیتی کے میدان میں بسم اللہ پڑھ کر اتر جائیں کچھ تو فیض یاب ہوکر تالاب میں پہلے ہی تیر رہے ہیں۔ باتوں سے انقلاب نہیں آتے اس کے لئے مکمل ہم آہنگی ، قربانی ، صبر اور دیوانگی درکار ہے۔اصول اور قائدے پر چلنے والے تھوڑے ضرور ہوتے ہیں لیکن تاریخ میں نام ان سر پھروں کا ہی رہتا ہے جو اصولوں کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔ گڈ لک 

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں. 

مزید :

بلاگ -