آئی جی پولیس کو خود مختاربنانے کی ضرورت 

آئی جی پولیس کو خود مختاربنانے کی ضرورت 
آئی جی پولیس کو خود مختاربنانے کی ضرورت 

  

ایسا نہیں ہے کہ ساری کی ساری پولیس برے لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس میں اوپر سے لے کر نیچے تک اچھے لوگ بھی موجود ہیں، اور یہی لوگ پولیس کی نیک نامی بھی سمجھے جاتے ہیں۔ پولیس نے امن وامان کی بحالی سمیت دہشت گردوں سے نمٹنے کے حوالے سے بھی بڑی جانی قربانیاں دی ہیں جس کا اعتراف ہر سطح پر کیا جانا چاہیے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ پولیس کے پورے نظام کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں اْن سے کیسے نمٹا جائے، اور کیسے اس تاثر کو مضبوط بنایا جائے کہ پولیس افراد یا طاقت ور مافیا کے مقابلے میں قانون کی حکمرانی کے تابع ہے؟ پولیس اصلاحات پر بہت زیادہ کام بھی ہوا ہے اورکئی اہم رپورٹیں تجاویز کی صورت میں موجود ہیں۔ مگر حکومتی عدم توجہی کے باعث ان تجاویز پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوسکا۔پنجاب کے موجودہ پولیس سربراہ راؤ سردار علی خان خاصے تجربہ کار پولیس افسر ہیں۔ اس سے قبل وہ”آئی بی“کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ وہ ایک مکمل پروفیشنل اور نیک نام پولیس افسر کی شہرت رکھتے ہیں اور پنجاب کے مجموعی پولیس نظام کے داخلی اور خارجی مسائل کے ادراک سمیت بہت کچھ کرنے کی خواہش اور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان کے بقول پولیس کے بہت سے اقدامات جو منفی نوعیت کے ہوتے ہیں، ان سے پولیس میں ہونے والے اچھے کام بھی پیچھے چلے جاتے ہیں۔ وہ پولیس کو بطور ادارہ ایک ایسی جگہ پر لے جانے کے خواہش مند ہیں جہاں جدیدیت کی بنیاد پر پولیس اصلاحات بھی ہوں اور پولیس کا عمومی تصور عوام دوست بھی ہو۔ پولیس کے تفتیشی نظام میں اصلاحات بھی ان کی ترجیحات کا اہم حصہ ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آئی جی پنجاب کس حد تک سیاسی مداخلتوں سے آزاد ہیں؟ اور جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں اْس کے لیے کیا انہیں مکمل خودمختاری حاصل ہے؟ کیونکہ پولیس نظام پر تنقید بہت آسان ہے جبکہ پولیس کا جو داخلی نظام ہے اس میں جب تک انتظامی سطح پر اداروں اور افسروں کو خودمختاری نہیں دی جائے گی، کچھ ممکن نہیں ہوگا۔ پنجاب پولیس کے سربراہ ’راؤ سردار علی خان‘ کو موجودہ حالات میں پولیس کے موجودہ نظام اور پولیس کے خراب طرزِعمل کے جو واقعات سامنے آرہے ہیں ان کو ایک بڑے چیلنج کے طور پر لینا ہوگا۔ پولیس کا نظام محض انتظامی اقدامات یا روایتی طریقوں سے ٹھیک نہیں ہوسکے گا۔ کینسر جیسے مرض کا علاج ڈسپرین کی گولی سے ممکن نہیں۔ پولیس کے حالیہ نظام کی درستی غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات سے ہی ممکن ہوگی۔ ایک بڑی سرجری پولیس نظام کو درکار ہے، اور یہ سرجری اْس وقت تک ممکن نہیں جب تک پنجاب پولیس کے سربراہ ’راؤ سردار علی خان‘کے پیچھے خود حکومت نہیں کھڑی ہوگی اور ان کو مکمل خودمختاری نہیں دی جائے گی۔وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو سمجھنا ہوگا کہ محض باتوں اور خالی نعروں سے پولیس کا نظا م درست نہیں ہوگا۔ اگر حکومت واقعی پولیس نظام کی اصلاح چاہتی ہے تو اسے پھر کڑوی گولی ہضم کرنا ہوگی، اور تمام تر سیاسی مداخلتوں سے پاک پولیس کا نظام اس کی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔ جب حکومت خود پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت نہیں کرے گی تو پولیس کی اپنی مداخلتوں کو بھی روکا جاسکے گا۔ پولیس نظام کی اصلاحات کا عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو خود پولیس کے سربراہ کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سابقہ حکمرانوں سے مختلف ہیں اور واقعی پولیس کی درستی چاہتے ہیں، اور یہ ان کی اہم ترجیح ہے۔

لاہور پولیس کے سربراہ فیاض احمد دیو نے شہر بھر میں پیش آنے والے اہم واقعات بالخصوص قبضہ گروپوں،بد معاشوں،شوٹرز پالنے والے مافیازاور قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لا کرپنجاب پولیس کی لاج رکھ لی ہے اہم واقعات کے ملزمان اور ان کے شوٹرز گرفتار کرنے پر ڈی آئی جی آپریشنزڈاکٹر عابد راجہ،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان،ایس ایس پی آپریشنزو انوسٹی گیشن اور ایس پی سی آئی اے شاباش کے حقدار ہیں۔ عمران خان کے ویڑن کے عین مطابق لاہور میں بڑے جرائم پیشہ اور غنڈہ عناصر کے خلاف آپریشن کرکے سی سی پی او فیاض احمد دیوپنجاب پولیس کے لیے سربلندی کا باعث بنے ہیں۔ اسے لاہور کی خوش قسمتی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں ایک ایسے پولیس آفیسر کو سی سی پی او کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے جس نے اپنی پوری سروس کے دوران ایک تگڑے اور جابر کمانڈرآفیسر کے طور پر شہرت پائی ہے۔یہ پنجاب پولیس کا وہ کمانڈر ہے جو اپنی فورس سے اپنے بچوں کی طرح محبت کرتا ہے۔ ان کی لیڈر شپ کوالٹی ہی ہے کہ وہ کسی بھی پریشر میں آکر غلطکام نہیں کرتے۔ کسی فورس کو لیڈ کرنے کے لئے صرف ایمانداری ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ لیڈر شپ کی صلاحیتوں کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔’فیاض احمد دیو‘ میں یہ دونوں خوبیاں موجود ہیں۔ ان کی ایمانداری کی گواہی تو سبھی دیتے ہیں لیکن جس طرح وہ ایماندار افسران کی ٹیم تشکیل دے کر کرائم کنٹرول کرنے کی صلاحیتیں منوا چکے ہیں وہ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب ایسا پولیس آفیسر تعینات ہو جو اپنی کارکردگی سے عوام کے دل جیتنا جانتا ہو تو اسے بھرپور سپورٹ کرنا بھی لازم ہے کیونکہ ایسے افسران ہی ہمیں اور ہمارے بچوں کو تحفظ کا احساس دلاتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -