آہ! ماں روشن سایہ!

 آہ! ماں روشن سایہ!
 آہ! ماں روشن سایہ!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 زندگی واقعی موت کی وادیوں میں فقط ایک آواز کا نام  نہیں، یہ تازہ دم آتی اور بے سمت دیواروں سے ٹکرا کر زندہ سلامت وہیں چلی جاتی ہے، جہاں سے آئی تھی۔ یہ دریاؤں کی لہروں کی مانند ہے جس کا بہاؤ کہیں رُکتا نہیں ہے۔ زندگی ہی زندگی!بھلا پھول کب مرجھاتا ہے، بس ذرا خوشبو کی صورت میں بکھر جاتا ہے۔ ایک بات ہے کہ خوشبو کے بدن کو چھوا نہیں جاسکتا، یہ بھی زندگی کا دوسرا روپ ہے۔12جنوری کی صبح راقم الحروف دنیا میں عظیم ترین رشتے،بے لوث دعاؤں، خلوص اور پیار  سے محروم ہو گیا۔والدہ محترمہ شہناز کوثر مرحومہ مغفورہ مختصر علالت کے باعث اپنے ربّ کے حضور پیش ہو گئیں۔ گزشتہ سال 6 فروری کو والد ِ محترم ڈاکٹر مختار احمد بٹ مرحوم و مغفور کے سایہئ عاطفت سے محروم ہو گیا۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں والدین کا دنیا فانی سے رخصت ہو جانا ہمارے خاندان کے لئے قیامت سے کم نہیں ہے۔دنیا میں والدین کا کوئی نعم البدل نہیں،مگر افسوس کہ اُنہوں نے چلے جانا ہے۔ برادرِ خورد کالم نگار فواد احمد بٹ، چھوٹی بہن کالم نگار غازیہ کا دُکھ وغم دیکھا نہیں جا رہا۔ لاتعداد آنسوؤں کی برسات اور بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے شہرِ خاموشاں میں اپنی بانہوں میں لئے لحد میں اُتار کر گھر لوٹ آیا۔یہ منظر زندگی بھر میری آنکھوں کو بھول نہیں پائے گا۔ والدہ محترمہ شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، صوم و صلوٰۃ کی پابند اور غریب پرور خاتون تھیں،تقریباً تین دہائیوں تک محنت و دیانت داری سے محکمہ تعلیم میں خدمات سرانجام دینے کے بعد باعزت ریٹائرمنٹ کی زندگی بسر کر رہی تھیں۔ ماں! ایک ٹھنڈا لیکن روشن سایہ ہوتی ہے۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالق ِ اکبر نے ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی ہے“۔ اے کاش! کہ کبھی کسی کی ماں نہ مرے،جب ماں دارِ بقا کو سدھار جاتی ہے تو لخت جگرفی الواقع جیتے جی مر جاتے ہیں، زندگی کے بغیر زندہ۔ 


یہ کیسی آب و ہوا ہے یہ کیسا موسم ہے
کہ پھول بھی ہمیں بے رنگ و بو نظر آئے
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے پیدا ہوئے تھے جبکہ ماں اُن کی بھی تھی۔ مطلب یہ کہ صفحہئ خاک پر قدرت نے بغیر باپ کے تو ایک انسان کو پیدا کر دیا، ماں کے بناء کوئی نہیں۔ پیغمبر بھی ماں کی گود میں پلتے اور اُن کی اُنگلی پکڑ کر چلنا سیکھتے  ہیں۔ مرحومہ و مغفورہ کس کس کے لئے ماں کے جیسی تھیں؟ یہ ایک لمبی فہرست ہے،نام گنوانا مگر اضافی ہے۔ قومی صحافت کے روشن ستارے، بے باک انسان میرے محسن قبلہ مجیب الرحمن شامی صاحب نے ہر مشکل وقت میں حوصلہ و ساتھ دیا،اُن کے ہمارے خاندان پر بے حد احسانات ہیں، زندگی بھر ہم اُن کے ممنون ہیں۔ بلاشبہ ماں جیسا رشتہ اور کوئی نہیں۔ دنیا میں صرف ایک ہی ہستی ماں ہے، اَن گنت ہاتھ دست بہ دعا ہیں، اے خداوند کریم! زندگی میں دانستہ یا غیر دانستہ کوئی لغزش ہوئی ہو تو معاف فرمادے۔ میری ماں کو بغیر حساب کتاب باغِ فردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔ (آمین یا رب العالمین)
تاحشر تیری دید کو ترسیں گی نگاہیں 
تجھ سے بچھڑنے کا کبھی سوچا ہی نہیں تھا

مزید :

رائے -کالم -