شیخ رشید کے عمران خان پر این اے 56 کا ٹکٹ بیچنے کے الزام پر تحریک انصاف کاردعمل بھی آگیا، کھری کھری سنادیں

شیخ رشید کے عمران خان پر این اے 56 کا ٹکٹ بیچنے کے الزام پر تحریک انصاف ...
شیخ رشید کے عمران خان پر این اے 56 کا ٹکٹ بیچنے کے الزام پر تحریک انصاف کاردعمل بھی آگیا، کھری کھری سنادیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات و پارٹی چیف الیکشن کمشنر رووف حسن نے کہا ہے کہ شیخ رشید احمد کے ساتھ سیاسی اتحاد پارٹی کی سنگین غلطی تھی جس کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں، شیخ رشید احمد گیٹ نمبر 4کی پیداوار تھے ، یہ الگ بات ہے کہ گیٹ نمبر چار والے بھی انکو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، شہریار ریاض کے پارٹی ٹکٹ کے بارے میں جھوٹا الزام لگا کر شیخ رشید احمد نے اپنی اوقات دکھا دی ہے ،شیخ رشید نے بہت زور لگایا کہ پی ٹی آئی انکے مقابلے امیدوار کھڑانہ کرے مگر کپتان نے شہر یار ریاض پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ٹکٹ دے کر شیخ رشید احمد کے سارے خواب توڑ دئیے ہیں جس کی وجہ سے شیخ رشید احمد ڈس انفارمیشن پھیلارہے ہیں جس کی پارٹی شدید مذمت کرتی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ  پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں عمران خان کا پینل میدان میں اترے گا، انکے مدمقابل کوئی دوسرا پینل سامنے آتا ہے تو ووٹ ہوگا، وگرنہ عمران خان کا پینل بلا مقابلہ جیت جائے گا، پی ٹی آئی کی رابط ایپ میں جو ممبران رجسرڈ ہیں، و ہی الیکشن لڑنے کے اہل ہونگے ۔

سینٹرل سکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کامزید  کہناتھا کہ حلقہ این اے 56میں ہمارا امید وار شہر یار ریاض ہے جس نے شیخ رشید احمد اور حنیف عباسی کی دوڑیں لگوادی ہیں اور اپنی شکشت و بوکھلاہٹ سے شیخ رشید احمد نے پارٹی کے امیدواروں کے خلاف جو ڈس انفارمیشن پھیلائی ہے ، 8فروری کو ان کے عزائم کو ہم کاکام بنادیں گے۔ انکا کہنا  تھا کہ بلوچستان اور کے پی کے میں الیکشن ملتوی نہیں ہورہے،  چیف الیکشن کمشنر نے وضاحت کردی ہے ، 5فروری کو انٹرا پارٹی الیکشن ہونگے اور تمام عہدوں کے لیے پینل تشکیل دئیے جائیں گے اورانٹرا پارٹی مرکز اور تمام صوبوں میں کرائے جائیں گے ، عدالت عظمی نے یہ حکم دیا تھا کہ  اگر اس عمل سے روکا گیا تو یہ توہین عدالت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ٹرن اوٹ 60 فصید رہا تو دوتہائی اکثریت ہماری ہوگی، الیکشن کمیشن کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے اپنے نمائندے مقرر کرے،  الیکشن میں تمام کارکن حصہ لے سکتے ہیں۔  انکا کہنا تھا کہ ملک بدترین سیاسی بحران کا شکار ہے، تحریک انصاف کے کسی امیدوار نے جیتنے کے بعد منڈی لگائی تو اس کو جماعت میں واپس نہیں لیا جائے گا، کارکنان اسکا محاسبہ کریں گے ، سندھ اور پنجاب ہاوس کی طرح اس بار بھی ازاد امیدواروں کو خریدنے کے لیے پھر منڈیاں لگیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف کو بلے کا نشان نہ دیا گیا تو ہمارے پاس دوسری جماعت کے ساتھ اتحاد کا آپشن موجود ہے۔
 
 
 
 
 

مزید :

قومی -