انداز ہوبہو اِسی آواز پا کا ہے

انداز ہوبہو اِسی آواز پا کا ہے
 انداز ہوبہو اِسی آواز پا کا ہے

  

احمد ندیم قاسمی بھی کئی بار غلط فہمی کا شکار ہوکر دھوکہ کھا گئے۔کھرے اور وضع دار آدمی تھے۔ اپنے ساتھ ہونے والی اِس واردات کا لگی لپٹی رکھے بغیر اعتراف کرلیا:

انداز ہوبہو تیری آواز پا کا تھا

 باہر نکل کے دیکھا تو جھونکا ہوا کا تھا

وطن عزیز میں شب گزیدہ لہروں میں ٹی وی اور ریڈیو پر ”میرے عزیز ہم وطنو“ کی مخصوص گونج سنائی دیتی تو اِس ”ہو بہو اندازِ پا“ سے عوام کو اندازہ ہوجاتا تھا کہ ملک میں خیر کی طاقتیں ایک بار پھر برسر پیکار ہوگئی ہیں۔ تقریروں کا بقیہ حصہ صرف اِس انتظار میں سننا پڑ تاکہ اِس مسیحا کے دست وبازو کون کون ہیں اور اِس بار”نیا“کیا ہے“؟

گزشتہ پانچ سال میں پلوں کے نیچے سے پانی کچھ زیادہ ہی تیزی سے گزرنے کی وجہ سے پلوں کی روایتی مضبوطی کی جگہ خستگی نے لے لی ہے۔اِن پلوں پر محب وطن مسیحاﺅں کی بھاری ٹریفک کا داخلہ فی الحال خطرے سے خالی نہیں۔آئین کی رُوح جن مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ وہ آئین کو ڈھیل دینے پر آمادہ ہیں، نہ ہاتھ ہلکارکھنے پر۔اِس بار ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ حکمران سیاسی جماعتوں نے کچھ اپنے ماضی سے سیکھا اور کچھ اپنی سیاسی مجبوریوں سے۔اُنہوں نے”سیاں بھئی کوتوال“کی طرف بار بار دیکھنے کی بجائے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔وفاق اور صوبہ پنجاب نے مفاہمت کے نئے حسب حال معنی دریافت کرکے اپنے پانچ سال پورے کرلئے ہیں ۔ جمہوریت اور اپنی اپنی حکومتوں کی برکتوں سے اِن سیاسی جماعتوں کے پاس نو من سے کئی گنا زیادہ تیل جمع ہوچکا ہے۔اب الیکشن کی رادھا کا انتظار تھا کہ وہ آئے اور اقتدار کا ناچ گانا شروع ہو ۔لیکن اب گزشتہ چند ہفتوں سے یہ اندیشہ سر اُٹھا رہا ہے کہ رادھا شاید نہائی اور دھلی دھلائی ہی بیٹھی رہے گی۔اِس کے ناچنے کا سٹیج تو ایک نئے کھیل کے لئے مختص ہونے جارہا ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کے آنے کا غلغلہ کئی مہینوں سے تھا۔ گلی محلوں میں استقبالیہ دفاتر اور اُن کے طربیہ گیتوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ”عوامی استقبال“ غیر معمولی ہوگا۔ مینار پاکستان کا انتخاب معنی خیز تھا۔ٹی وی میڈیا پر اُن کے نعرے کی گونج کمرشل اشتہارات سے بھی سوا تھی.... ”سیاست نہیں،ریاست بچاﺅ“۔جلسہ ہوا ،ایک عالم دیوانہ ہوا،میڈیا فریفتہ ہوا۔جو بھونچال مینار پاکستان سے شروع ہوا،لانگ مارچ کی مجوزہ تاریخ نزدیک آنے سے اِس میں روزانہ کی بنیاد پر ریکٹر سکیل کے سے ایک آدھ مزید عدد کا اضافہ ہورہا ہے۔

ایم کیو ایم اُن کی ہم نوائی کے لئے جیسے تیار ہی بیٹھی تھی۔سو پہلی فرصت میں دستِ تعاون دراز کردیا۔ چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی نے ڈاکٹر طاہر القادی سے ملاقات کے بعد انکشاف کیا کہ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے بعد اُن کا دل ودماغ روشن ہوگیا ہے۔ روشنی کی یہ کرنیں اب جابجا پہنچ رہی ہیں۔ اِن سکہ بند سیاسی کارسازوں کا یہ عالم ہے تو ہما شما سیاسی پارٹیوں کا عالم کیا ہوگا،اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

 ڈاکٹر طاہر القادری کیا چاہتے ہیں، کیسے چاہتے ہیں، اِس وقت ہی کیوں چاہتے ہیں، اِس قدر قلیل وقت میں کیوں چاہتے ہیں، مک مکا کا غصہ دھمکاکر کیوں نکالنا چاہتے ہیں،التحریر سکوائر اسٹائل کے ذریعے ہی کیوں چاہتے ہیں، میڈیا پر ایک بار پھر ہیجان طاری ہوگیا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے قدیم اور نوزائیدہ ممدوحین، اینکرز اور کالم نگار سبھی شب و روز اِن سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہے ہیں۔اتنے جواب نہیں ملے ،جتنے نئے سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔جتنے منہ،باتیں اُس سے کہیں زیادہ ہورہی ہیں۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(نواز) ابھی تک تیل کے کنوئیں اور تیل کی دھار کو سمجھنے کی کوشش میں ہیں۔ماضی قریب کے تمام اصلی یا مصنوعی بحرانوں کی طرح میڈیا اِس لمحہ عظیم کی عظمت اُجاگر کرنے میں ہلکان ہورہا ہے۔ اقتدار کے وہ تمام کھلاڑی، جو طاقت کے سرچشموں کی خوشبو دُور سے سونگھنے میں ماہر ہیں، راتوں رات ڈاکٹر صاحب اور اُن کے انقلابی پروگرام پر بیعت ہورہے ہیں۔ اِس سارے کھیل کے خدوخال میں کئی مانوس اشارے دکھائی دے رہے ہیں۔موضوع کا انتخاب، وقت کا چناﺅ،مرکزی کردار کی آمد اور رونمائی، بحران کی چشم زدن میں تشکیل،میڈیا کا ہذیان،طاقت کے خوشہ چینوں کی فوری بیعت اور اصل ہدف اور منزل کے ساتھ چسپاں حب الوطنی کا عظیم پرچم....” وہ باتیں تیری وہ فسانے تیرے“۔

 ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ ایک جرم سے پھیل کر جنون کی شکل اختیار کرگیا ۔شاہ محمود قریشی اِسی جنون میں چندھیا گئے۔کیری لوگر بل جیسا سفارتی اور تکنیکی مسئلہ قومی سلامتی کے لئے حرزِ جان بن گیا۔نیٹو سپلائی کی بندش کے لئے اُٹھنے والا غیرت کا طوفان شاید ملکی سرحدیں ہی پار کرجاتا، مگر یہ تینوں بحران میڈیا کے ذریعے ہفت آسمان تک پہنچنے کے بعد یکدم قصّہ پارینہ ہوگئے ۔دُور کہیں سرگوشیوں میں طے پانے والے پیمان واقرار کے بعد یہ بحران حافظے سے ہی محو ہوگئے۔ دُور کیا جانا، منصور اعجاز نے شمع جلائی تو قومی سلامتی کے پروانے دیوانہ وار آئے۔تین ہائی کورٹس کے چیف فیصلے پر مامور ہوئے۔ کئی ماہ جان کنی کے عالم میں پہاڑ کھودنے کے بعد چوہا ملا تو معاملہ اور کیس داخل دفتر ہوا۔اِن سب اصلی اور نیم اصلی بحرانوں میں چند چیزیںمشترک تھیں۔ آناً فاناً ایک مسئلہ قومی سلامتی کے لئے زندگی موت کا مسئلہ بن گیا۔ میڈیا پر ہیجان طاری ہوگیا۔ اداروں میں بظاہر ٹکراو¿ کا گمان بھی گزرا.... اور پھر رات گئی بات گئی، میڈیا کا ہیجان اور بحرانوں کا طوفان بند کواڑوں کے پیچھے ایک آدھ پیادے اور شہہ مات کے کام آگیا.... ”کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ٹھہری“۔

حالیہ طوفان میں ہمیں مانوس مشابہت دکھائی دے رہی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری ہوں، ایم کیو ایم یا چودھری شجاعت حسین، یہ گیلی زمین پر پاو¿ں رکھنے کے روادار کبھی ہوئے، نہ کبھی ہوں گے۔”سٹیک ہولڈرز“ کے اپنے ہاتھ خیر سے لمبے بھی ہیں اور آہنی بھی۔ اُن کے لئے اتنے پیٹوں میں مروڑ اٹھانے کی انہیں کل ضرورت تھی، نہ آج۔ آئین کی چند شقوں کی حرمت کا خیال عین الیکشن سے قبل آنا اور اس پر فرض شناس اور محب وطن قوتوں کا ٹوٹ پڑنا بھی غیر مانوس نہیں لگا۔ٹیکنو کریٹس کی ”مسیحا حکومت“ کا ذکر کچھ عرصے سے ہو رہا تھا۔ اب حالیہ غلغلے میں نگران حکومت کے چوغے میں طویل المدت نگرانی کی شکل میں مسیحائی ہویدا ہو رہی ہے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ مسیحاو¿ں کی فہرست میں ایک آدھ مزید نیا نام شامل ہو رہا ہے۔ طریقہءکار کے اشارے بھی واضح ہو رہے ہیں۔ کوئی التحریر سکوائر کے حوالے دے رہا ہے، کوئی بنگلہ دیش ماڈل کے۔

اِس طوفان کے موضوع کی انفرادیت، اس کی بنیاد، عمارت اور اس کے رنگ و روغن کے تمام آثار بہت مانوس ہیں۔ ”لانگ مارچ“ کی جملہ تاریخ کی کوکھ سے آج تک جو برآمد ہوا، اُس سے بھی قوم خوب مانوس ہے، البتہ اِس بار نیا یہ ہے کہ روایتی نتیجے تک پہنچنے کا طریقہ اور پیکج نیا ہے۔ ” انداز ہو بہو اُسی آواز پا“ کا ہے جو چند سال کے وقفے کے بعد نیم شب ریڈئی لہروں پر ہمہ تن گوش عزیز ہم وطنوں تک پہنچتی رہی ہے۔ اگر سکرپٹ لکھا ہوا ہے تو خوب سوچ سمجھ کر لکھا گیا ہے۔ اگر یہ سب بے ساختہ ہو رہا ہے تو کمال ہو رہا ہے۔

طوفان کا جوبن ہوگا تو معاملے کی پرتیں مزید کھل جائیں گی، لیکن اِس حد تک طوفان کی پذیرائی اِس امر کی غماز ضرور ہے کہ جمہوری دور میں کوتاہیوں کے شگاف جگہ جگہ ہیں، جس سے انقلاب کے بانیوں اور طوفانوں کے خالقوں کو ہر چند سال بعد موقع مل جاتا ہے، لیکن طوفان اُٹھنے، آگے بڑھنے اور چرند پرند کے ہیجان سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آنے والے دن نہایت دلچسپ اور فیصلہ کن ہوں گے، نتیجہ مانوس ہوگا یا غیر مانوس، شاید مانوس!!  ٭

مزید :

کالم -