دستور کا مجرم

دستور کا مجرم
دستور کا مجرم

  


ایک آمر حکمران کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہوآمریت پھر بھی بری ہوتی ہے اور ایک جمہوری حکمران کتنا ہی برا کیوں نہ ہو جمہوریت پھر بھی اچھی ہوتی ہے!

قانونی طور پر جنرل پرویز مشرف پر فردِ جرم تو اب عائد ہوئی ہے،اخلاقی اور آئینی طور پر تو 12اکتوبر1999سے عائد ہے، ہر وہ شخص جو فرد کی آزادی، میگنا کارٹا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبے پر یقین رکھتا ہے،وہ خواب میں بھی آمر مشرف کی حمایت کا نہیں سوچ سکتاکیونکہ آمریت میں فرد کی مرضی سلب ہوتی ہے اور جمہوریت ہوتی ہی فرد کی مرضی ہے!....دنیا کا کوئی بھی دستور فرد کی آزادی کے سوا کچھ نہیں!

آمریت نے بزور بندوق عقلِ کل کا لبادہ اوڑھا ہوتا ہے جبکہ جمہوریت ہوتی ہی عقل کُل ہے!

لہٰذا جنرل پرویز مشرف نے جس جرم کا ارتکاب ایک جمہوری حکومت کو برطرف کرکے کیا وہ ان کی تمام تر قومی خدمات کے عوض بھی معاف نہیں کیا جا سکتاکیونکہ ان کی تمام تر قومی خدمات جمہور کی مرضی و منشا کے خلاف تھیں، انہیں عوام کی تائید حاصل نہ تھی، البتہ کچھ موقع پرست، چند مفادپرست خدمچیوں کی ضرور تھی جو ہر دور میں ہر حکمران کے خدمچی ہوتے ہیں!

انہوں نے لگ بھگ دس برس تک پاکستان میں جمہوری عمل میں بگاڑ پیدا کئے رکھا، بنیادی حقوق کی کھلے بندوں پامالی ہوئی، بلوچستان میں ڈاکٹر شازیہ کیس ہوا، مرحوم اکبر بگٹی کو پتہ ہی نہ چلا کہ انہیں کس طرف سے نشانہ بنایا گیا ، میڈیا پر پابندیاں عائد رہیں، عدلیہ کو نظر بند کیا گیا اور بے نظیر بھٹو کو وہ سیکورٹی حصار مہیا نہ کیا گیا جو آج کل خود ان کو میسر ہے کہ دہشت گرد بم چھپا چھپا کر تھک گئے ہیں لیکن سیکورٹی پر تعینات پولیس افسران جھٹ سے بارود کی بو سونگھ لیتے ہیں اور ساتھ ہی میڈیا کو بھی بتا دیتے ہیں، جنرل مشرف کی سیکورٹی کو اتنا ہی خطرہ ہے تو عدالت کے اندر ہی ایک پنجرہ بنا کر اس میں انہیں رکھ لیا جائے اور ایک ہزار پولیس والے ان کے اردگرد حفاظت کے لئے مقرر کردیئے جائیں تاکہ ان کے خلاف غداری کے مقدمے کو جلد نپٹایا جا سکے!

جنرل مشرف کے بقول فوج ان کے خلاف غداری کے مقدمے پر تشویش میں مبتلا ہے، ہماری فوج کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایک ایسے آمر کے لئے پریشان ہو رہی ہے (اگر ہو رہی ہے ) جس نے دس برس ساری قوم کو پریشان کئے رکھا، ہمیں تو لگتا ہے کہ جنرل مشرف تھوک سے پکوڑے تلنے کے چکر میں ہیں ، جو کبھی ممکن نہ ہوگا!

جنرل مشرف دستو ر کے نہیں اس قوم کے بھی مجرم ہیں، غداری کے مقدمے سے ان کی گلوخلاصی دستور کے آرٹیکل 6کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عضوِ معطل میںتبدیل کردے گی اور بات یہیں نہیں رکے گی بلکہ پورا آئین ہی اپنی اہمیت و افادیت کھوبیٹھے گا، اس لئے جنرل مشرف ایسا تاثر نہ دیں کہ پاکستان کی فوج انہیں بیچ عدالت سے اٹھا لے جائے گی اور ہر کوئی منہ دیکھتا رہ جائے گا!....ریاست پاکستان کا آئین اس کے شہریوں کا Collective Consciousہے اور عدلیہ کا وقار آئین کی پاسداری سے ہے، آئین سے ماورا کوئی نہیں ....حتیٰ کہ عدلیہ بھی نہیں، آئین ہے تو عدلیہ ہے اور آئین ہی عدلیہ کی طاقت ہے!

ہو سکتا ہے کہ جنرل مشرف نے انفرادی طور پر لوگوں کو نوازا ہو، ان کے کام کئے ہوںاور ان کے لئے آسانیاں اور فراوانیاں پیدا کی ہوں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پوری قوم کو ان کے عہدہ صدارت پر فائز ہونے سے فائدہ ہوا ہو لیکن چونکہ وہ دستور کا مجرم ہے اس لئے ریاست ان کو بغیر پوچھ گچھ کئے نہیں جانے دے گی!.....اور اگر ریاست نے ایسا کیا تو کمزوری کا مظاہرہ کرے گی، دنیا ہم پر تھو تھو کرے گی ، اس لئے ہمیں مشرف کی نہیں منصف کی سننی چاہئے، ریاست بھی مشرف نہیں منصف کے ساتھ ہے!

موقع پرست اور انا پرست میں فرق ہوتا ہے، موقع پرست کے لئے موقع پرستی ہی اس کی انا ہوتی ہے، اگر موقع ضائع ہو جائے تو وہ اسے اپنی انا کے خلاف تصور کرتا ہے، ایسے ہی کئی موقع پرست جنرل مشرف کے گرد جمع ہیںاور سمجھتے ہیں کہ وہ چک شہزاد میں نہیں بلکہ جی ایچ کیو میں ہیں، لیکن ان کی کوئی حیثیت نہیں، آئندہ آنے والی نسلوں کو یہ فخر ہم عام پاکستانیوں نے دینا ہے کہ ان کے آباﺅاجداد دستور پر ، قاعدہ قانون پر یقین رکھتے تھے اور اس کی حفاظت کو عزیز ازجان تصور کرتے تھے، اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے گھروں میں نابینا نسلیں جنم لیتی رہیں گی جو اس کے سوا کچھ تخلیق نہ کرسکیں گی کہ !

تجھ کو دیکھا تو نہیں محسوس کیا ہے تجھ کو!

میں اندازے سے تری تصویر بنا سکتا ہوں

جنرل مشرف اور ان کے حواری کہتے ہیںکہ ہمارے پاس ملک ہے ، قیادت نہیں ہے، کبھی قیادت تھی اور ملک نہیں تھالیکن سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان میں قیادت کا خلا ہے تو کیا اس خلا کو فوج بھرے گی، نہیں ، ہرگز نہیں، ایسا ہوا تو پھر پاکستان کبھی اقوام عالم میں برابری کی بنیاد پر کھڑا نہیں ہو سکے گا، یوں بھی جنرل مشرف تو اب عالمی فورمز پر لیکچر بھی نہیں دیتے، اب ان کے اخراجات کون برداشت کررہا ہے، وہ اب خرچے کہاں سے کررہے ہیں؟

اسی طرح جب تک جنرل مشرف کے غداری کے مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوجاتا انہیں پریس کانفرنسیں ویڈیو کانفرنسیں کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ملزم ملزم ہوتا ہے، ان کی طرف سے آئین کی پامالی کے بعد پاکستان کے سیاسی نظام کی ناکامی کے تبصرے ایسے ہی ہیں جیسے کوئی 302کا ملزم قتل و غارت کے خلاف لیکچر دے !

اظہار رائے کی آزادی بلاشبہ فرد کا بنیادی حق ہے لیکن جس شخص نے آئین کو پامال کیا ہو وہ کیسے اس حق کے استعمال کا استحقاق مانگ سکتا ہے!

مزید : کالم


loading...