عراق ،صوبہ الانبار میں امن وامان ابتر،بیسیوں قیدی فرار

عراق ،صوبہ الانبار میں امن وامان ابتر،بیسیوں قیدی فرار

 بغداد(آن لائن)عراق کے صوبہ الانبار کے گورنر احمد خلاف الضیابی نے کہا ہے کہ ان کے صوبے میں امن وامان کی صورت حال ابتر ہوگئی ہے۔مسلح افراد نے الرمادی شہر میں چار پولیس اسٹیشنوں کو نذرآتش کردیا ہے اور وہاں سے بیسیوں زیرحراست افراد فرار ہوگئے ہیں۔صوبائی دارالحکومت رمادی میں مشتعل افراد نے چار تھانوں کے علاوہ دو فوجی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی ہے۔اس شہر میں عراقی فورسز کی اہل سنت کے احتجاجی کیمپ کو اکھاڑنے کے لیے کارروائی کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔گذشتہ دوروز میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں میں چودہ افراد مارے گئے ہیں۔وزیراعظم نوری المالکی نے اہل سنت کے احتجاجی کیمپ کے خلاف پولیس کے کریک ڈاو¿ن کے بعد الانبار کے شہروں سے فوج کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے مسلح افواج کو خود کو الانبار کے صحرا میں القاعدہ کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی تک محدود رکھنے اور شہروں کا انتظامی کنٹرول مقامی اور وفاقی پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔

عراقی کابینہ نے الانبار کے مکینوں کی حمایت حاصل کرنے لیے امداد مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے تحت تیل ،تجارت ،اور صحت کی وزارتیں خوراک ،ایندھن اور طبی سامان مہیا کریں گی۔دوسری وزارتیں بھِی صوبے میں ضروری اشیاء مہیا کریں گی۔رمادی کے نزدیک گذشتہ ایک سال سے جاری احتجاجی کیمپ کے خلاف خونین کریک ڈاو¿ن کے بعد اہل سنت کے عراقیہ اتحاد سے تعلق رکھنے والے چوالیس ارکان پارلیمان احتجاجاً مستعفی ہوگئے تھے۔انھوں نے الانبار سے فوج کے انخلائ اور گرفتار رکن پارلیمان احمد العلوانی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ادھر وزیراعظم نوری المالکی نے شورش زدہ مغربی صوبے الانبار میں ''سکیورٹی بریک ڈاون'' اور پولیس اسٹیشنوں پر مسلح افراد کے حملوں کے بعد شہروں سے فوج ہٹانے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک نشریے کے مطابق وزیراعظم مالکی نے کہا ہے کہ''ہم فوج کو نہیں ہٹائیں گے بلکہ اضافی فورسز الانبار میں بھیجیں گے''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ صوبے کے مکینوں اور حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...