خواب اور خواہش

خواب اور خواہش
 خواب اور خواہش

  


 سن 2014ءکی آمد سے قبل ہی لوگوں نے مختلف ایس ایم ایس کئے، اپنی اپنی رائے دیں ۔ ان میں ایک ایس ایم ایس یہ بھی تھا۔

سال بدلے گا

نتیجہ پھر وہی ہوگا، سنا ہے سال بدلے گا

پرندے پھر وہی ہوں گے، شکاری جال بدلے گا

بدلنا ہے تو دن بدلو، بدلتے کیوں ہو ہندسے کو،

مہینے پھر وہی ہوں گے، سنا ہے سا ل بدلے گا

وہی حاکم وہی غربت وہی قاتل وہی غاضب

بتاﺅ کتنے سال میں ہمارا حال بدلے گا

 سن 2013ء اپنی کروٹ بدل رہا تھا کہ حیدرآباد میں عوامی ورکرز پارٹی نے ایک بڑا جلوس نکالا، جس میں ملک میں زرعی اصلاحات لانے کا مطالبہ کیا گیا۔ زرعی اصلاحات کی حمایت اور ملک سے جاگیر داری کے خاتمے کے لئے عوامی ورکرز پارٹی نے ایک بڑے جلوس اور مظاہرے کا اہتمام کیا تھا۔سرخ پرچم تھامے پارٹی کے سینکڑوں حامی قاسم آباد سے پیدل مارچ کرتے ہوئے پریس کلب پہنچے جہاں مظاہرہ کیا گیا۔ بہت دِنوں بعد ایسا دیکھنے میں آیا کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے طویل مارچ کیا ہو۔ پاکستان میں زرعی اصلاحات کا مطالبہ ان بنیادی مطالبات میں شامل ہے، جسے تعلیم یافتہ طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ زرعی اصلاحات ملک سے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کر سکیں گی اور ملک میں ایک ایسی تبدیلی آئے گی، جو عام لوگوں کی خوشحالی کا سبب بنے گی۔ پاکستان کی آبادی کی بھاری اکثریت دیہی علاقوں میں رہتی ہے ۔ وہ ان بہت ساری سہولتوں سے محروم ہے، جو انہیں بہت پہلے مل جانا چاہئے تھیں۔ ان لوگوں میں سب سے زیادہ متاثر وہ آبادی ہے، جو کھیت میں کام کرتی ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ زرعی اصلاحات پر جو سیاست طویل عرصے سے کی جارہی ہے وہ آخر رنگ کیوں نہیں لاتی ، کوئی نتیجہ بر آمد کیوں نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو زرعی اصلاحات کیوں اور کیسے جیسے اہم ترین سوالوں پر غور کرنا ہوگا اور ان کے جواب خود لکھنے ہوں گے۔ بھارت میں جہاں ایک سال قبل قائم کی گئی عام آدمی پارٹی نے دہلی میں انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ۔ اس کی کامیابی کے اسباب کیا ہیں۔ کیا پاکستانیوں کی طرح صرف خواب دیکھنے اور خواہش کا اظہار کرنے سے کسی معاشرے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ خواب اور خواہش کی تعبیر تلاش کرنا ہوتی ہے، جس کے لئے عمل سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا۔ اروند کجریوال کی طرح اپنی ملازمت سے مستعفی ہو کر اپنے مقاصد کا تعین کر کے کسی جدو جہد کا حصہ بننا ہوتا ہے۔ یہ اِسی طرح ہے جیسے سندھ ہاری کمیٹی کے قیام کے 15سال بعد معروف ہاری رہنماءحیدر بخش جتوئی نے کیا تھا ۔ حیدر بخش جتوئی اور اروند کجری وال میں ایک بات ملتی جلتی نظر آتی ہے کہ دونوں نے ایسی سرکاری ملازمتوں سے استعفا دیا تھا، جس میں بہتر تنخواہوں کے ساتھ پر آسائش سہولتیں بھی موجود تھیں۔ دونوں انتخابی راستہ اختیار کر کے تبدیلی لانا چاہتے تھے۔ حیدر بخش نے اپنی سرکا ری ملازمت سے استعفا دیا اور ہاری تحریک کا حصہ بن گئے۔ سندھ ہاری تحریک منظم ہوئی ، سندھ میں ٹیننسی ایکٹ منظور کرایا گیا۔ اس ایکٹ کو منظور کرانے کے لئے ہاریوں کو سندھ اسمبلی کا گھیراﺅ کرنا پڑا تھا۔ سندھ بھر سے لوگ کراچی پہنچے تھے، تو ایکٹ منظور کیا گیا تھا۔ ٹیننسی ایکٹ کی منظوری ایک بڑی کامیابی تھی کہ جا گیر دار اور زمیندار اراکین سے ہاریوں کی بنیادی زندگی میں قانون کا سہارا لیتے ہوئے تبدیلی لانے کی منظوری حاصل کی جائے۔

پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ اگر پاکستان میں تبدیلی چاہتا ہے تو اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے قربانی تو دینا ہی ہوگی، لوگوں کو منظم کرنا ہوگا۔ ہاری تحریک نے سندھ میں ایک آنہ کی بنیادی پر رکنیت سازی کی تھی۔ ایک آنہ آج اہم نہ سہی، لیکن جس زمانے کی بات ہو رہی ہے اس زمانے میں ایک آنہ بڑی رقم تصور کی جاتی تھی۔ ایک لاکھ 60ہزار ہاریوں کو رکنیت دی گئی تھی۔ اس زمانے میں پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کے لئے کمیونسٹ پارٹی موجود تھی،آج تجزیہ کیا جائے تو سندھ ہاری کمیٹی کی جلد بازی کی سیاست نے ہی اسے دھچکا لگایا۔ نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ اتحاد اور کمیونسٹ پارٹی کی طرف جھکاﺅ سے اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ ہاریوں کو اس وقت مزید منظم کیا جانا چاہے تھا۔ حیدر بخش جتوئی کو انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہئے تھا۔ کجری وال نے دہلی کے انتخابات میںاکثریتی جماعت کی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد کانگرس کو ساتھ ملا کر حکومت سازی کر لی۔ کانگرس اور عام آدمی پارٹی کی سیاست میں بنیادی فرق ہے، لیکن عام آدمی پارٹی نے موقع ضائع کرنے کی بجائے اپنی شرائط پر حکومت کا حصہ بننا پسند کیا۔ حیدر بخش جتوئی خود ایک نشست پر انتخاب لڑ رہے تھے اور ان کے مقابلے پر تمام جاگیر دار اور زمیندار منظم ہو گئے تھے سو وہ شکست کھا گئے۔ ان کی اس شکست اور بعد میں ایوب مارشل لاءکے دوران حیدر بخش جتوئی کی طویل قید نے ہاری کمیٹی کو بٹھا دیا ۔

عوامی ورکرز پارٹی کے صوبائی صدر عثمان بلوچ کا یہ مطالبہ وزن رکھتا ہے کہ زرعی اصلاحات کی سب سے زیادہ ضرورت سندھ میں ہے، کیونکہ سندھ میں ہی سب سے زیادہ بے زمین ہاری ہیں۔ کھیتی کرنے کے لئے ان کے پاس زمین نہیں ہے، رہائش کے لئے نہ زمین ہے نہ مکان، انہیں اپنے ایک وقت کی روٹی کے لئے اپنے زمیندار کی طرف دیکھنا پڑتا پڑتا۔ غمی اور خوشی کے موقع پر انہیں اپنے ان ہاتھوں کو جن سے وہ زمیندار کے لئے دولت کماتے ہیں،پھیلانا پڑتا ہے اور مقروض بھی کہلاتے ہیں۔ نام نہاد قرضہ اترتا نہیں تو ان کی نسلیں اِسی زمیندار کی محتاج رہتی ہیں۔ ایسی محتاجی جو انہیں جبری مشقت کرنے اور نجی جیل میں پرہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وہ اس تماش گاہ میں پوچھتے پھرتے ہیں کہ پھر اُن کے ماہ و سال کیوں اور کیسے بدلیں گے۔ وہی حاکم وہی غربت وہی قاتل وہی غاضب، وہ یہ ہی پوچھتے رہتے ہیں کہ بتاﺅ کتنے سال میں ہمارا حال بدلے گا۔ جب تک پاکستان کے تعلیم یافتہ لوگ تبدیلی کے لئے کمر نہیں کسیں گے ، ہمت نہیں کریں گے، مسیحا کے انتظار میں بیٹھے رہیں گے، اس وقت تک تبدیلی کیوں کر آئے گی۔ حال تو بدلے گا، سال تو بدلے گا، نتیجہ پھر وہ نہیں ہو گا ، جب تک چال و چلن نہیں بدلے گا ، ہمارا حال ضرور بدلے گا۔ چال و چلن بدلے گاتو وقت بدلے گا، لیکن صرف خواب اور خواہش سے نہیں ، عمل سے یہ سب کچھ بدلے گا۔ اگر عمل نہیں ہو گا، تو سن 2014 ءکے آ خری دن بھی کوئی شخص ایسا ہی ایس ایم ایس بھیج رہا ہو گا،جس میں تحریر ہو گا کہ سال بدلا ہمارا حال نہیں بدلا۔ ٭

مزید : کالم


loading...