عراق ¾ 2013 کے دور ان 7818 عام شہری اور 1050 سکیورٹی اہلکار مارے گئے

عراق ¾ 2013 کے دور ان 7818 عام شہری اور 1050 سکیورٹی اہلکار مارے گئے

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ عراق میں2013 کے دوران 7818 عام شہری اور 1050 سکیورٹی اہلکار پرتشدد واقعات میںمارے گئے اقوام متحدہ کے عراق میں مشن کے سربراہ نے 2013 کے اعداد و شمار کے اعلان کے موقع پر کہاکہ یہ ایک افسوس ناک اور انتہائی بری صورتحال ہے جس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ حکام کو اس تشدد کی بنیادی وجوہات کا حل کرنا ہوگا۔‘عراقی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں 7154 افراد بشمول سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ 2003 سے عراق میں تشدد پر نظر رکھنے والی برطانوی غیر سرکاری تنظیم ’عراق باڈی کاو¿نٹ کا کہنا ہے کہ اس سال 9475 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔عراق باڈی کاو¿نٹ کا کہنا ہے کہ اگر تشدد کے واقعات ایسے ہی جاری رہے تو 2014 شاید انتا ہی تباہ کن سال ثابت ہو گاجتنا 2004 تھا جب امریکی افواج نے دو مرتبہ فلوجہ کا گھیراو¿ کیا تھا۔واضح رہے کہ تشدد کے واقعات میں اپریل کے بعد اضافہ ہوا جب شیعہ مسلک سے منسلک حکومت نے ایک سنی احتجاجی کیمپ کے خلاف کارروائی شروع کی۔اس کے بعد القاعدہ سے وابستہ شدت پسند سنی گرہوں کے حملوں میں تیزی دیکھی گئی جبکہ شیعہ تنظیموں کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں ہوئیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...