پرویز مشرف غداری کیس: ذرا محتاط!

پرویز مشرف غداری کیس: ذرا محتاط!
پرویز مشرف غداری کیس: ذرا محتاط!

  


پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ صرف قانونی جنگ تک محدود رہتا ہے یا اس کے اثرات ہماری سیاست و جمہوریت پر بھی پڑیں گے، اس بارے میں اگرچہ فی الوقت کچھ کہنا ممکن نظر نہیں آتا، مگر حقیقت یہی ہے کہ رفتہ رفتہ یہ مقدمہ پوری سیاسی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ وہ سیاست دان جوپرویز مشرف کے اقتدار میں ساتھی رہے، مگر ابھی تک مصلحتاً خاموش تھے، وہ بھی ان کے حق میں بولنے لگے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین کے بعد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی واضح کر دیاہے کہ پرویز مشرف کو تنہا غداری کا مرتکب قرار دینا انتقامی کارروائی نظر آتا ہے، جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ غداری کیس کا آغاز 2اکتوبر 1999ءسے کیا جائے اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھی اعانتِ جرم کے الزام میں مقدمے کا حصہ بنایا جائے۔ غرض اب معاملہ تنہا پرویز مشرف کا نہیں رہا، سیاسی قوتوں کی طرف سے اُن کے حق میں آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں۔ دوسری طرف پرویز مشرف فوج کو اس معاملے میں شامل کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے براہ راست آرمی چیف کو بھی اس مقدمے کی جانب متوجہ کر لیا ہے۔ سابق فوجی افسروں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک طرح فوج میں اپنی حمایت اور قوت کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا یہ استدلال کہ انہوں نے سب کچھ وردی میں رہ کر کیا، اس لئے اُن کے خلاف صرف فوجی عدالت میں مقدمہ چل سکتا ہے، آئینی طور پر کسی حد تک درست ہے، اس سے قطع نظر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ فوج کو ہر طرح سے اس مقدمے کا فریق بنانے کی تگ و دو کر رہے ہیں

اب اگر غور کیا جائے تو دو باتیں بڑی تیزی سے پرویز مشرف کے حق میں جاتی نظر آتی ہیں۔ ان باتوں سے پرویز مشرف غداری کیس کی قانونی و اخلاقی بنیادیں بھی کمزور ہو رہی ہیں۔ پہلی بات تو وہی ہے، جسے اب سیاست دان بھی دہرا رہے ہیں، یعنی یہ کہ ایک سول حکومت کی موجودگی میں پرویز مشرف نے جو اقدامات اٹھائے، اُن میں وہ تنہا مجرم کیسے قرار دیئے جا سکتے ہیں، پہلے یہ بات صرف پرویز مشرف کہتے تھے۔ اُس وقت تک اس دلیل میں کوئی وزن نہیں تھا، مگر جب سے چودھری شجاعت حسین، جو اُن کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ رہے۔ ایم کیو ایم جو پرویز مشرف کے پورے دور میں اُن کی اتحادی رہی۔ شیخ رشید احمد جو پرویز مشرف کے بااعتماد ساتھی تھے اور دیگر سیاسی رہنما اور قوتیں یہی کہنے لگی ہیں، تو اب یہ بات بے وزن نہیں رہی۔ یہ درحقیقت اس مقدمے کی ساکھ کو ختم کرنے اور اسے انتظامی کارروائی کا تاثر دینے میں بڑا اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دوسری پرویز مشرف کا یہ موقف ہے کہ اُن پر مقدمہ سول عدالت میں چلایا ہی نہیں جا سکتا۔ ابھی تک تو ایسے معاملات میں جی ایچ کیو کی ”جیگ“ برانچ اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انتظامیہ حتیٰ کہ عدالتوں تک میں کسی فوجی افسر کے خلاف عام عدالت میں کارروائی رکوانے کے لئے فوج بطور ادارہ اپنا حق استعمال کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں فوج کی متعلقہ برانچ کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ البتہ پرویز مشرف واضح کر چکے ہیں کہ اُن پر مقدمہ غداری ٹریبونل سن ہی نہیں سکتا، کیونکہ اُن کے تمام فیصلے آرمی چیف کی وردی میں رہ کر کئے گئے ہیں اس لئے آرمی ایکٹ کے مطابق اُن کے خلاف کوئی بھی کارروائی صرف ملٹری کورٹ میں ہو سکتی ہے۔ اب یہ ایسی صورت حال ہے کہ جس سے نکلنے کے لئے قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑیں گے، کیونکہ ذرا سی بھی لغزش یا غیر ذمہ داری مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔

اس مقدمے کے دوران ایک اور معاملہ پرویز مشرف کی سیکیورٹی کا ہے۔ یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ تیسری بار پرویز مشرف کی گزرگاہ سے بارودی مواد برآمد ہوا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس قدر سیکیورٹی زون کے حامل علاقے میںیہ بارودی مواد کون رکھ جاتا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ رکھتے ہوئے تو کسی کی نظر نہیں پڑتی، لیکن اُس کی برآمدگی کے وقت مواد سب کو نظر آ جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پرویز مشرف کو سیکیورٹی کے خدشات لاحق ہیں۔ وہ طالبان سمیت بعض دیگر مذہبی قوتوں کی بھی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ اکبر بگٹی قتل کیس میں بھی انہیں قتل کرنے والوں کے لئے کروڑوں روپے انعامی رقم رکھی گئی ہے، مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مملکت کے ادارے اُن کی فول پروف سیکیورٹی کو یقینی نہ بنا سکیں۔ یہ ایک حساس اور سنجیدہ معاملہ ہے، لیکن پچھلے چند روز سے اسے غیر سنجیدہ بناکر پیش کیا جا رہا ہے۔ مثلا وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ پرویز مشرف بارودی مواد اپنے زر خرید لوگوں کے ذریعے رکھوا رہے ہیں تاکہ عدالت میںحاضری سے بچ سکیں، جبکہ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور دھماکہ خیز مواد کے پیچھے بھی اُن کا ہاتھ ہے۔ میرے نزدیک یہ صورت حال حکومت اور پرویز مشرف دونوں کے لئے ہی قابل ِ رشک نہیں۔ اس ابہام سے نکلنے کی ضرورت ہے کہ پرویز مشرف کو سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں یا نہیں۔ وہ ایک ہائی پروفائل شخصیت ہیں کہ اپنے دورِ حکومت میں انہوں نے جو کچھ کیا، اس کی وجہ سے اُن کے مخالفین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ عدالت کے احکامات پر بھی عمل درآمد ہونا چاہئے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے معاملے کوبھی حد درجہ سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جانا چاہئے تاکہ کسی سانحے سے بچا جا سکے۔

 پرویز مشرف غداری کیس ہماری قومی تاریخ کا بہت بڑا واقعہ ہے۔ ایک سابق آرمی چیف، صدر مملکت اور آمر کے خلاف آئین کے آرٹیکل6کے تحت کارروائی کہنے کو جمہوریت کی حفاظت کے لئے اُٹھایا جانے والا ایک بہت بڑا قدم ہے تاکہ کوئی دوسرا اب مستقبل میں کبھی ایسا نہ سوچ سکے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کیس ہمارے جمہوری نظام کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔ ہم نے تمام جمہوری اور عدالتی شخصیات کو نکال کر صرف پرویز مشرف دوسرے لفظوں میں ایک ریٹائرڈ آرمی چیف کے خلاف کارروائی کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ سول حکومت اور فوج کے درمیان خلیج بڑھا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے وزراء کا یہ کہنا کہ پرویز مشرف اپنی جان بجانے کے لئے فوج کی حمایت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ فوجی ادارے کی روایات اور نفسیات کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔ شیخ رشید نے بالکل درست کہا ہے کہ فوجی جرنیل کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، صرف یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی کہ ایک آئین توڑنے والے سابق آرمی چیف سے آرمی نے آنکھیں پھیر لی ہیں۔ پرویز مشرف نے تو بار بار فوج کا ذکر کرنا ہی ہے، البتہ حکومتی شخصیات کو جواباً فوج کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہئے، کیونکہ اس طرح بے احتیاطی سے ظاہر کئے گئے ردعمل کے باعث اداروں میں تصادم کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

ایک عام تاثر یہ ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس زیادہ دیر تک نہیں چلے گا اور جلد ہی بعض دوست ممالک کی طرف سے دباﺅ کی وجہ سے پرویز مشرف ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ اس کا اندازہ تو خود حکمرانوں کو ہو گا۔ بعض حلقے متحدہ عرب امارات کے صدر اور سعودی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کو اِسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اگر بالفرض کچھ ایسا ہی ہوتا ہے، تو خواہ مخواہ سیاسی درجہ حرارت کو اس حد تک نہ بڑھایا جائے کہ وہ خطرے کے نشان تک آ جائے۔ اگر مقدمہ چلانا بھی ہے تو اُس کی شفافیت اس حد تک یقینی بنا دی جائے کہ کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔ ایک سابق آمر کو سبق دینا بظاہر بہت آئیڈیل سی بات لگتی ہے، مگر اس کے اندر جو طوفان چھپے ہوئے ہیں، انہیں نظر انداز کر دینا کسی بھی طرح ہوشمندی کی بات نہیں ہو گی۔  ٭

مزید : کالم


loading...