لاہور جمخانہ....الیکشن2014ئ

لاہور جمخانہ....الیکشن2014ئ
لاہور جمخانہ....الیکشن2014ئ

  


باغ جناح جسے تعمیر کے وقت صوبہ پنجاب کے پہلے انگریز لاٹ صاحب، یعنی گورنر سر لارڈ جان لارنس کے نام پر بنایا گیا تھا، وہاں لارنس ہال اور منٹگمری ہال کے نام پر دو ایسے خوبصورت ہال1982-1861ءمیں تعمیر کئے گئے تھے، جہاں پر عموماً ایسے برطانوی سرکاری افسروں کی رہائش تھی، جو یا تو غیر شادی شدہ ہوتے تھے اور یا پھر اُن کے اہل خانہ تو یورپ میں رہ رہے ہوتے تھے اور وہ یہاں پر اپنی نوکری کے سلسلے میں لاہور یا پنجاب کے کسی بھی حصہ میں تعینات ہوتے تھے، انہیں سنگل کمرے ملتے تھے۔ کمبائنڈ کچن کی سہولت بھی حاصل تھی اور ٹیبل ٹینس اور ٹینس گیم کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ لائبریری، تاش کھیلنے کا کمرہ، ریڈنگ روم، مہمانوں کے لئے بیٹھنے کی جگہ، ڈنر پارٹیوں کی جگہ، ڈانس ہال اور بار روم کی سہولتیں بھی موجود تھیں۔ لارنس ہال اور منٹگمری ہال دونوں کو ملانے کے لئے ایک خوبصورت چھت والی گلی(کوری ڈور) کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ تمام فرش دیو دار لکڑی کے بنے تھے اور یہ بلڈنگ اپنے زمانے کی بہترین بلڈنگ تھی اور خوبصورتی میں یہ گورنر ہاﺅس کے ہم پلہ تھی، گو کہ یہ بلڈنگ امیر خاندانوں خصوصاً جاگیرداروں اور زمینداروں کے چندے جمع کرکے بنائی گئی تھی، لیکن اس کا انتظام حکومت پنجاب کے سپرد تھا، اسے شروع میں لاہور میاں میر انسٹیٹیوٹ کا نام دیا گیا تھا، لیکن 23جنوری 1906ءکو (یعنی آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام والے سال) لاہور جمخانہ کا نام دے دیا گیا اور اس کی باقاعدہ ممبر شپ بھی شروع کر دی گئی۔ حکومت پنجاب نے 99سال کا پٹہ کلب کو دے دیا۔ یوں لاہور جمخانہ 1972ءجنوری تک باغ جناح میں ہی کلب چلاتا رہا۔ موجودہ بلڈنگ میں اسے شفٹ کرنے کا فیصلہ1968ءمیں ہوا، جب مال روڈ کی موجودہ جگہ خرید کر نواب مظفر علی قزلباش نے 15مارچ کو اس کے افتتاح کی تختی لگائی۔ تعمیر کو تقریباً چار سال لگے اور پھر16جنوری1972ءکو لاہور جم خانہ باغ جناح سے اس نئی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ کلب میں سوئمنگ پولز سمیت تمام کھیلوں کی سہولتیں موجود ہیں۔ بہترین لائبریری اور ریڈنگ روم بھی موجود ہیں اور آہستہ آہستہ اس کلب کا وہ تصور بھی اب ختم ہو رہا تھا، جس میں اسے صرف انگریزوں کی یاد گار یا گوروں کا کلب اور بیورو کریٹس کا کلب ہی کہا جاتا ہے۔

ساری دنیا میں کلب کی حیثیت دراصل وہی کامیابی پاتی ہے، جہاں کلب کو گھر جیسی حیثیت حاصل ہو، گھر میں بھی آپ اپنے بڑوں کی عزت کرتے ہیں۔ یہاںبھی سینئر ممبرز کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، بلکہ بیشتر کاروباری کلبوں کی نسبت یہاں سینئر ممبران کے ماہانہ چندہ کی فیس بھی50فیصد کم ہے، جہاں تک دوسری سہولتوں کا تعلق ہے کچن میں تیار کر کے فروخت کئے جانے والے تمام کھانے بھی معیار اور مقدار دونوں اعتبار سے قابل تعریف ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہاں کا عملہ آپ سے محبت کرنے والا عملہ ہے۔ اب تک اس کلب کے جتنے بھی چیئرمین ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے رہے ہیں، اُن میں عدالتوں کے اعلیٰ جج، فوج کے اعلیٰ عہدیدار، معروف جاگیردار اور زمیندار، بیورو کریسی کے اعلیٰ عہدیدار اور معروف صنعت کار و بزنس مین سرفہرست ہیں۔ اس وقت کلب مین ہال کے باہر جو نام آویزاں ہیں اُن کے مطابق1941-42ءمیں جسٹس جے ایچ مونرو اور جسٹس بلیکر چیئرمین رہے، جبکہ 1942-43ءاور1944ءمیں جسٹس بلیکر۔ جسٹس مونرو اور جسٹس ڈبلیو ایچ آبیل چیئرمین تھے، جبکہ1944ءسے 1947ءاور 1948ئ، یعنی آزادی تک جسٹس آبیل، جسٹس موڈی اور ایف ڈبلیو لبٹن چیمئپن بنے۔1950ءتک بھی مسٹر بٹن اور مسٹر برئیل ہی منتخب ہوئے۔ نواب مظفر علی قزلباس پہلے پاکستانی تھے، جو قیام پاکستان کے بعد1950ءمیں پہلے چیئرمین چنے گئے۔ وہ1953ءتک کے چیئرمین رہے، جبکہ اُن کے بعد بی اے ایل شیخ1954ءمیں ایک سال کے لئے چیئرمین رہے۔ نواب قزلباش اس کے بعد متواتر چار سال یعنی1958ءتک صدر منتخب ہوئے اور1959ءسے1962ءتک جسٹس یعقوب علی خان کو چیئرمین منتخب کیا گیا۔1962-63ءمیں سید فدا حسین چیئرمین ہوئے، جبکہ1963ءسے1974ءتک لگاتار 11سال تک نواب مظفر علی قزلباش چیئرمین رہے۔ یوں اگر تاریخ کے حساب سے دیکھا جائے تو نواب مظفر علی قزلباش لگ بھگ18،20سال لاہور جمخانہ کے چیئرمین رہے، جو ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1974-75ءمیں سید فدا حسین چیئرمین بنے۔ 1978-79ءمیں لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا چیئرمین رہے پھر سردار احمد علی 1979-81ءمیں رہے، جبکہ خواجہ احمد طارق رحیم1982ءمیں چیئرمین رہے۔1983-85ءسید نصیر احمد۔ 1986ءمیں میاں نثار احمد۔ 1988-87ءمیں پرویز مسعود،1989-90ءمیں فرید الدین احمد۔ 1991ءمیں میاں نثار احمد۔ 1994-92ءمیں علی کاظم۔ 1995ءمیں پرویز مسعود۔ 1996ءمیں حفیظ اللہ اسحاق۔1997ءمیں میاں مصباح الرحمن۔ 1998ءمیں تسنیم نورانی۔2000-1999ء پرویز مسعود۔ 2002-2001ءفرید الدین احمد۔ 2003-04ء میں ضیاءالرحمن۔2005-07ءسلمان صدیق۔2008ءمیں میاں مصباح الرحمن۔2009ءمیں تسنیم نورانی۔2010-11ءمیں میاں مصباح الرحمن۔ 2012ءمیں ضیاءالرحمن۔2013ءمیں سلمان صدیق اور اب نئے انتخابات کے نتیجے میں2014ءکے لئے میاں مصباح الرحمن منتخب ہوئے ہیں۔

اوپر دیئے گئے ناموں سے اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ جن جاگیرداروں، زمینداروں نے لاہور جمخانہ کلب کے لئے دامے، درمے اور سخنے امداد کی اور اس پودے کو لگایا، اُن میں نواب مظفر علی قزلباش سرفہرست ہیں اور اس کے صلہ میں کلب ممبران نے انہیں عزت بھی بخشی اور وہ ایک ریکارڈ مدت تک کلب کے سربراہ بھی رہے۔ اب اس کلب کو ایک ویلفیئر باڈی کی طرح چلانے کے لئے جو ٹیم سامنے آئی ہے اس کے سربراہ معروف صنعتکار اور تجربہ کار بزنس مین میاں مصباح الرحمن ہیں۔ لاہور کی یہ فیملی جانی پہچانی فیملی ہے، ان کے ہی بڑے بھائی لاہور کے لارڈ میئر بھی رہ چکے ہیں اور اُن کے ایک بھائی پارلیمنٹ کے رکن بھی تھے، خود میاں مصباح الرحمن بھی پنجاب اسمبلی میں رہے، اس بار الیکشن کی گہما گہمی میں ممبران کا یہ کہنا تھا کہ کلب چلانے والی کوئی بھی کمیٹی جب تک کلب کو ایک ویلفیئر باڈی نہیں بنائے گی اس کے ثمرات ممبران تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ آج سینکڑوں کی تعداد میں نئی رکنیت کے لئے درخواستیں جمع ہیں اور نئے خواہش مند اس کے لئے کروڑوں ہی نہیں، اربوں روپے کلب میں سالہا سال سے جمع کروا کر انتظار میں ہیں۔ اس پیشگی رقم کو کلب نے مختلف سکیموں میں لگا رکھا ہے اور وہاں سے ملنے والی رقم سے ہی کلب کا کام چلایا جاتا رہا ہے، ورنہ چندہ کی رقم تو بہت ہی معمولی ہے۔ کچن یا سپورٹس کو بھی وہاں سے ہی امداد ملتی ہے، ورنہ تو کوئی ممبر کھانے کا بل بھی ادا نہ کر سکے، مہنگا کھانا انتہائی کم نرخوں پر ممبران کو مہیا کیا جاتا ہے اور یہی حال دوسری سہولتوں کا ہے۔ ظاہر ہے کہ ممبران سارے کے سارے تو ارب پتی نہیں ہی۔ سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین بشمول سول و آرمی افسران بھی کلب ممبر ہیں، اُن کے اہل خانہ بھی کلب کی سہولتوں سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور شادی بیاہ کو چھوڑ کر کلب میں25افراد سے لے کر100افراد تک کی بزنس پارٹیوں کا بھی آسانی سے بندوبست کیا جاتا ہے اور اس کے لئے الگ الگ ہال اور جگہیں بنائی گئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان تمام امور کو ممبران کی ہی منتخب کمیٹی دیکھتی اور گاہے بگاہے متواتر سارا سال غورو فکر اور بحث و مباحثہ کے بعد اُن پر فیصلے کئے جاتے ہیں، کلب کے تمام قواعد و ضوابط باقاعدہ تحریری شکل میں موجود ہیں اور ان کی نہایت سختی کے ساتھ پابندی کرائی جاتی ہے، کیونکہ اگر یہ ضابطے موجود نہ ہوں تو پھر یہ کلب نہیں، بلکہ اعظم کلاتھ مارکیٹ یا کوئی منڈی بن جائے گا، لہٰذا یہ شاید پاکستان کا واحد کلب ہے، جہاں پر کلب کے قواعد و ضوابط کے سامنے چیئرمین سے لے کر عام ممبر سب برابر ہیں اور سب پر ان کی من و عن پابندی لازمی ہے اور شاید یہی اس کلب کا طرہّ امتیاز ہے۔ یہاں میڈیا گروپس کے بعض سربراہ بھی رکن ہیں اور بہت سے چیف منسٹرز، جج صاحبان، جنرل صاحبان حتیٰ کہ میاں محمد نواز شریف جیسے افراد بھی کلب کا حصہ ہیں۔ بڑے صنعتی اداروں کے مالکان اور اُن کے ڈائریکٹر بھی یہاں ممبر ہیں۔ بہت سے معروف صحافی، دانشور، مصنف، علمائ، وکلائ، شعرا، ڈاکٹرز، انجینئرز، بیورو کریٹس، فوجی و سول افسران غرضیکہ کلب میں شعبہ ہائے زندگی کے ہر طبقہ کی نمائندگی ہے۔ الیکشن2014ءمیں قمر بوبی آزاد حیثیت سے بھی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد نے اس الیکشن میں حصہ لیا ہے۔ ووٹنگ کے روز ارکان یہ بھی کہتے رہے کہ ماہانہ چندہ سے لے کر کھانوں کے نرخوں میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کی پیشگی اطلاع دی جائے، تو زیادہ بہتر ہو گا۔ ڈھاکہ کلب یا دہلی کلب میں آج بھی یہ روایت ہے کہ وہ وہاں جو نرخ ہر سال یکم جنوری سے نافذ کئے جاتے ہیں، اُن میں 31دسمبر تک (ماسوائے کسی ہنگامی حالت کے) تبدیلی نہیں کی جاتی، لہٰذا ہو سکے تو کمیٹی سب سے پہلے اس مشورہ پربھی غور کرے تو بہتر رہے گا۔ اسی طرح عرصہ دراز سے قطار میں لگے نئے درخواست کنندگان کو اکاموڈیٹ کرنے کے لئے ہنگامی طور پر مزید کمروں کی ضرورت ہے یا بلڈنگ کی ضرورت ہے، تو اس پر بھی کمیٹی یقینی طور پر غور کرنے کی پوزیشن میں ہو گی۔ ممکن ہو تو آج کے اس ترقی یافتہ میڈیا کے دور میں کلب کے ماہنامے کو باقاعدہ کر لیاجائے، تو یہ بھی ایک اچھا فیصلہ ہو گا۔ اس کے لئے باقاعدہ جمخانہ نیوز کے نام سے ڈیکلریشن بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، اس ماہنامے کو ارکان کے علاوہ میڈیا گروپس کو بھی اعزازی طور پر فراہم کیا جا سکتا ہے۔ کلب کی اچھی شہرت میں اضافہ ہی ہو گا۔ آخر میں ایک تجویز کلب کی گروسری شاپ کے بارے میں اسے یا تو یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے حوالے کر دیں اور یا پھر اسے ہوسٹل کی سائیڈ پر منتقل کر کے صرف اس کا دائرہ کار بیکری آئٹم اور ہوسٹل میں ٹھہرنے والے مہمانوں کے لئے سگریٹ، شیو کا سامان وغیرہ جیسے سامان تک محدود کرلیںکیونکہ جن مہربانوں کو یہ شاپ چلانے کے لئے دی گئی ہے وہ 10 سے 15 فیصد ہی نہیں، کافی زیادہ نرخوں پر یہ سامان ممبران کو فروخت کرتے ہیں۔ آخر کلب کی انتظامیہ خود اپنے ممبران کو لٹنے کے لئے کیوں آزادی دیدیں۔  ٭

مزید : کالم


loading...