بجلی اور گیس غائب

بجلی اور گیس غائب
بجلی اور گیس غائب

  


”سہیلی بوجھ پہیلی“ ایک شخص کھانا کھا رہا تھا اس نے نوالہ لیا سالن لگایا اور کھانے کے لئے ہاتھ منہ کی طرف لے کر گیا اچانک یہ نوالہ منہ کی بجائے ناک میں گھس گیا۔ بتاﺅ کیوں؟ جواب فوری تھا ”لوڈ شیڈنگ“ کہ اچانک ہی بجلی چلی گئی اور گھر کے اندر گھپ اندھیرا ہو گیا نوالے نے تو منہ کی بجائے ناک میں جانا ہی تھا۔

یہ کوئی پہیلی یا لطیفہ نہیں حقیقت ہے۔ ایسے اور دوسرے اس نوعیت کے واقعات ہر روز ہو رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ تو لوڈ شیڈنگ ہی ہے لیکن یہ واقع اس لئے پیش آیا کہ لوڈ شیڈنگ بلا شیڈول اچانک ہوئی نوالہ رہا اپنی جگہ ابھی دو روز پہلے کی بات ہے کہ ہمارے محترم خود اپنے گھر کی سیڑھیاں اترتے ہوئے گر پڑے کہ جب وہ نیچے آنے لگے تو بجلی موجود تھی، تیسری سیڑھی کی طرف قدم بڑھایا تو غائب ہو گئی اور پاﺅںپھسل گیا۔ پھر سر کے بل نیچے اس کے بعد جو ہونا تھا وہ ہوا اس کا اندازہ آپ خود بھی لگا سکتے ہیں کہ جان بچ گئی تھی۔

لوڈ شیڈنگ کا جہاںتک تعلق ہے تو ہمارے بجلی اور پانی کے وفاقی وزیرمحترم خواجہ آصف نے تو بڑی عاجزی سے اپیل کی اور بتایا کہ عوام کو لوڈشیڈنگ برداشت کرنے کے لئے تیار ہونا چاہئے کہ دسمبر کے آخر میں نہریں بند ہونے سے پن بجلی کی پیداوار بہت کم رہ جائے گی۔ اس کے بعد انہی خواجہ صاحب نے یہ احکام بھی جاری کئے کہ بلا شیڈول لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے۔ یہ ہمارے وہی خواجہ آصف ہیں جو سابقہ حکومت کے دور میں لوڈشیڈنگ کے خلاف میدان میں رہے اور عدالت عظمیٰ تک جانے کے علاوہ ہر روز تنقید کیا کرتے تھے۔ اب ان کے اپنے دور میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ سوال ہے جو لوگ پوچھتے ہیں اور کیا صرف معافی مانگ لینے سے لوڈشیڈنگ کم ہو جاتی ہے۔

اس وقت حالات پھر سے ابتر ہو گئے ہیں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ سرکاری طور پر 6 اور 12 گھنٹے بتایا جاتا ہے لیکن عملی صورت یہ ہے کہ یہ دورانیہ شہروں میں 8 سے 12 گھنٹے تک پھیل گیا ہے تو دیہات میں کیا ہوتا ہوگا؟ اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا یہ کہتے کہتے منہ خشک ہو گیا کہ گردشی قرضے کے پانچ سو ارب اداکر دیئے گئے اور لوڈ شیڈنگ کی صورت حال بہتر ہو گئی ہے۔ یہ تو ان کا فرمان ہے اور شاید انہی دو حضرات کی بریفنگ یا اطلاع کے باعث وزیر اعظم نے مزاح پیدا کیا تھا ” لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی مجھے تو پتہ نہیں کیسے“ اب انہی وزیر اعظم محترم کو بتایا تو جائے کہ یہ جو دورانیہ بڑھا ہے تو کیوں؟ وزیر اعظم کو بہر حال مختلف پلیٹ فارموں پر بات کرنا ہوتی ہے تو اس اہم مسئلہ پر بھی پوچھا جاتا ہے۔

وزیر موصوف خواجہ محمد آصف عوام سے اپیل نہ بھی کرتے اور معذرت خواہ بھی نہ ہوتے تو پھر بھی لوگوں کو علم تھا کہ ستمبر نہیں دسمبر ان کے لئے ستمگر ہو گا لیکن ان کو یہ توقع نہیں تھی کہ گردشی قرضے ادا کرنے والی حکومت کے دور میں گزشتہ دونوں ادوار سے زیادہ ابتر حالت ہو جائے گی۔ ان دنوں لوڈشیڈنگ تو جاری ہے، لیکن اس کا کوئی شیڈول نہیں ہے۔ لوگ ایک لگے بندھے سلسلے کے عادی ہوتے اور یاد کر لیتے ہیں کہ کتنے بجے بتی بجھ جائے گی کہ اچانک یہ وقت تبدیلی کر دیا جاتا ہے اور لوگوں کا اپنا مرتب کیا شیڈول متاثر ہو جاتا ہے، کئی حضرات باتھ روم میں ہوتے ہیں اور صابن ان کی آنکھوں میں مرچیں لگانے کا سبب بن جاتا ہے۔ پہلے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ (ویسے شیڈول کا اعلان تو کبھی ہوتا نہیں) ہوتی تو پورے وقت یعنی دو یا تین یا اس طرح پانچ، چھ بجے ہوتی تھی۔ لیکن اب یہ سوا اور پونے بجے جانا اور پھر ایک گھنٹے کے بعد سوا اور ڈیڑھ بجے آنا شروع ہو گئی ہے یعنی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ اب سوا گھنٹے سے ڈیڑھ اور پونے دو گھنٹے کا ہو گیا ہے۔ اس ساری ”خوبی“ کا حساب کون لے گا اور دے گا اس کا جواب خواجہ آصف کو دینا ہوگا۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ نے تو برا حال کیا تھاکہ گیس کی قلت نے پریشانی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ گیس کا دباﺅ تو کم ہوتا ہی ہے اب گیس شیڈنگ بھی شروع ہے اور اس کے لئے بھی کوئی وقت متعین نہیں۔ چولہے جلتے بجھ جاتے اور سالن آدھا پکا رہ جاتا ہے۔ اکثر اوقات تو روٹی توے پر آدھی پک چکی ہوتی ہے کہ گیس اچانک بند اور چولہا بجھ جاتا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ گیزر دھماکوں کا ہے۔ جو ایک سوئے بم کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ گیس اچانک چلی جائے تو گیزر کے پائیلٹ سمیت گیزر بند ہو جاتا ہے۔ اب اگر گیس بحال ہو اور گھر والوں کو پتہ نہ چلے تو والو کھلا ہونے کی وجہ سے گیس گیزر میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی گھریلو خاتون یہ دیکھ کر کہ گیس بحال ہو گئی۔ گیزر کا پائیلٹ جلانے کے لئے ماچس کی تیلی سے آگ دکھائے تو وہاں جمع گیس دھماکہ کرے گی اور گیزر پھٹ کر بم کی طرح ضرر رساں ہوگا محکمہ والوں کو اس سے کیا غرض۔

لوگ جانتے ہیں کہ کسی سرمایہ دارانہ نظام کی حکومت کو عوام کے مسائل سے نہیں کاروبار سے غرض ہوتی ہے۔ یورپی یونین سے سرٹیفکیٹ ملا، ٹیکسٹائل اور صنعت کو گیس دے دی گئی، اب اس اضافے کو پورا کرنے کے لئے گھریلو ضروریات کے بہانے سی این جی بند کر کے متوسط طبقے کو بھی پٹرول کے استعمال پر مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے بجٹ مزید خراب کر لیں اس پابندی اور عوامی نقصان کے باوجود گھروں کو گیس نہیں مل رہی۔ اب اگر لوگ کہیں کہ ہمیشہ ماضی اچھا ہوتا ہے تو کسی کا کیا قصور؟ ٭

مزید : کالم


loading...