کیا وزیراعلی بلوچستان اور مسلح بلوچ مزاحمت کار ایک میز پر بیٹھ سکیںگے؟

کیا وزیراعلی بلوچستان اور مسلح بلوچ مزاحمت کار ایک میز پر بیٹھ سکیںگے؟
 کیا وزیراعلی بلوچستان اور مسلح بلوچ مزاحمت کار ایک میز پر بیٹھ سکیںگے؟

  


بلوچستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر کوئی نواب اور سردار نہیں بیٹھا بلکہ کل کاطالب علم لیڈربڑے منصب پر جلوہ افروز ہے صوبہ کے قبائلی نظام اور اس کی گرفت سے نیشنل پارٹی نے بڑی ذہانت سے سیاست میں پیش رفت کی ہے اور اس نیشنل پارٹی میںماضی کے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے لیڈر اور کارکن موجود ہیں اور جو سیاسی اورقبائلی نقشہ بلوچستان کا لمحہ موجود میں نظر آرہا ہے اس میں کامیابی حاصل کرنا اتنا آسان نہ تھا پارلیمانی سیاست اور مسلح جدوجہد کے درمیان ایک کشمکش موجودہے اس کے درمیان سے نیشنل پارٹی کامیاب ہوئی ہے اور سرداراخترجان مینگل اس پورے عرصہ میں دبئی میں تھے بلوچستان نیشنل پارٹی کوئی انتخابی مہم نہیں چلاسکی ہے جس طرح نیشنل پارٹی نے چلائی ہے اب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیراعلٰی ہیں اور ان کے سامنے کئی مشکلات منہ کھولے کھڑی ہےں۔

اس وقت سب سے اہم مسئلہ بلوچ مزاحمت کاروں سے مذاکرات کاہے ان مسلح مزاحمت کاروں میں چند کے نام تو اہم ہیں، مگر ان کی کمانڈ کون کررہا ہے اوران کی پشت پر کون کون ہیں اس کاعلم نہیں ہے اوران مسلح گروہوں کی پشت پناہی کون کررہا ہے حکومتی ذرائع بھارت کواس میں ملوث سمجھتے ہیں لیکن بھارت اس کی کئی بار تردید کرچکاہے بعض حلقے یہ رائے رکھتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ اسرائیل بھی شریک ہے لیکن پاکستان نے اسرائیل کا نام کبھی نہیں لیا افغانستان بہت واضح ہے اس لئے کہ وہاں ان کے کیمپ موجود ہیں بالاچ مری اور براہمداغ وہاں موجود تھے بالاچ ایک جھڑپ میں پاک افغان سرحد پر مسلح تصادم میں مارا گیا اور افغانستان میں کسی مقام پراس کی تدفین کی گئی ہے لیکن براہمداغ افغانستان سے سوئزر لینڈچلاگیا اس نے بلوچ ری پبلکن پارٹی بھی بنائی ہے اس کا ایک مسلح ونگ بلوچ ری پبلک آرمی کے نام سے کارروائی میںمصروف ہے ایک گروہ بی ایل اے کے نام سے مسلح کارروائیوں میں شریک ہے بعض حلقوں کی رائے ہے کہ اللہ نذر اس کی کمانڈ کررہا ہے اور نواب خیر بخش خان مری کی تائید انہیں حاصل ہے نواب خیر بخش مری اب کھل کر کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے آزاد بلوچستان ان کا مقصد ہے اور بی ایل اے کا بھی ایسا ہی موقف ہے جب بالاچ مری زندہ تھا تو وہ اس کی کمانڈ کررہا تھا اب اس کی کمان ڈاکٹراللہ نذر کے پاس ہے اور وہ سرداری اورقبائلی نظام کے خلاف ہے سرداری نوابی اور قبائلی وار لارڈز کے خلاف نعرہ توبلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کاتھا اور ہرجلسے جلوسوں میں سرداری نظام کےخلاف نعرے گونجتے تھے اور یہ نوجوان سرداروں اور نوابوں کی صدارت میں جلسہ کرتے تھے کنونشن کرتے تھے اب پہلی دفعہ بی ایس او کا لیڈر وزیراعلٰی ہے اور اس کی کابینہ میں تین نواب ایک نوابزادہ اور دو سردار شامل ہیں یہ ایک لحاظ سے ماضی کی بی ایس او کی تاریخ کا نکتہ عروج ہے کل بی ایس او سرداروں اور نوابوں کے نیچے تھی آج نواب اور سردار اس کے سائے میں حکومت میں شامل ہیں۔

بلوچستان افغانستان کی کشمکش کے اثرات کے سائے تلے سیاست کررہا ہے جوں جوںامریکہ اور نیٹو افغانستان سے شکست کے اثرات لئے لوٹیں گے امریکہ پاکستان کو بلوچستان کے ذریعہ زیادہ مشکلات اور تصادم میں گرفتار کرے گا امریکہ کو اندازہ ہے بلکہ اب اسے تلخ تجربہ ہے کہ امریکہ اورنیٹو کی ناکامی اور شکست میں پاکستان کا کردار سب سے اہم ہے پاکستان اس کے گلی میں ہڈی بن گیا ہے نہ نگل سکتا ہے نہ اگل سکتا ہے اس تکلیف دہ صورتحال میں وہ افغانستان سے لوٹ رہا ہے اور بین الاقوامی طور اس کی سیاسی اور فوجی ساکھ کو شدید دھچکالگا ہے جس سے وہ سنبھل نہیں سکے گا اس لئے وہ بلوچستان کو زیادہ مضطرب رکھے گا جب افغانستان میں سویت یونین موجودتھا تو وہ بھی پاکستان کے اندر بلوچستان اور موجودہ خیرپختونخوا میں تمام کارروائیوں میں مصروف تھا اب امریکہ اور اس کے اتحادی موجود ہیں تو وہ سوویت یونین سے بھی بڑھ کران کارروائیوں میں مصروف ہے ۔

ہم مسلح بلوچ مزاحمت کار تنظیموں کا ذکرکررہے تھے ایک مسلح گروہ جاوید مینگل نے بنایا ہے یہ سردار عطاءاللہ مینگل کے صاحبزادے ہیں اور ان کی تنظیم کا نام لشکر بلوچستان ہے جاوید مینگل سینیٹر رہ چکے ہیں اور وہ نواب خیربخش خان مری کے داماد ہیں یوں داماد اورسسر کا موقف ایک ہی ہے جاوید مینگل اور مسلح گروہ کی وجہ سے نواب خیر بخش خان مری اور سردار عطاءاللہ مینگل کے درمیان ایک غیر محسوس طور پر کشمکش موجود ہے اور اب ان دونوں کے درمیان ایک حد فاصل موجود ہے اس لئے کافی عرصہ سے ان میںملاقات نہیں ہے سردارعطاءاللہ مینگل پارلیمانی سیاست کے حامی ہیںلیکن ان کے بیٹے کی پارٹی حالیہ انتخابات میں ناکام ہوئی ہے اور سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک بلوچ کے درمیان ایک کشمکش موجود ہے اب سردار اخترمینگل کے بیانات کی توپوں کارخ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حکومت کی طرف ہے۔

ایک مسلح گروہ بی ایل یو ایف کے نام سے مسلح کارروائیوں میں مصروف ہے یہ بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ ہے صوبے کے سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ اسے بھی نواب خیر بخش خان مری کی حمایت حاصل ہے اس کی قیادت کون کررہا ہے ابھی تک ڈاکٹر اللہ نذر کی طرح اس کے کمانڈرکا نام سامنے نہیں آیا ہے۔

ان کے علاوہ خان آف قلات بھی آزاد بلوچستان کی بات کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی مسلح گروہ بظاہر سامنے نہیں آیا ہے آج کل وہ لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ بلوچوں کو یہ کہہ کر برطانیہ گئے تھے کہ وہ اپنی سابقہ ریاست بحال کرنے کامقدمہ برطانیہ میں لڑیں گے اب وہ بھی آزاد بلوچستان کی بات کررہے ہیں اب نوجوان جو جدوجہد کررہے ہیں ان کے ذہنوں میں ریاست قلات کی بحالی موجود نہیں ہے بلکہ آزاد بلوچستان ہے اور اس میں خان قلات کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا ہے۔ یہ وہ مشکلات ہیں جو ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ کے سامنے موجود ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس طرح اور کن کے ذریعے ان مسلح گروہوںکو ٹیبل کے گرد جمع کریںگے اور مذاکرات شروع کریں گے ایک طرف گوادر میں دوبارہ چین داخل ہوگیا ہے امریکہ کےلئے یہ بھی مسئلہ ہے اور گلف کی ریاستوں کےلئے بھی بڑا اہم مسئلہ ہے نیشنل پارٹی اقتدار میں آنے سے پہلے چین کے خلاف بولتی رہی ہے اب نواز شریف اور چین بالکل قریب آگئے ہیں عبدالمالک بلوچ کی وزارت اعلٰی ان سب کے درمیان گھری ہوئی ہے وہ کس طرح نکلیں گے اور کیسے اپنے اہداف کی جانب بڑھیںگے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے کل کے مطالبات ان کی راہ میں حائل ہیں اور وفاق بھی موجود ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاق بلوچستان کے حقوق کے حوالے سے کتنی پیش رفت کرتا ہے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ کی کامیابی اور ناکامی ان کے درمیان پوشیدہ ہے۔

مزید : کالم


loading...