حکیم محمد اجمل خاں (3)

حکیم محمد اجمل خاں (3)

اکبر الہ آباد ی اس واقعہ کو لے اڑے اورشعر کہا:

ہال میں ناچیں لیڈی کرزن

چھن چھن چھن چھن چھن چھن

حکیم اجمل خان کو اپنی مصروفیات کی وجہ سے بہت دیر تک سیاست سے کچھ ایسا لگاﺅ نہ رہا۔لیکن 1905ءسے انہوں نے سیاسی سرگرمیوں کی طرف بھی توجہ کی۔ اکتوبر 1906ءمیں آغا خان کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک وفد وائسرائے سے ملا اور مسلمانوں کے مطالبات پیش کئے۔حکیم صاحب بھی اس وفد میں شامل تھے۔پھر دسمبر1906ءمیں جب ڈھاکہ میں علی گڑھ ایجوکیشنل کانفرنس کے اجلاس میں نواب ڈھاکہ سر سلیم اللہ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی قرارداد پیش کی تو حکیم صاحب نے اس کی تائید کی۔یہ آغاز تھا حکیم صاحب کی سیاسی زندگی کا۔جنوری 1910ءمیں دلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا۔ان دنوں مسلمان سرسید احمد کے غیر سیاسی طریق کار ہی کو حرف آخر سمجھتے تھے۔حکیم صاحب نے اپنی تقریر میں سرسید احمد خان کے رویے کی یوں وضاحت کی کہ اس وقت مسلمان ہندوﺅں سے تعلیم میں بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ سرسید احمد خان چاہتے یہ تھے کہ مسلمان پہلے کسی طرح تعلیم کے میدان میں ہندوﺅں کے برابرآ جائیں۔وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان اس وقت سیاست میں شامل ہوئے تو یہ مقصد پورا نہ ہو سکے گا۔اس لئے انہوں نے مسلمانوں کو کانگریس سے علیحدہ رہنے کا مشورہ دیا۔سرسید کے اس رویہ سے یہ استدلال کرنا غلط ہوگا کہ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہمیشہ سیاست سے الگ تھلگ رہیں۔

1911ءمیں لندن گئے تو جارج پنجم کے دربار تاج پوشی میں شرکت کی۔اس کے بعد اسی سال شاہ انگلستان نے دہلی میں دربار کیا تو انہوں نے اس دربار میں بھی شرکت کی اورلارڈ ہارڈنگ وائسرائے ہند نے خاص طور پر ان کی اور بادشاہ کی پرائیویٹ ملاقات کا بھی انتظام کر دیا۔ حکیم صاحب نے دربار کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دلی کے دارالخلافہ بننے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

پہلی جنگ عظےم میں ان کی خدمات پر حکومت کی طرف سے انہیں ”تمغہ قیصر ہند“ ملا۔ اس سے پہلے 1908ء میں ان کی طبی خدمات کے صلے میں حکومت برطانیہ کی طرف سے انہیں ”حاذق الملک“ کا خطاب مل چکا تھا، لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب تحریک خلافت شروع ہوئی تو وہ دوستوں کو حیران و پریشان چھوڑ کر ایک اعتدال پسند رہنما کے طور پر کانگریس میں آ گئے اور انہوں نے تحریک میں حصہ لیا۔تحریک خلافت میں جب یہ طے ہوا کہ تمغے اور سرکاری خطابات واپس کردیئے جائیں تو حکیم صاحب نے (1920ء میں)اپنا خطاب اور تمغہ واپس کردیئے۔قدرتی طور پر انگریز حکومت کو یہ بات پسند نہ آئی اور اس نے حکیم صاحب کو زک پہنچانے کے لئے ریاستوں کو یہ اشارہ کردیا کہ حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی والی ریاست انہیں اپنے علاج کے لئے نہ بلائے۔حکیم صاحب ان والیان ریاست کے علاج کے لئے جاتے تو ایک ہزار روپیہ روزانہ فیس لیتے تھے جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔اس طرح حکومت کے اس اقدام سے ان کی مالی آمدنی بہت کم ہوگئی۔ان کے خطاب کی واپسی پر جمعیت علماءنے اپنے اجلاس کانپور میں انہیں قوم کی طرف سے ”مسیح الملک“ کا خطاب دیا۔

تحریک خلافت زور و شور سے جاری تھی کہ چورا چوری کا واقعہ پیش آیا۔ایک ہجوم نے اس علاقہ میں ایک تھانے کو آگ لگا دی اور اس میں موجودہ کئی ایک پولیس والے زندہ جل گئے۔8فروری 1922ءکو گاندھی جی نے باردولی سے حکیم اجمل خان کو، جو دہلی میں مقیم تھے اور اس وقت کانگریس کے صدر تھے، ایک تار دیا جس میں تحریک ختم کرنے کے بارے میں ان کی رائے پوچھی تھی، لیکن ان کا جوابی تار ملنے سے پہلے ہی 10فروری 1922ءکو گاندھی جی نے یہ کہہ کر تحریک ختم کرنے کا اعلان کردیا کہ عوام میں ابھی تک عدم تشدد پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوئی۔جوابی تارمیں یہ کہا گیا تھا کہ وہ جس طرح چاہیں کریں، کیونکہ گانگریس نے انہےں تحریک چلانے کا پورا اختیار دیا ہوا ہے، تاہم ملک کو سول نافرمانی اور پکٹنگ بند کرنے سے سخت صدمہ ہوگا۔بعد میں گاندھی جی نے کہا کہ وہ تارا نہیں ملا ہی نہیں۔

تحریک خلافت کے سیاسی رہنما ترک موالات کی پالیسی کے تحت علی گڑھ یونیورسٹی کو ختم کرانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے طالب علموں سے کہا کہ وہ یونیورسٹی چھوڑ دیں۔اس پر تقریباً 500طالب علموں نے یونیورسٹی چھوڑ دی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کردیا گیا اور حکیم محمد اجمل خان اس کے پہلے امیر(چانسلر) مقرر ہوئے، کیونکہ انگریز حکومت کے اشارے پر ریاستوں نے حکیم صاحب کو بلانا چھوڑ دیا تھا، ان کی آمدنی میں بہت کمی ہوگئی تھی۔ادھر جامعہ کے واسطے فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے جو کمیٹی بنی تھی، وہ اپنے مقصد میں زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔چنانچہ یہ ادارہ بہت دیر تک موت و زیست کے دوراہے پر کھڑا رہا، لیکن حکیم صاحب کی ہمت اورکوشش سے بہرحال کام چلتا رہا۔آزادی کے بعد اسے ایک یونیورسٹی بنا دیا گیا۔

میراخلاق حسین دہلوی لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حکیم صاحب نے مجھے کہا: ”دو مہینے سے جامعہ ملیہ کے اساتذہ کو تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ میرے پاس ایک الماس کی انگشتری اور ایک زمرد ہے۔یہ دونوں چیزیں لے جاﺅ اور ان کو بازار میں یا جہاں مناسب سمجھو فروخت کر دو، تاکہ مجھے سبکدوشی ہو“۔ میر صاحب نے یہ دونوں چیزیں آگرہ اور دہلی کے بازاروں میں دکھائیں، لیکن جوہریوں نے جو دام لگائے ، وہ ان کی نگاہ میں جچے نہیں۔اسی دوران حکیم صاحب کسی مہاراجہ کے علاج کے لئے گئے اور وہاں سے ایک معقول رقم مل گئی۔اس سے اساتذہ کی تنخواہیں ادا کردی گئیں۔

5نومبر 1920ءکو شیخ الہند مولانا محمود حسن کے ہاتھوں جامعہ ملیہ کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔وہ انقلابی نقطہ ءنظر کے حامل اور برطانوی سامراج کے مخالفین کی صف اول میں تھے۔انگریز حکام نے انہیں چھ برس تک مالٹا میں قید رکھا۔ان کی دلپذیر اور پراثر افتتاحی تقریر کا ایک حصہ یہ تھا: اے نونہالان وطن! جب میں نے دیکھا کہ میرے اس درد کے غم خوار (جس سے میری ہڈیاں پگھلی جا رہی ہیں) مدرسوں اور خانقاہوں میں کم، اور سکولوں اور کالجوں میں زیادہ ہیں تو میں نے اور میرے چند مخلص احباب نے ایک قدم علی گھڑہ کی طرف بڑھایا.... آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ میرے اکابر سلف نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان کے سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم میں فنون حاصل کرنے پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ہاں، بے شک یہ کہا گیا کہ اگر انگریزی تعلیم کا آخری اثر یہی ہے جو عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت کے رنگ میں رنگے جائیں یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور مذہب والوں کا مذاق اڑائیں یا حکومت وقت کی پرستش کرنے لگیں تو ایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کے لئے جاہل رہنا ہی اچھا ہے۔اب ازراہ نوازش آپ ہی انصاف کیجئے کہ یہ تعلیم سے روکنا تھا یا اس کے اثر بدسے۔

جامعہ ملیہ کا پہلا جلسہ تقسیم اسناد دسمبر1921ءمیں منعقد ہوا۔حکیم محمد اجمل خان نے اپنے خطبہ صدارت میں جامعہ کی تعلیمی پالیسی کی وضاحت کی۔انہوں نے کہا کہ ہماری تعلیم کا مقصد ملازمین و محکومین کی ایک جماعت پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ ہم طالب علموں میں علوم کا ذوق پیدا کرنا اور ان کے اعمال پر اس کااثر دیکھنا چاہتے ہیں۔اس لئے ایک غیر زبان کے ذریعے تعلیم دینے کے غیر فطری طریقہ ءکارکاسدباب مقصود ہے۔

حکیم اجمل خان خوش گو شاعر تھے۔شیدا تخلص تھا۔ان کے کلام کا کچھ حصہ 1926ءمیں ٹائپ میں جرمنی سے شائع ہوا تھا۔اس میں ان کی فارسی اور اردو کی غزلیں ہیں۔حکیم صاحب شعر کے مزاج کو سمجھتے تھے اور نبض شناسِ معانی تھے۔اردو غزلوں کے چند اشعار درج ذیل ہیں:

وہ خواب ناز میں تھے، مرادیدہ نیاز

دیکھا کیا اور ان کی بلائیں لیا کیا

........

گم کردہ راہ آتے ہیں وہ آج میرے گھر

آہ میری آہ نیم شبی تو نے کیا کیابرابر ہوئے آئےں

............

ابھی سے تقاضا کہ گھر جائیں گے

تم آئے کہ گویا سحر ہو گئی

حکیم محمد اجمل خان کی وفات 28اور 29دسمبر 1927ءکی درمیانی رات ہوئی۔قاضی عبدالغفار ، سید حبیب الرحمن، انتظار حسین اور غفران احمد لکھتے ہیں کہ وہ 25 دسمبر کو دہلی سے رام پور کے لئے روانہ ہوئے۔28دسمبر کو رات 11بجے نواب رام پور ان سے کوئی خاص بات کرنے کے لئے اپنے چیف سیکرٹری کے ہمراہ ان کے کمرے میں آئے۔نواب صاحب رات پونے دو بجے کے قریب واپس گئے۔ چیف سیکرٹری کو حکیم صاحب نے یہ کہہ کر روک لیا کہ آپ سے ایک خاص بات کرنی ہے۔اس کے پانچ منٹ بعد ہی ان کو دل کا دورہ پڑا۔ یہ تکلیف پہلے بھی تھی۔انہوں نے گرم پانی لانے اور ڈاکٹر کو بلانے کے لئے کہا، لیکن پانی یا ڈاکٹر کے آنے سے پہلے ہی ہچکیاں لیں اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

اخلاق حسین دہلوی لکھتے ہیں کہ انہیں گولی کا نشانہ بنایا گیا اور وہ اللہ کو پیارے ہوئے، مگر یہ بھید نہ کھلا کہ ایسا کیوں اور کس نے کیا؟

حکیم صاحب کی موت کے کوئی پچاس برس بعد نواب رام پور کے ایک ملازم نے مرتے وقت اعتراف کیا کہ اس نے نواب صاحب کے کہنے پر حکیم صاحب کو زہر دیا تھا،جس سے ان کی وفات ہو گئی۔یہ رپورٹ ہندوستان کے ایک اخبار کے حوالے سے کسی پاکستانی اخبار میں چھپی تھی، کیونکہ انہیں دل کی تکلیف بہت پرانی تھی،ہمارا خیال ہے کہ ان کی موت ہارٹ اٹیک ہی سے ہوئی، ان کو دہلی میں دفن کیا گیا۔ ٭

مزید : کالم


loading...