عوامی نمائندوں کی آمدنی اور ٹیکس کے معاملات

عوامی نمائندوں کی آمدنی اور ٹیکس کے معاملات

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کہا ہے کہ وزیراعظم سے لے کر رکن صوبائی اسمبلی تک ہر عوامی نمائندہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشوارے قومی راز ہیں۔ الیکشن کمیشن کے دباﺅ کے باوجود ہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اراکین اسمبلی کے ٹیکس گوشوارے اپنی ویب سائٹ پر نہیں ڈالے ۔ چئیرمین ریونیو بورڈ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے نوٹس پر اراکین پارلیمنٹ کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ جنہوں نے سیاستدانوںکے ٹیکس گوشواروں کی تشہیر اور پیدا شدہ تاثر کے حوالے سے سوالات کئے تھے۔چیئرمین ایف بی آر نے واضح کیا کہ ان کا ٹیکس گوشواروں کی تشہیر سے کوئی تعلق نہیں۔یہ دستاویزات ایف بی آر سے لیک نہیں ہوئیں۔

چئیرمین ایف بی آر کوپبلک اکاﺅنٹس کمیٹی میں اراکین اسمبلی کے سامنے ٹیکس گوشواروں کی تشہیر کے سلسلے میں اپنی طر ف سے اس لئے وضاحت کرنا پڑی کہ ان کی تشہیر سے اراکین اسمبلی کو پریشان ہونا پڑا تھا۔ انتخابات سے پہلے امیدواروں کی طرف سے جمع کرائے گئے گوشواروں کی تصدیق کے لئے اور ان سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے بہترین طریقہ یہی تھا کہ انہیں عوام کے سامنے رکھ دیا جائے امیدوار اور ان کے حمائتی اپنے مقابل امیدوار کی جائیداد ، آمدنی اور ذرائع سے متعلق فراہم کی گئی معلومات کو غلط پائیں تو الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں۔ اگر انہوں نے گوشواروں میں درست معلومات بھی فراہم کی ہوں تو بھی ان کے عام کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح عوام کو معلوم رہتا ہے کہ رکن اسمبلی بننے کے وقت ایک شخص کی جائیداد، دولت اور ذائع آمدنی کیا تھے اور پانچ سال بعد رکنیت کے اختتام پر اس کے مال و اسباب میں کیا کچھ اضافہ یا کمی ہوئی ہے۔

عوامی نمائندگی کرنے اور پبلک لائف گزارنے والے کسی بھی سیاستدان رکن اسمبلی یا وزیر، وزیر اعلی اور صدر گورنر وزیر اعظم وغیرہ کے اثاثوں اور دولت پر نظر رکھنا اور ان کی نجی زندگی کے طور اطوار کو بھی سمجھنا عوام کا حق ہے۔ یہ حق انہیں آئین دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے ظاہر کردہ اثاثہ جات اور ذرائع آمدنی کی تمام تفصیلات ، ان کی طرف سے ادا کئے جانے والے اور نہ ادا کئے جانے والے ٹیکس ، حتی کہ ان کے ادا کردہ اور نہ ادا کردہ یوٹیلیٹی بلز کی پوزیشن سب کچھ عوام کے سامنے آنا چاہئیے ۔ تمام سرکاری محکموں کی آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات ان کی ویب سائٹس پر عوام کے سامنے رہنی چاہئیں۔ ان کے اخراجات ، ٹھیکوں اور ٹنڈرز کے طریق کار کی پوری تفصیل ان کے کھلنے کی تواریخ وغیرہ سب کچھ عوام کے سامنے رہنا چاہئیے۔ اسی طرح سرکاری اداروں اور پبلک شخصیات کے مالی معاملات میں شفافیت آسکتی ہے، اور اس شفافیت کی وجہ سے کرپشن کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اگر عوامی نمائندوں کے گوشواروں کے سامنے آنے سے دوسرے امیدواروں کے ساتھ موجودہ اراکین اسمبلی کو بھی کسی طرح سے خفت اٹھانا پڑی ہے تو یہ ان کے قول و فعل کے تضاد یا عوام کے سامنے کچھ اور اندر سے کچھ ہونے کی بناءپر ہے۔ گوشواروں کو تو ہر صورت میں عوام کے سامنے آنا ہی تھا۔لیکن بدقسمتی سے ایف بی آر حسب معمول ان کے اخفاءکو اپنی کامیابی سمجھتا رہا ۔جبکہ یہ ضروری ہے کہ ایف بی آر، اس طرح کے تمام گوشواروں کو اپنی ویب سائٹ پر ڈالے تا کہ اس سے اپنی آمدنی چھپانے اور ٹیکس بچانے والوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں آسانی ہو ۔ ایسا کرنا ٹیکس چوروں کو پکڑنے کا واحدموثر ذریعہ ہے۔ گوشواروں کے سامنے آنے میں جو لوگ خفت یا پریشانی محسوس کرتے ہیں ایسے لوگوں کو آئینی طور پر عوامی نمائندگی کا کوئی حق حاصل نہیں۔ الیکشن کمیشن صرف پانچ سال کے بعد ہی امیدواروں سے ان کی اہلیت کے تعین کے سلسلے میں اس طرح کے گوشوارے طلب کرتا ہے لیکن انکم ٹیکس کے مقصد کے لئے ایف بی آر کو ہر سال تمام اراکین اسمبلی سے ایسے گوشوارے طلب کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام لوگوں کے گوشوارے عوام کے سامنے آئیں یا نہ آئیں لیکن اراکین اسمبلی اور حکومت میں شامل تما م افراد کے گوشوارے تو لازمی طور پر ایف بی آر کی ویب سائٹ پر ڈالے جانے چاہئیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ چئیرمین ایف بی آر اراکین پارلیمنٹ کے ایسے گوشواروں کو خفیہ رکھنے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں۔کیا وہ اس بات کی وضاحت کرسکیں گے کہ اگر ان پر الیکشن کمیشن نے یہ گوشوارے ایف بی آر کی ویب سائٹ پر ڈالنے کے لئے دباﺅ ڈالا تھا تو انہوں نے کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کی حکم عدولی کی۔؟ اگر وہ اراکین اسمبلی کے گوشواروں کو خفیہ دستاویزات قرار دے رہے ہیں تو کیا ان کی اپنی حیثیت آئین اور اس کی وضاحت کرنے والی سپریم کورٹ سے بھی بلند تر ہے۔؟ اراکین اسمبلی کو بھی اپنے اس رویے پر غور کرنا چاہیئے کہ کیا ان کی طرف سے اپنے وسائل اور آمدنی کے متعلق معاملات کو عوام کی نظروں سے خفیہ رکھنے میں ان کی عزت ہے یا یہ معاملات ان کو عوامی نظروں سے گرانے کا باعث ہیں۔؟

مزید : اداریہ


loading...