ایران سے آنے والے زائرین پر حملہ

ایران سے آنے والے زائرین پر حملہ

کوئٹہ کے علاقہ اختر آباد میںایران سے واپس آنے والی زائرین کی بس پر خود کش حملہ سے تین افراد جاں بحق اور37زخمی ہوگئے ہیں۔زخمیوں میں خواتین ، بچے اور تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔مجلس وحدت المسلمین نے اس سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔جبکہ وزیر اعظم کی طرف سے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کو بس سے ٹکرا دیاجس کے بعد فائرنگ بھی کی گئی ، اس بس کو علمدار روڈ پر لے جایا جا رہا تھا۔بس میں چالیس سے پینتالیس تک مسافر موجود تھے۔دھماکے سے بس کو آگ لگ گئی جو بعد میں فائر بریگیڈ نے بجھائی ۔حملہ آور کی گاڑی میں تقربیا ایک سو بیس کلو گرام بارود کا اندازہ ہے۔زائرین سے بیشتر کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔دھماکے کے وقت سیکورٹی گارڈز بھی بس کے ساتھ تھے۔

 اس انسانیت سوز اور المناک واقعہ نے ایک بار پھر پاکستانی عوام کو سوگوار کردیا ہے۔ ملت اسلامیہ کے دشمن ملک میں شیعہ سنی فساد پھیلانے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔کسی کی طرف سے اس بس پر حملے کا کوئی اخلاقی یا دینی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ زائرین مقدس مقامات کی زیارت کے بعد اپنے اذہان و قلوب میں نیک جذبات لئے وطن لوٹے تھے، ان کے کسی طرح سے بھی کسی کے خلاف کوئی ارادے تھے نہ انہوں نے اپنے کسی کام سے کسی کو نقصان پہنچایا تھا۔ ان میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل تھیں ، ایسے میں بس پر حملہ کوئی شقی القلب اور فاترالعقل شخص ہی کرسکتا ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے اپنے ایک بیان میں یہ انکشاف کیا ہے کہ دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ شیعہ اور سنی علما ءکے قتل میں استعما ل ہوا ہے۔دونوں فرقوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ایک ہی گروپ ملوث ہے۔انہوں نے بعض لوگوں کو گرفتار کرنے کے متعلق بھی بتایا ۔ اب تک اقلیتوں ، مساجد، مذہبی اجتماعات اور زائرین پر حملوں کے متعلق جو بھی معلومات سامنے آئی ہیں ان سے بار بار یہی حقیقت واضح ہوئی ہے کہ دشمن طاقتوں کی طرف سے بھاری رقوم حاصل کرنے والے دہشت گرد گروپوں کا اہم ترین ہدف ملک میں فرقہ وارانہ نفرت پیدا کرنا اور اس بناءپر فساد برپا کرنا ہے۔ جبکہ ہمارے علماءاور عوام اس طرح کے منصوبوں کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں اور تمام فرقے اپنی اپنی صفوں میں گھسے ہوئے شدت پسندوں اور فساد کی کوشش کرنے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے تمام حملوں کی صورت میں مذہبی رہنماﺅں کو باہم زیادہ قربت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ایک فرقے کے لوگوں پر ایسے سفاکانہ حملوں کی صورت میں دوسرے فرقے کے مذہبی رہنماﺅں کو ان کے ساتھ اتحاد اور یک جہتی کے لئے ان کے پاس پہنچنا چاہئیے،۔ مجرموں تک پہنچنے کے لئے ایک دوسرے کی ہر ممکن مدد کرنی چاہئیے۔ حکومت کی طرف سے صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورسز قائم کرنے اور انہیں متحرک بنانے کا کام بھی اب بلا تاخیر مکمل ہونا چاہئیے ۔ بے گناہ اورمعصوم شہریوں کے ایسے بہیمانہ قتل کا ہر واقعہ حکومت پر عوام کے اعتماد کو کمزور اور دہشت گردوں کی طاقت سے انہیں مزید غیر محفوظ اور کمزور ہونے کا احساس دلا رہا ہے۔

پولیس میں احتساب کا عمل!

بدعنوانیوں کے خلاف لاہور پولیس میں بھی احتساب کا عمل شروع ہوگیا ہے۔چیف کیپٹل پولیس آفیسر نے دو تھانیداروں سمیت بائیں پولیس اہل کاروں کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ان کے خلاف اختیارات سے تجاوز،کرپشن، رشوت اور شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے کے الزامات تھے۔ان کی برطرفیوں کے علاوہ بعض ملازمین کی ترقیاں روکی گئیں اور چند ایک کو وارننگ بھی دی گئی ہے۔سی سی پی او شفیق احمد چودھری نے کہا ہے کہ پولیس کا کام لوگوں کا تحفظ ہے اور کوئی بھی اہل کار اختیارات سے تجاوز یا کوئی خلاف قانون کام کرکے خود کو کسی رعائت کا مستحق نہ جانے۔

پولیس کا شعبہ بہت اہم اور بڑی ذمہ داریوں کا حامل ہے، اس میں بدعنوانیوں کی شکایات بھی بہت ہیں اور عوام ہمیشہ سے احتساب کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، اس حوالے سے ترقی یافتہ ممالک کی مثال بھی دی جاتی ہے اب تو موجودہ صوبائی حکومت نے اہل کاروں کے مشاہروں میں بھی معقول تر اضافہ کردیا ہوا ہے اور ان کو بہتر سہولتیں دینے کی بھی بات ہو رہی ہے، اس لئے ان کو اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دینا چاہئیں۔

لاہور پولیس کے سربراہ نے اگر احتساب کا عمل شروع کیا ہے تو یہ قابل تحسین ہے اس سے کارکردگی بہتر ہوگی تو اہل کاروں کو اپنا برتاﺅ اور رویہ بھی بہتر بنانے کا موقع ملے گا، اس عمل کی تائید کی جانی چاہیے کہ یہ جاری رہے گا۔امید ہے پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبے بھی اس جانب توجہ دیں گے اور پولیس کے متعلق شکایات کو کم سے کم کریں گے۔

مزید : اداریہ


loading...