بے چارے امید وار

بے چارے امید وار
بے چارے امید وار

  


 یوں تو امیدوار کسی بھی شے کا ہوبے چارہ ہی ہوتا ہے اور جوں جوں امید بڑھتی ہے، بے چارگی بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ دنیا کو ٹھکرانے والے عشق حقیقی میںاپنے رب کی رحمت کے امیدوار بنتے ہیں توعشق مجازی میں رُلنے والے روایتی عاشق حسن والوں سے توجہ کے طالب ،توجہ نہیں ملتی تواس بے چارگی پر دیوان کے دیوان لکھے جاتے ہیں۔ دنیاوی مال و دولت کے امیدوارتو اتنے ہیں کہ جتنے بیان کئے جائیں کم ہیں، مارتی ہے بہتات کی حرص انہیںاور یہاں تک کہ قبریں جا دیکھتے ہیں۔ آج میں جن کو بے چارے کہہ رہا ہوں ، ان کی شکلیں رنگ برنگے بینروں، پوسٹروں اور ہورڈنگز پر آپ کو نظر آ رہی ہوں گی، یہ ہمارے بلدیاتی امیدوار تھے جن کے خوابوں اور امیدوں کی ایسی تیسی مسلم لیگ نون، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے مل جل کے کر دی ہے۔ یہ گلیوں، محلوں کے چھوٹے چھوٹے اقتداروں کے امیدوار تھے جو لیناان کا حق بھی ہے اور دینا ریاست کا فرض بھی، لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے وہ حلقہ بندیاں ہی ختم کر دی ہیں جن کی بنیاد پر چئیرمین، وائس چئیرمین اور کونسلر بننے کے خواہش مند کاغذات جمع کروا رہے تھے۔ ان میں سے بہت سارے تو ایسے ہیں کہ وہ لاکھوں خرچ کر چکے اورخوفزدہ ہیں کہ تیس جنوری کو بلدیاتی انتخابات نہ ہوئے تو وہ کنگلے ہو جائیں گے۔

سچی اور کھری بات تو یہ ہے کہ اگر آپ موجودہ حلقہ بندیوں کو تسلیم نہیں کرتے تو پھر تیس جنوری کو انتخابات خوابوں اور خیالوں میں ہی ہو سکتے ہیں، عدالت کو اعتراض ہے کہ انتظامیہ کے ذریعے صرف گیارہ دنوں میں کس جادو کے چراغ کے ذریعے حلقہ بندیاں کر لی گئیں اور متاثرین کو اعتراضات کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اس امر میں شک نہیں کہ موجودہ حلقہ بندیوں پر گلیوں محلوں میںموجود سینکڑوں، ہزاروں سیاسی کارکنوں کو بہت اعتراضات ہیں، وہ ہاتھوں میں بلاکوں کی” بکیں“ اٹھائے پھر رہے ہیں کہ انہیں توڑ دیا گیا ہے۔ دوسرے حکومتی موقف یہ ہے کہ ہمارے اپنے ماضی کے علاوہ مہذب معاشروں میں انتظامیہ ہی حلقہ بندیاں کرتی رہی ہے اور اگر قانون بناتے ہوئے الیکشن شیڈول آنے کے بعد اعتراضات کا راستہ نہ روکا جاتا تو یہ سلسلہ کبھی بھی نہ رکتا۔ اک حقیقت تو یہ بھی ہے کہ مردم شماری کو پندرہ برس کا عرصہ گزر چکا، سابق وفاقی حکومت نے جو خانہ شماری کروائی تھی اس میں بھی بے شمارخامیاں موجود ہیں لہذا اگر آپ واقعی حقیقی بنیادوں پر حلقہ بندیاں کروانا چاہتے ہیں تواس کے لئے آپ کو مردم شماری کروانا پڑے گی۔ کچھ دوست کہتے ہیں کہ آج سے بارہ، تیرہ سال پرانی حلقہ بندیوں پر ہی انتخابات کروا دئیے جائیں مگر آبادی میں اضافے اور شہروں میں پھیلاو¿ کے بعد وہ تو موجودہ حلقہ بندیوں سے بھی کہیں زیادہ غیر حقیقی اور غیر نمائندہ ثابت ہوں گی لہذا میرے امیدوار دوستوں کو یا تو یہی پیٹ میں درد کردینے والے کھیر کھانی پڑے گی یا پھر نئے سرے سے کھیر چڑھانے کے لئے چاول چننے ہوں گے۔

گلیوں ، محلوں میں، چوکوں ، چوراہوں پر یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا تیس جنوری کو انتخابات ممکن رہ گئے ہیںتو اس کا منطقی جواب تو یہی ہے کہ نہیں، اگلا سوال یہ ہے کہ پھر کب ہوں گے تو اس کا جواب الیکشن کمیشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ ہی دے سکتی ہے۔ فرض کریںکہ الیکشن کمیشن ، سپریم کورٹ سے رجوع کرتا ہے اور پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت اپنے فیصلے پر ہر صورت عمل درآمد کا حکم جاری کر دیتی ہے تو پھر کیا ہو گا۔ ایک اخبار نے رپورٹ کیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے حلقہ بندیاں ختم کرنے کے باوجود سپریم کورٹ کی دی ہوئی مدت میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے حالانکہ زمینی حقائق کے مطابق یہ ممکن ہی نہیں، دوسرے قانون سازی کا بھی حکم ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا صرف حلقہ بندیاں ختم نہیں کی گئیں،اس کے ساتھ ساتھ لوکل باڈیز ایکٹ میں ہیلتھ اور ایجوکیشن کی جو مختلف اتھارٹیز بنائی گئی تھیں، انہیں بھی ختم کر دیا گیا ہے، حتمی جواب تو تفصیلی فیصلے میں ہی مل سکتا ہے جو تادم تحریر دستیاب نہیں ۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے طور پر حلقہ بندیاں نہیں کر سکتا، اس کے لئے اسے انتظامیہ کی معاونت ہی درکار ہوگی تاہم سپروائزری رول ضرور ادا کر سکے گا، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صوبائی حکومتوں کی وفادار بیوروکریسی وہاں یہی گل دوبارہ کھلائے گی، صرف الیکشن کمیشن کے مقرر کر دہ بااختیار عہدے داروں کے پاس عوامی نمائندوں کو شکایت پیش کرنے کا موقع مل جائے گا، ہاں، شکایات کے ازالے کی کسی حد تک امید رکھی جا سکتی ہے۔

تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے دوست کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کروانا ہی نہیں چاہتی، یہ سب ملی بھگت سے ہوا ہے، جان بوجھ کے ناقص قانون بنایا اور بدترین حلقہ بندیاں کی گئیں کہ عدالتوں نے انہیں ختم کر دیا۔جواز یہ ہے کہ اس وقت پنجاب گیس اور بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے جس میں جنوری کے اختتام سے پہلے کمی نہیں آ سکتی، ایسے میں تیس جنوری کو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد حکمران جماعت کے لئے بہت بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ایک دلیل یہ بھی تھی کہ پنجاب کی حکمران جماعت بلدیاتی انتخابات میںجاکے گلی محلوں میں اپنے کارکنوں کو تقسیم نہیں کرسکتی کہ حکمران جماعت کی ٹکٹ کے امیدار بہت سارے ہوتے ہیں مگر ایک حلقے کا ایک ہی چئیرمین بن سکتا ہے، جتنوں کو انکار ہو گا وہ ناراض ہو جائیں گے مگر یہ دلیل اب حکومت کی طرف سے انتخابات کے التواءکی دلیل نہیں بن سکتی کیونکہ پینل فائنل ہو چکے، جس نے ناراض ہونا تھا ہو چکا، اب حکمران جماعت کی بہتری اسی میں تھی کہ انتخابات ہوجاتے۔ لطیفہ تو یہ ہے کہ ایک طرف عدالتیں ہی تھیں جنہوں نے سیاسی جماعتوں اور صوبائی حکومتوں کوبلدیاتی انتخابات کروانے پر مجبور کیا اور دوسری طرف عدالتی فیصلہ ہی انعقاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ پیپلزپارٹی والوں نے عدالتوں پر انگلی اٹھانا اپنی عادت بنا لی ہے اور توہین عدالت سے ڈرے بغیر کہہ دیتے ہیں کہ یہ فیصلہ بھی پنجاب حکومت نے ہی کروایا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خود پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی قیادت بھی جہاں ، جہاں اختیار رکھتی ہے وہاں اسے بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ شئیر نہیں کرنا چاہتی، سندھ میں پی پی حکومت کی ہٹ دھرمی تو کوئی خفیہ معاملہ نہیں مگر دوسری طرف اقتدار میں آنے کے بعد پہلے سو دنوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا لالی پاپ دینے والی پی ٹی آئی نے بھی بائیو میٹرک سسٹم کے تحت انتخابات کروانے کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ نہ نو من تین ہو گا نہ رادھا ناچے گی ۔کیا عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی ان تینوں سیاسی جماعتوں کوبلوچستان جیسے امن و امان کے مسئلے کے شکار پسماندہ صوبے کی مثال دے کر شرمندہ کیا جا سکتا ہے؟

مجھے اپنے پیارے بلدیاتی امیدواروں سے کہنا ہے کہ یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بار بار لگنے والے مارشل لاو¿ں نے ملک میں نظام کو الجھی ہوئی ڈور بنا دیا ہے۔آپ دوسری مرتبہ مایوس ہوئے ہیں مگر اس سے کہیں زیادہ مایوس تو غریب ہوں گے جن کے پاس برس ہا برس اپنے شناختی کارڈ کے فارم تصدیق کروانے کے لئے کوئی بندہ نہیں، گلیوں میں پڑا کوڑااٹھوانے، بند سیوریج کو کھلوانے اور تھانے میں محرر کے پاس گم شدہ شناختی کارڈ کا روزنامچہ دو، چار سو روپے مٹھی میں دئیے بغیر درج کروانے کا کوئی چارہ نہیں۔ اگر انتخابات کا التواءبڑی سیاسی جماعتوں کی سازش ہے تو بہت ہی مکروہ ہے۔ اس مرحلے پر مجھے اپنے صوبائی شہنشاہوں کویقین دلانا ہے کہ ان کی بادشاہتیں قائم رہیں گی، پنجاب میں حمزہ شہباز ، سندھ میں بلاول بھٹو زرداری اور خیبر پختونخوا میں عمران خان ہی آل ان آل ہوں گے۔ اک صوبے میں انتظامات مکمل نہ ہونے کا بہانہ، دوجے میں حلقہ بندیوں اور انتظامیہ کے ذریعے انتخابات کا ایشو، تیسرے میں بائیو میٹرک سسٹم کا لارالپا، یہ اب انہیں چھوڑ دینے چاہئیں، ابھی ہمارا سیاسی نظام اتنا مستحکم نہیں ہوا کہ بلدیاتی سطح پر منتخب ہونے والے، بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھوں کی نظر میں، ٹٹ پونجئے ان کی سرکار کے سامنے نظریں اٹھا سکیں۔ میاں صاحب، زرداری صاحب اور خان صاحب یقین رکھیں، ان میں سے بہت ساروں کی قیمت تو چار ٹیوب لائٹیں ہوں گی جو وہ سٹریٹ لائٹ کے نام پر اپنی گلی میں لگوا کے ٹوہر سے چل سکیںگے۔

مزید : کالم


loading...