درد کی ٹیسیں اب تک محسوس ہو رہی ہیں

درد کی ٹیسیں اب تک محسوس ہو رہی ہیں
درد کی ٹیسیں اب تک محسوس ہو رہی ہیں

  



بہیمیت ، درندگی ، سفاکیت اور وحشت کی یہ انتہا ، کیا کبھی کسی نے اس کا تصور بھی کیا ہوگا؟ کیا وہ انسان جسے اشرف المخلوقات ٹھہرایا گیا ، جس کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو مسجودِ ملائک بنایا گیا ، وہ انسان جس کے لئے تسخیر کائنات کو ممکن کردکھایا گیا، وہ انسان جسے اعلیٰ ترین اوصاف و اقدار کا مالک بنایا گیا ، جسے برگزیدگی کی سربلندیوں کا مکین بناتے ہوئے مقامِ نبوت سے سرفراز کیا گیا ، ایسا مقامِ نبوت جو ان مقدس و پاکباز ہستیوں کو معصومیت کے درجے پر فائز کرگیا ، انہیں کائنات کی عظیم ترین شخصیات کے مرتبہ کا سزاوار بنایاگیا ، اور کیا وہ عالمِ بشریت جس نے جلیل القدر صحابہؓ اور اولیاء و اتقیاء و صلحاء کی نہ شمار کی جاسکنے والی تعداد کا بچشم سر مشاہدہ کیا ہو، کیا اسی میں ایسے درندے بھی پروان چڑھ سکتے ہیں جو قتل وغارت گری کے اتنے سفاکانہ مناظر تخلیق کر ڈالیں کہ کسی بھی ذی شعور فرد کے لئے انہیں دیکھنے کا بھی یارا نہ ہو۔

16دسمبر پاکستان کی تاریخ کا الم ناک ترین دن تھا، اس روز ہمارے ’’اپنوں‘‘ اور غیروں دونوں نے مل کر ہمارے وطن عزیز کے دو ٹکڑے کر دیئے تھے ۔قیامِ پاکستان کے محض چوبیس سال گزرنے پر ریاستِ مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر قائم ہونے والی دوسری ریاست کو 1971ء میں دولخت کردیا گیا تھا ۔ اندرونی غدار اور بیرونی دشمن ، دونوں ہماری تاریخ کے اس عظیم ترین سانحے کے ذمہ دارتھے۔ ہم 16 دسمبر کو ہر سال اِسی المیے کی یادیں تازہ کیا کرتے تھے ، اسی روز اپنے قومی جسد پر لگنے والے گھاؤ سے رِستے ہوئے خون کا مشاہدہ کرتے تھے ، اس گھاؤ سے اٹھنے والی ٹیس سے درد آشنا ہوتے تھے ، ہمیں کیا خبر تھی کہ ہمارے دشمنوں نے اِسی دن کو ہی ہماری تاریخ کے ایک اور خوف ناک المیے کے لئے بھی منتخب کرلیا ہے۔1971ء سے 43سال بعد 16دسمبر کو ہی آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم بچوں کے خون کے ساتھ کھیلی جانے والی ہولی کسی طرح بھی سفاکیت کے ان مناظر سے کم تر نہ تھی جب مشرقی پاکستان کے طول وعرض میں بھارت کی پروردہ مکتی باہنی کے ہاتھوں ، اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست کے محافظوں ، جانبازوں اور رکھوالوں کا خون بے دریغ بہایا جارہا تھا ۔ ہمیں اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ وہی بھارت جس نے سرزمین مشرقی پاکستان کو بے گناہوں کے خون سے لہو رنگ کیا تھا،وہی بھارت 16دسمبر2014ء کے المناک ترین سانحے کا بھی ذمہ دار ہے۔ یہ اطلاعات منظر عام پر آچکی ہیں کہ بھارتی حکومت کے ایک ذمہ دار فرد نے سانحہ پشاور سے ہفتہ عشرہ پیشتر افغانستان کے کسی مقام پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ سے طویل ملاقات کی اور اغلباً اسی ملاقات میں ہی سانحہ پشاور کا منصوبہ اور اس کی جملہ تفصیلات طے کی گئیں۔

اس گٹھ جوڑ سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان ، اسلام اور پاکستان دشمنوں کی پروردہ ہے ، اس کی قیادت انہی کے اشاروں پر ناچتی ہے اور اس کا واحد مقصد اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست کو کمزور کرنا ہے ۔ اس قیادت کی جانب سے شریعت کے نفاذ کا مطالبہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے ۔ یہ قیادت اسلام آباد اور پاکستان دشمنوں کی آلۂ کار بن کر پاکستان کی عسکری قوت پر کاری وار کرنا چاہتی ہے ۔ لا قدّ ر اﷲ ذلک۔ عسکری تنصیبات پر حملے اس کا واضح ثبوت ہیں۔سانحۂ پشاور کی تفصیلات اتنی المناک ہیں کہ انہیں زبان پر لاتے ہوئے ناقابل بیان ٹیس دل و دماغ میں اٹھتی محسوس ہوتی ہے ۔ا س کے خوف ناک مناظر دیکھتے ہوئے آنکھیں آبدیدہ ہی نہیں ہوجاتیں ، ان سے بہتے آنسوؤں پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں ، کھلتے اور اَن کھلے پھولوں کو جس درندگی کے ساتھ مسل ڈالا گیا ، جس سفاکیت کے ساتھ ان کا پاکیزہ لہو بہایا گیا،جس بہیمیت کے ساتھ بچوں کی ٹیچرز اور پرنسپل کو شہید کیا گیا ، اس کے مناظر کو تصور میں لاتے ہی پورے جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ۔ کسی بھی ذی شعور کے احساسات و جذبات اس کے کنٹرول میں نہیں رہتے۔

یہی کیفیت ہماری اس وقت بھی تھی جب کچھ بین الاقوامی وحشی درندوں نے باجوڑ ایجنسی میں ڈمہ ڈولہ کے ایک مدرسے پر تہجد اورفجر کے درمیانی عرصے میں میزائلوں سے حملہ کرکے دینی علوم کی تحصیل میں مصروف ، بارگاہِ الٰہی میں جھکنے والے 84معصوم طلبہ کو لمحے بھر میں موت کی نیند سلادیا تھا ، ان میں کوئی بھی تو دہشت گرد نہ تھا ، کسی نے بھی تو کسی دوسرے کے جسم پر خراش تک نہ ڈالی تھی ، یہ تو وہ بچے تھے جو دینی تعلیمات کے عامل تھے ، امن وآشتی کے علم بردار ، ان میں حفاظِ قرآن بھی تھے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرنے والے بھی ۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے معصوم طلبہ کی طرح وہ بھی بے گناہ تھے ، لیکن دونوں کی بے گناہی ان کا جرم بنا ڈالی گئی ۔دونوں کے ناکردہ جرائم کی پاداش میں انہیں محرومِ زیست کردیا گیا ۔ ہمیں تو کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں کو شہید کرنے والوں کے ڈانڈے کہیں جا کر ضرور باہم ملتے ہوں گے۔

اے کاش وہ وقت جلد آئے جب ہم ان دونوں سنگین المیوں ہی نہیں ، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے حقیقی منصوبہ سازوں کو جان پائیں ، اس حوالے سے ہماری کامیابیاں آلۂ کاروں کو نیست ونابود کرنے کے سلسلے میں خشتِ اول ثابت ہوں گی ، جس کے لئے ہمیں اپنی سوچ ، فکر اور عمل کے دھاروں کو درست سمت دینا ہوگی۔ یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ سانحہ پشاور نے قوم میں وحدت کی فضا کو جنم دیا ۔ سیاسی حوالے سے متحارب پارٹیاں ایک میز پر اکٹھے بیٹھیں اور ان کی قیادتوں نے صورتِ احوال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھا اور دہشت گردوں کو یہ واضح پیغام دے دیا کہ وہ اب اس محاذ پر پر سبھی کو متحد و یک جان پائیں گے ۔ ملک کو اس کے گھمبیر مسائل سے نجات دلانے کے لئے یہ فضا برقرار بھی رہنی چاہئے اور اس میں استحکام بھی آنا چاہئے، اس لئے کہ پاکستان کو اس وقت اپنی تاریخ کے کے بدترین اندرونی وبیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ ہمارے اندرونی و بیرونی دشمن اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس ریاست کے وجود کے درپے ہیں ۔

اس وقت ہمارا فرضِ اولین یہ ہے کہ ہم اپنے اندرونی و بیرونی دشمنوں کی واضح طور پر نشان دہی کریں اور پھر ان کی ناپاک سازشوں اور گھناؤنے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیت واستعداد اور وسائل کو بروئے کار لائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ضمن میں دہشت گردی کا قلع قمع کرنا سب سے بنیادی اقدام ہوگا۔ بے گناہوں کے قتل عام کی اجازت نہ کوئی آسمانی دین دیتا ہے اور نہ کوئی ارضی قانون وضابطہ، بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ صرف دہشت گردی کے ذریعے قتل وغارت گری ہی حرام نہیں ہے ، کوئی سا بھی انفرادی قتل بھی پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے ، اس لئے قاتل کوئی سا بھی ہو وہ دہشت گردہے ، اور ان سبھی قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانا کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری۔ اس ضمن میں وزیراعظم کا یہ فوری فیصلہ درست سمت میں قابل ستائش اقدام ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں پھانسی کی سزاؤں کو عملاً معطل کئے رکھنے کا فیصلہ ختم کردیا گیا اوردہشت گردی میں سزا یافتہ مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کا حکم جاری کردیا گیا ، اس پر عمل درآمد بھی شروع ہوگیا ۔ ہم اس فیصلے کو سراہتے ہوئے یہ گزار ش کریں گے کہ حکومت نے اس حوالے سے محض ایک جزوی سا فیصلہ کیا ہے ۔سزائے موت کے سبھی مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے خواہ وہ کالعدم جماعتوں کے دہشت گرد ہوں یا سیاسی جماعتوں کے ، ان کا تعلق انفرادی قاتلوں کے ساتھ ہو یا دیگر جرائم میں سزائے موت پانے والوں کے ساتھ۔ ایسے سبھی مجرموں سے چھٹکارا حاصل کئے بغیر پاکستان کو امن کی شاہ راہ پر گام زَن نہیں کیا جاسکتا۔ قاتلوں کے درمیان تفریق اور امتیاز سے عدل و انصاف کا خون ہوگا اور جس معاشرے میں عدل تختہ دار پر لٹکا دیا جائے ، ہلاکت و بربادی اس کا مقدر بن کر رہتی ہے۔ اس ضمن میں حکومت کو یورپی یونین کے دباؤ کو کسی طوربھی خاطر میں نہیں لانا چاہئے۔ *

مزید : کالم