عالمی کپ کیلئے پاکستانی سلیکٹرز کو 1992 جیسی مشکلات کا سامنا

عالمی کپ کیلئے پاکستانی سلیکٹرز کو 1992 جیسی مشکلات کا سامنا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور( آن لائن )گیارہویں عالمی کپ کے لیے پاکستان کی پندرہ رکنی ٹیم کا اعلان سات جنوری کو ہونا ہے۔ اہم کھلاڑیوں کے زخمی ہونے اور آئی سی سی کی پابندیوں نے سلیکشن کمیٹی کے لیے ٹیم کا انتخاب شدید درد سر بنا دیا ہے۔معین خان اینڈ کمپنی کو آج وہی صورتحال درپیش ہے، جس کا سامنا انیس سو بانوے کے عالمی کپ سے پہلے اس وقت کے چیف سلیکٹر جاوید برکی کو کرنا پڑا تھا۔ موجودہ ٹیم کا کوئی کھلاڑی بائیس برس پہلے عمران خان کی طرح کندھے اور جاوید میانداد ، وقاریونس کی طرح کمر درد میں تو مبتلا نہیں تاہم ان دنوں ٹیم کے تین اہم کھلاڑی کپتان مصباح الحق، جنید خان اور صہیب مقصود بالترتیب ہیمسٹرنگ، گھٹنے اور کلائی کے زخم سہلانے میں لگے ہیں۔مصباح نے بیٹنگ پریکٹس شروع کردی ہے تاہم ابھی دوڑ لگانے سے وہ گریز کررہے ہیں۔ ورلڈ کپ سلیکشن کے دو روزہ اجلاس میں مصباح بھی شریک ہوں گے، جو پیر سے کراچی میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستانی سلیکٹرز کے سامنے سب سے پیچیدہ سوال پانچ رکنی فاسٹ باؤلنگ اٹیک کی تشکیل ہے۔ محمد عرفان کے علاوہ فوری طور پر کوئی ایسا باؤلر نہیں، جو فٹنس اور فارم کے معیار پر پورا اترتا ہو۔ عمرگل کی رفتار اور ردھم قصہء پارینہ بن چکے ہیں۔ اس لیے جنید خان اور وہاب ریاض، جن کے درمیان چند روز پہلے تک ٹائی تھی، دونوں کو ورلڈ کپ ٹکٹ ملنا یقینی ہے۔
میڈیم پیس آل راؤنڈر کی دوڑ میں بلاول بھٹی اور انور علی شامل ہیں۔ وقار یونس اور مصباح الحق دونوں کے مبینہ عدم اعتماد کے نتیجے میں انور علی اس دوڑ میں بلاول سے پیچھے رہ گئے ہیں۔سلیکشن کمیٹی کے ایک ذریعے نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا پانچویں فاسٹ باؤلر کی ریس اوپن ہے، جس میں احسان عادل، محمد طلحہ اور سہیل تنویر کے علاوہ دو ایسے باؤلرز محمد سمیع اور راحت علی بھی شریک ہیں، جن کا تیس ممکنہ کھلاڑیوں میں نام تک نہ تھا۔