افغا نستان میں امریکہ کے جنگی مشن کا خاتمہ؟

افغا نستان میں امریکہ کے جنگی مشن کا خاتمہ؟
افغا نستان میں امریکہ کے جنگی مشن کا خاتمہ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

28دسمبر کو امریکہ اور اس کے اتحا دیوں کی جا نب سے افغانستان میں جنگی مشن کے خا تمے کا با ضا بطہ طور پر اعلان کر دیا گیا ہے ۔یوں امریکہ کی افغان جنگ کا حقیقی نہ سہی رسمی طور پرہی خاتمے کا اعلان سامنے آچکا ہے۔ اگرچہ پہلے امریکہ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 2014ء کے خاتمے تک افغان سیکیورٹی مکمل طور پر افغانستان کی352,000 افراد پر مشتمل سیکیو رٹی فورسز اور پولیس کے حوالے کر دی جا ئے گی، مگر اس سال کے خاتمے سے پہلے امریکہ نے افغانستان کے ساتھ Bilateral Security Agreement کا معاہدہ کیا، جس کا اطلاق یکم جنوری2015ء سے ہو چکا ہے اس کے ذریعے دس ہزار امریکی فوجی افغان حکومت اور سیکیو رٹی فورسز کی تربیت اور معا ونت کے لئے افغانستان میں ہی موجود رہیں گے۔7اکتوبر 2001ء سے 28دسمبر 2014ء تک جا ری رہنے والی امریکہ کی اس طویل افغان جنگ سے اسے کیا حاصل ہوا اور اس نے کیا کھویا؟یہ سوال یقینی طور پر امریکہ، دنیا کے مورخین اور عسکری ما ہرین کے لئے آنے والے کئی سال اور عشروں تک انتہا ئی اہمیت کا حا مل رہے گا۔یہ درست ہے کہ بیسویں صدی کی جنگوں کی طرح اس جنگ میں امریکی افواج کی ہلاکتوں کی تعداد کم رہی۔ اگر صر ف امریکہ کی ویت نا م کے ساتھ جنگ کو ہی دیکھا جا ئے تو اس جنگ میں امریکی ہلا کتوں کی تعداد 58ہزار سے بھی زائد تھی، جبکہ گزشتہ 13سال سے جاری افغان جنگ میں اب تک امریکی فوجیوں کی ہلا کتوں کی تعداد 2,356بتائی جا تی ہے۔
اس تعداد کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی متوازن ذہن یہ دعوی ٰتو نہیں کرسکتا کہ امریکہ کو اس جنگ میں ویت نام جنگ جتنا جانی نقصان ہوا، مگر کسی بھی جنگ کی ہا ر یا جیت کے تعین میں کلیدی سوال تو یہی ہوتا ہے کہ جیت کا دعوی ٰکرنے والا فریق کس حد تک اپنے مطلوبہ مقا صد حا صل کر سکا؟امریکہ نے جب 7اکتوبر 2001کو اس جنگ کا آغا ز کیا تو القاعدہ(اسامہ بن لادن) اور اس کو پنا ہ دینے والی طالبان حکو مت کا خاتمہ اس کے بنیا دی ہدف تھے۔ہوائی حملے کے چند ہی روز کے بعد امریکہ طالبان حکومت کو ختم کرنے میں تو کامیاب ہوگیا، مگر اس وقت سے جاری طالبان مزاحمت اور چھا پہ مار کارروائیوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے امریکہ کس حد تک کامیا ب رہا؟ اس سوال کے جواب کے لئے اگر ہم خود افغان حکومت کے صرف اسی سال کے اعداد وشمار پر نظر ڈال لیں تو ہم پر بہت سی حقائق آشکا ر ہو جا ئیں گئے۔ 2014ء کا سال (اِسی سال افغانستان میں ایساف اور امریکی افواج کے کمانڈرجان کیمبل نے 28دسمبرکو اپنی جیت کا اعلان کرتے ہوئے افغا نستان میں امریکہ کی جانب سے لڑاکا مشن کے خاتمے کا اعلان کیا) افغان سیکیو رٹی فورسز کے لئے سب سے زیا دہ خونریزی کا سال رہا۔ اس سال (2014)کے آغا ز سے دسمبر کے وسط تک 5400افغان سیکیورٹی اہلکار ہلا ک ہو ئے،جبکہ افغان حکومت کا ڈیٹا یہ بھی ثا بت کرتا ہے کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران طالبان حملوں میں 15سے20 فیصد تک کا اضا فہ ہوا۔خاص طور پر خود کش حملوں میں تیزی آئی۔افغان حکومت کے بعد اقوام متحدہ کی سیکیو رٹی رپورٹ جو دسمبر کے اوائل میں جا ری کی گئی۔
اس رپو رٹ کے مطا بق اس سال نہ صرف طالبان حملوں میں تیزی آئی، بلکہ اس سال القا عدہ کے کئی حامی گروپس کی سر گرمیاں بھی افغا نستان میں تیز ہو ئیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق طالبان کے ساتھ زمینی جھڑ پیں اور ان کی جانب سے گھروں میں ہی تیا ر کردہ بم اور با رودی مواد سے کئے گئے حملوں میں نما یاں اضا فہ دیکھا گیا ۔اِسی رپو رٹ کے مطا بق نومبر تک 3188عام افغا نی بھی ان حملوں میں اپنی جان سے گئے۔ یوں اس سال کے گیارہ ماہ میں سویلین ہلا کتوں کی تعداد میں 19فیصد کا اضا فہ ہوا۔ان حملوں میں افغان دارالحکومت کابل خاص طور پر طالبان حملوں کی زد میں رہا کہ جہاں پر فوجی بسوں، فارن گیسٹ ہاوسز اور دیگر مقامات کو نشانہ بنا یا گیا۔امریکی اخبا ر دی وال اسٹر یٹ جرنل میں افغان امور کی ما ہر صحافی اور تجز یہ نگار مارگریٹا سٹانگاٹی اپنے حا لیہ آرٹیکل Afghans\' War Remains Fierce After Coalition Ends Combat Missionمیں لکھتی ہیں امریکہ کی جانب سے افغا نستان میں لڑاکا کا رروائیاں بند کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی طالبان حملوں میں شدت سے ثا بت ہو رہا ہے کہ امریکی دعووں کے برخلاف افغان صورت حال جوں کی توں خراب ہے۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہاں یہی بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 352,000 افغان سیکیورٹی کے اہلکار اس صورت حال کو کنٹرول کرنے میں کا میا ب ہوں گے؟ امریکہ کو اس حجم کی افغان نیشنل سیکیورٹی فورس کو برقرار رکھنے کے لئے سالانہ 5ارب ڈالرز دینا ہوں گے۔ امریکہ نے عراق میں اسی نوعیت کی سیکیورٹی فورس کی تشکیل میں اربوں ڈالرز صرف کئے تھے ،مگر گز شتہ سال داعش کے حملوں سے اس عراقی نیشنل سیکیورٹی فورس کی انتہا ئی مایوس کا رکردگی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو گئی۔ امریکی اہلکا روں کے مطابق افغا نستان میں عراق کی طرح کا خطرہ اسلئے لا حق نہیں، کیو نکہ یہاں عراق کی طرح فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ افغانستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورت حال عراق کی طرح نہیں، مگر افغانستان کے ما ض�ئ قریب اور ما ضی بعید کو دیکھ کر کیا یہ دعویٰ کرنا غلط ہو گا کہ افغا نستان کی سیا سی اور عسکری پالیسیو ں کی تشکیل میں نسلی و لسانی کشیدگی ایک اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔افغان نیشنل آرمی کے حوالے سے بھی ایسی کئی اطلا عات موجود ہیں کہ بعض فوجی آپریشنز کے دوران افغان نیشنل آرمی کے کئی اہلکا ر بغاوت کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ شامل ہو جا تے ہیں۔
افغانستان کے امن میں داخلی عوامل کے ساتھ ساتھ خا رجی عوامل کا کردار بھی انتہا ئی اہمیت کا حا مل ہے، کیو نکہ افغا نستان کے پڑو سی اور اس خطے کے دیگر ممالک کی خا رجہ پا لیسیوں کے اثرات براہ راست افغانستان پر بھی پڑتے ہیں۔آج بھی پاکستان، بھارت، ایران ، چین، روس اور وسطی ایشیا ئی ریا ستوں کو ایسے ممالک کے طور پر لیا جا تا ہے کہ جو افغا نستان کے حوالے سے کئی طرح کے معا شی، سیا سی اور ایک حد تک عسکری عزائم بھی رکھتے ہیں۔ افغا نستان کے امن، معیشت، اور اس کی پوری سما جی بنت کواس نوعیت کی بالوا سطہ یا بلا واسطہ مداخلت سے شدید نقصان ہوا ہے۔افغا نستان کے پڑوسی اور خطے کے ممالک اب با ر ہا اپنے اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ اب افغا نستان میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کی جا ئے گی۔اس عزم میں کتنی صداقت ہے اس کا اندازہ تو اب آنے والے عرصے میں ہی ہو گا۔
آج اس خطے کے تمام ممالک کے مقا بلے میں افغانستان میں امن کی جتنی ضرو رت پا کستان کو ہے اتنی اور کسی ملک کو نہیں، کیو نکہ آج پا کستان ہی ایسا ملک ہے کہ جہاں افغا نستان کی داخلی صورت حال براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ خا ص طور 16دسمبر کے سانحہ پشاور کے فوراً بعد جس طرح آرمی چیف راحیل شریف نے ہنگامی بنیا دوں پر دورہ کر کے افغا نستان میں پنا ہ لینے والے ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کے خلاف کا ر روائی کا مطا لبہ کیا اس سے مکمل طور پر واضح ہو گیا کہ پا کستان میں دہشت گردی کے عوامل اندرونی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حد تک خارجی بھی ہیں۔دوسری طرف پاکستان کی جانب سے بھی با رہا اس عزم کا اظہا ر سامنے آ رہا ہے کہ اب افغا نستان میں اپنا اثر بنا نے کے لئے کسی بھی فریق یا نیٹ ورک کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ نومبر میں افغان صدر اشرف غنی پاکستان سے امید کا یہی پیغام لے کر واپس کابل لوٹے تھے۔یقیناًدہشت گردی کے خاتمے کے لئے روزانہ کے اجلاسوں اور درجن بھر کمیٹیوں کو تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ اپنی خا رجہ پالیسی میں چھپے تضادات کو دور کرنا بھی انتہا ئی اہم ہے۔اب افغانستان کا امن پاکستان کے امن اور پاکستان کا امن افغانستان کے امن کی ضمانت بن چکا ہے۔

مزید :

کالم -