شریعت کا نفاذ حضور پاک سے محبت کا تقاضا ہے،حافظ ادریس

شریعت کا نفاذ حضور پاک سے محبت کا تقاضا ہے،حافظ ادریس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور(سٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستا ن حافظ محمد ادریس نے کہا ہے کہ حضور ﷺ سے محبت و عقیدت کا تقاضا ہے کہ ملک میں آپ ؐ کی لائی ہوئی شریعت کا نفاذ کیا جائے ملک و قوم جن سنگین حالات سے دوچار ہیں ان سے نکلنے کا واحدراستہ نظام مصطفیﷺ کا نفاذہے قوم کو اجتماعی توبہ کرکے اللہ سے بغاوت اور نافرمانی کا رویہ چھوڑنا ہوگادشمن کے ایجنٹوں نے ملک کوگھیر رکھا ہے ،ہمیں پہلے اپنی صفوں میں سے اغیار کے آلہ کاروں کو نکالنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خاتمہ اور قیام امن کیلئے حکومتی اے پی سی کو یک زبان اور یکجان ہوکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیناچاہئے اسلام دشمنوں کے سامنے کسی کمزوری کا اظہار نہ کیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیاحافظ محمد ادریس نے کہا کہ اس وقت امت کا سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا فقدان ہے ،اسلامی ممالک کے اکثر حکمران اسلام دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔   ،جو لوگ اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہیں انہیں اپنے عوام اور امت کے اجتماعی مسائل سے کوئی غرض نہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان میںآج تک اقتدار پر مسلط رہنے والے حکمران اللہ کو ناراض کرکے مغرب اور امریکہ کو خوش کرنے میں لگے رہے، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے آج تک ہمیں امن و سکون میسر نہیں آسکا ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے اندر جرأت ہے نہ امانت و دیانت اور نہ ہی ان کے اندریہ صلاحیت ہے کہ وہ مشکلات میں گھرے ہوئے عوام کوجان مال اور عزت کا تحفظ دے سکیں ۔انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنا انتخابی رویہ بھی بدلنا ہوگا ،جب تک کتا کنویں میں ہے پانی پاک نہیں ہوگا۔ جب تک بدیانت اور کرپٹ لوگوں سے نجات حاصل کرکے ہم اللہ سے ڈرنے والے اور عوام کی پریشانی اور مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھنے والے لوگوں کو ایوان اقتدار میں نہیں بٹھائیں گے مسائل کے گرداب سے نہیں نکل سکیں گے ۔ حافظ محمد ادریس نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک و قوم کیلئے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں ،پاکستان سے محبت اور وفاہمارے ایمان کا حصہ ہے ،جماعت اسلامی کے قائدین کو آج بھی بنگلا دیش میں پاکستان سے محبت کے جرم میں پھانسیوں پر لٹکایا جارہا ،انہوں نے کہا کہ پاکستان عالم اسلام کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے مگر یہاں خوف خدا رکھنے والی قیادت کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانا ہوگا۔