کاشتکاروں کی فلاح کیلئے کورم نہ پورا ہونے پر پنجاب اسمبلی کااجلاس ملتوی

کاشتکاروں کی فلاح کیلئے کورم نہ پورا ہونے پر پنجاب اسمبلی کااجلاس ملتوی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر کورم پور ا نہ ہونے کی وجہ سے پیر کی سہ پہر تین بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے پیپلز پارٹی کے رکن سردار شہاب الدین نے کورم کی نشاندہی کردی اس موقع پر سپیکر نے کہا کہ کاشتکاروں کی فلاح کیلئے بحث ہورہی تھی اور ایک کاشتکار رکن نے کورم کی نشاندہی کرکے اچھا نہیں کیا ۔بعدازاں گھنٹیاں بجنے کے باوجود جب کورم پورا نہ ہوا تو سپیکر نے اجلاس پیر کے روز سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا ۔اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں گنے کے کاشتکاروں کے مسائل پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گنے کے نرخ 180روپے فی من مقرر کر رکھے ہیں مگر سندھ حکومت نے اپنے صوبے میں 155روپے فی من نرخ مقرر کیے تھے جس پر شوگر ملز ایسوسی ایشن نے تحفظات کا اظہارکیا تھا اور کہا تھا کہ ایک صوبے سے کم نرخوں پر اور دوسرے صوبے سے زیادہ نرخوں پر گنا کیسے خرید سکتے ہیں جس کے باعث حکومت نے کاشتکاروں اور شوگر ملزایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں تاہم بعد ازاں سندھ حکومت نے گنے کے نرخ 182روپے فی من مقررکردیے اور اب پنجاب کی 46شوگر ملوں میں سے 42شوگرملوں نے کرشنگ شروع کر دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے واضح کررکھا ہے جو مل بھی 180روپے فی من سے کم قیمت پر گنا خریدے گی اس کے مینیجر کو گرفتار کرلیا جائے گا ۔حکومتی رکن عاصم باجوہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بعض شوگر ملز نے 150روپے فی من بھی گنا خرید ا تھا ان کاشتکاروں کو حکومت معاوضہ ادا کرئے ۔انہوں نے کہا کہ کھاد اور بیج کے بھی ریٹ مقرر کیے جائیں جن پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے ۔حکومتی رکن طارق محمود باجوہ نے کہا کہ پاکستان کی 68فیصد آبادی کاشتکار وں پر مشتمل ہے ،پنجاب ملک کے کل زرمبادلہ کا 25فیصد دیتا ہے مگر اس کے باوجود پنجاب کا کسان بے سہارا اور مظلوم ہے ۔گنے پر بحث ابھی جاری تھی کہ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سردار شہاب الدین نے بار بار اٹھ کر بحث میں حصہ لینے کی کوشش کی جس پر سپیکر رانا اقبال نے کہا کہ بار ی آنے پر آپکو بحث میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے گی جس پر سردار شہاب الدین نے کورم کی نشاندہی کردی ۔سپیکر نے اس حوالے سے کہا کہ کاشتکاروں کی فلاح کیلئے بحث ہورہی تھی اور ایک کاشتکار رکن نے کورم کی نشاندہی کرکے اچھا نہیں کیا ۔بعدازاں گھنٹیاں بجنے کے باوجود جب کورم پورا نہ ہوا تو سپیکر نے اجلاس پیر کے روز سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا ۔

مزید :

صفحہ آخر -