ایکس پی سی ایس ،پی ایس ایس افسروں کی شرح ترقی پر سرد جنگ برقرار

ایکس پی سی ایس ،پی ایس ایس افسروں کی شرح ترقی پر سرد جنگ برقرار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(محمد نواز سنگرا)ایکس پی سی ایس اور پی ایس ایس افسروں کی ترقی کی شرح پر سرد جنگ طول پکڑنے لگی۔سپریم کورٹ تک جانے کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو سکا۔پی سی ایس افسروں کا ترقی کیلئے 70اور30کی شرح برقرار رکھنے کیلئے بھرپور کاوشیں جاری جبکہ پی ایس ایس افسروں نے 60اور 40کی شرح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔چیف سیکرٹری پنجاب،پنجاب سروس ٹریبونل،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں لے جایاگیا تھا جو کہ سپریم کورٹ نے واپس پنجاب سروس ٹریبونل میں بھیج دیا ہے۔ ایکس پی ایس ایس سروس کے افسران نے 70اور30کی شرح پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجا ب کو درخواست دی تھی کہ فیلڈ افسران کی ترقی کی شرح 70فیصد اور سول سیکرٹریٹ کے اندر کام کرنے والے افسران کی شرح30فیصد ہے جبکہ آئینی طور پر بھی ہمارا حق 40فیصد بنتا ہے جس کو چیف سیکرٹر ی نے زائد المعیاد ہونے پر رد کر دیا تھا ۔جس کا پی ایس ایس افسران 2013میں پنجاب سروس ٹریبونل میں لے گئے جہاں مسئلہ حل نہ ہوسکا جس کے بعد پی سی ایس افسران معاملے کو سپریم کورٹ میں لے گئے جہاں سپریم کورٹ نے پی سی ایس افسران کے زائد المعیاد کے مؤقف کو خارج کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ آئینی نکات زائد المیا د نہیں ہوتے جس پر سپریم کورٹ نے معاملہ واپس پی ایس ٹی کو بھیجا ہے جس میں سپریم کورٹ کیطرف سے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ پنجاب سروس ٹریبونل ایکس پی سی ایس اور پی ایس ایس افسران کے درمیان شرح کا معاملہ حل کرے اور واضح کیا جائے کہ ایک ہی امتحان پاس کرنے والے جن میں ایک فیلڈ میں کام کرتا ہے اور دوسرا سول سیکرٹریٹ کے اندر دونوں کے درمیان کوٹہ رکھنے کیوجہ کیا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ تمام ترمسئلے کو آئینی اور قانونی لحاظ سے پرکھتے ہوئے پنجاب سروس ٹریبونل نئے سرے سے فیصلہ کرے۔

مزید :

صفحہ آخر -