شرعی عدالتوں کامطالبہ کر کے 18کروڑ عوام کے دلوں کی ترجمانی کی ہے، سراج الحق

شرعی عدالتوں کامطالبہ کر کے 18کروڑ عوام کے دلوں کی ترجمانی کی ہے، سراج الحق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پشاور (آن لائن) امیر جما عت اسلامی سراج الحق نے ملٹری کورٹس کی بجائے شرعی عدالتوں کا مطالبہ کر کے نظریہ پاکستان ، اسلام اور پاکستان کے 18 کروڑ عوام کے دلوں کی ترجمانی کی ہے۔ کیونکہ پاکستان کا وجود ہی لا الٰہ الا للہ کی بنیاد پر ہے۔ اور یہ مطالبہ آئینِ پاکستان کی اصل روح کے مطابق ہے ۔ قصا ص (قا تل کو سزائے موت )کا حکم اللہ تعا لیٰ کاحکم ہے جو پندرہ صدی قبل اللہ تعا لیٰ نے جاری کیا ہے ۔67 گزرنے کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شرعی عدالتوں کی بجائے ملٹری کورٹس بنانا اور اس کے لئے آئین پاکستان میں ترمیم کرنا قراردادِ مقاصد کی نفی اور خلاف شرع و آئین ہے ۔دہشت گردی کا درس دینے مدارس کی فہرست اتحا د المدارس اور وفاق المدارس دینیہ کو دی جائیں اور ان مدارس کی لسٹ اخبارات میں شائع کی جاےءں تاکہ اتحادالمدارس دینیہ ان اداروں کیخلاف کاروائی کر کے اپنی صفوں سے علیحدہ کر سکیں ۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شورٰی کے رکن ، مرکزی خطیب جامعہ مسجد حدیقۃ العلوم پشاور ، اتحاد العلماء صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر اور سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے جامع مسجد حدیقۃ العلوم المرکز الاسلامی پشاورمیں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عجیب منطق ہے کہ ہمارے وزیر داخلہ کہتے ہیں دس فیصد مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں اگر وزیر داخلہ ٹھیک کہتے ہیں توپھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب تک حکومت نے ان مدارس کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا کہیں ایسا تو نہیں کہ سرکاری سرپرستی میں یہ دہشت گردی کے اڈے مدارس کے نام پر چل رہے ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی ،قتل مقاتلے کے تمام کیسزوفاقی شرعی عدالت کو تفویض کئے جائیں تاکہ قران و سنت کے مطابق فیصلے ہو سکیں انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے آئین پاکستان میں مزید ترمیم بھی کی جاسکتی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -